| 90898 | سود اور جوے کے مسائل | جوا اور غرر کے احکام |
سوال
Forsage k bare main aap ka kia kehna hai
فارسیج کے کاروبار کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
فارسیج کی حقیقت اور طریقۂ کار:
فارسیج ایک آن لائن ملٹی لیول مارکیٹنگ اسکیم اور ریفرل بیسڈ نیٹ ورک ہے جو بلاک چین اور اسمارٹ کنٹریکٹ کے نام پر چلائی جاتی ہے۔ اس میں شریک ہونے والا شخص ایک مخصوص رقم عموماً کرپٹو کرنسی کی صورت میں جمع کرتا ہے اور اس کے بعد اسے مزید افراد کو اپنے نیچے شامل کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
اس نظام میں ہر شریک ایک مخصوص مقام حاصل کرتا ہے۔ پھر جب وہ نئے افراد کو اپنے ریفرل لنک کے ذریعے شامل کرتا ہے تو ان کی طرف سے ادا کی جانے والی رقم کا ایک حصہ اوپر موجود اراکین میں تقسیم ہوتا ہے۔ اسی طرح ہرنیا رکن مزید افراد کو شامل کرتا ہے، جس سے ایک درجہ بہ درجہ نیٹ ورک یا ہرم نما ساخت وجود میں آتی ہے۔
فارسیج میں حاصل ہونے والی آمدنی کا بنیادی ذریعہ کسی حقیقی مال یا واقعی خدمت کی خرید و فروخت نہیں ہوتا، بلکہ نئے اراکین کی شمولیت اور ان کی طرف سے ادا کی جانے والی رقوم ہوتی ہیں۔ چنانچہ پہلے شامل ہونے والے افراد بعد میں آنے والے افراد کی ادائیگیوں سے کمیشن ،بونس ،یا انعامی رقوم حاصل کرتے ہیں۔
اس نظام میں شریک افراد اس امید پر سرمایہ لگاتے ہیں کہ ان کے نیچے مزید افراد شامل ہوں گے اور ان کی شمولیت سے انہیں مالی منفعت حاصل ہوگی۔ لیکن اگر مطلوبہ تعداد میں نئے افراد شامل نہ ہوں تو بعد میں آنے والے اراکین عموماً اپنی لگائی ہوئی رقم سے محروم رہ جاتے ہیں، جبکہ فائدہ زیادہ تر ابتدائی اور بالائی سطح کے اراکین کو پہنچتا ہے۔
لہٰذا فارسیج کی حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک نیٹ ورک مارکیٹنگ یا پیرامڈ اسکیم کی طرز کا نظام ہے جس میں آمدنی کا انحصار بنیادی طور پر نئے اراکین کی بھرتی پر ہوتا ہے، نہ کہ کسی حقیقی تجارتی سرگرمی پر.
اس نظام میں درجہ ذیل خرابیا ں پائی جاتی ہے:
1۔ قمار :
اس نظام میں شریک ہونے والا شخص ایک مخصوص رقم ادا کرتا ہے، پھر اس کا نفع اور کمیشن اس بات پر موقوف ہوتا ہے کہ آیا وہ اپنے تحت مزید افراد کو شامل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔ چنانچہ اگر وہ نئے اراکین کو شامل نہ کرسکے تو اس کو کمیشن نہیں ملتا اور تو اس کی ادا کردہ رقم ضائع ہو جا تی ہے، اور اگر وہ مزید اراکین کو شامل کرلے تو ان کی طرف سے ادا کی جانے والی رقوم کے ذریعے اپنی لگائی ہوئی رقم سے زیادہ حاصل کر لیتا ہےجو کہ قمار ہے۔
2۔ اکلِ مال بالباطل:
اس نظام سے حاصل ہونے والی آمدنی کا اصل ذریعہ کسی حقیقی مال یا خدمت کی خرید و فروخت نہیں، بلکہ نئے اراکین کو شامل کرکے ان کی طرف سے ادا کی جانے والی رقوم ہیں جن میں بعد میں آنے والے اراکین عموماً اپنی لگائی ہوئی رقم سے محروم رہ جاتے ہیں، جبکہ فائدہ زیادہ تر ابتدائی اور بالائی سطح کے اراکین کو پہنچتا ہےجو کہ دوسرے کا مال ناحق طریقے سے کھانا ہے «القلة كسبوا مال الأكثرية بدون حق، وهذا أكل المال بالباطل»۔
اس لئے اس کاروبارکا حصہ بننا،دوسرےلوگوں کو ا س میں شمولیت کی دعوت دینا اور اس کا نفع حاصل کرنا حرام اور نا جائز ہے ۔
حوالہ جات
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (6/ 403):
«قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص»
اسداللہ بن قوت خان
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچ
12 /محرم /8144 ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسداللہ بن قوت خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


