| 90732 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | کئی لوگوں کو مشترکہ طور پرکوئی چیز ہبہ کرنے کا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہم تین بھائی اور چار بہنیں ہیں۔ ہماری والدہ حیات ہیں۔ ہمارے والد صاحب اور دو بہنوں کا انتقال ہو چکا ہے۔
والدہ صاحبہ کی ملکیت میں ایک مکان تھا جس میں صرف ہم بھائی (نعمان اور فرمان) اپنے اہل و عیال اور والدہ کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔والدہ صاحبہ کی اجازت اور تمام بہن بھائیوں کی رضامندی سے میں (فرمان) نے اپنی ذاتی رقم سے مکان کی بالائی منزل پر ایک رہائشی پورشن تعمیر کروایا تھا اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ اس میں رہائش اختیار کرلی تھی۔ بعد ازاں خاندانی اختلافات پیدا ہوگئے جس پر والدہ صاحبہ نے فیصلہ فرمایا کہ اگر مکان فروخت کیا گیا تو میرے تعمیر کردہ پورشن کی مالیت مجھے ادا کی جائے گی، کیونکہ وہ میری رقم سے تعمیر ہوا تھا۔ چنانچہ مکان فروخت ہو گیا۔ فروخت کے بعد میرے تعمیر شدہ پورشن کی مالیت مجھے ادا کر دی گئی۔ اس کے بعد والدہ صاحبہ نے اپنی رقم بھی شامل کر کے ایک فلیٹ میرے (فرمان کے) نام خریدا اور اپنی رضامندی، خوشی اور مکمل اختیار کے ساتھ وہ فلیٹ مجھے ہبہ کر دیا۔ فلیٹ ابتدا ہی سے میرے نام پر خریدا گیا اور اس کا قبضہ بھی میرے پاس ہے۔والدہ صاحبہ کی خواہش ہے کہ ان کی زندگی ہی میں تمام معاملات شرعی طور پر واضح ہو جائیں تاکہ آئندہ کسی قسم کا اختلاف یا تنازعہ پیدا نہ ہو۔
اب درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:
سوال نمبر 1: کیا مذکورہ صورت میں والدہ صاحبہ کی طرف سے میرے نام فلیٹ ہبہ کرنا شرعاً درست اور مکمل ہبہ شمار ہو گا؟
سوال نمبر 2: اگر مذکورہ ہبہ شرعاً درست اور مکمل ہو چکا ہے تو کیا مستقبل میں دیگر بہن، بھائی اس فلیٹ میں کسی شرعی حق یا حصے کے دعوے دار ہوں گے یا نہیں؟
سوال نمبر 3: والدہ صاحبہ اگر اپنی زندگی میں اپنی ذاتی جائیداد اور رقم اولاد میں تقسیم کرنا چاہیں تو شرعی اعتبار سے اس کا درست طریقہ کیا ہو گا؟ (الف)کیا زندگی میں تقسیم کرتے وقت تمام اولاد کو برابر دینا ضروری ہے یا شرعی وراثت کے تناسب (بیٹے کو دو حصے، بیٹی کو ایک حصہ) کے مطابق تقسیم کرنا بھی جائز ہے؟ (ب) بعض اہل علم کی رائے یہ ہے کہ اولاد میں تقسیم کرتے وقت انصاف اور برابری کا لحاظ رکھا جائے۔ جبکہ بعض فقہاء بعض صورتوں میں اولاد کے درمیان میراث والے تناسب (2:1) کا جواز بھی بیان کرتے ہیں۔براہ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
(1) مذکورہ فلیٹ چونکہ آپ اوروالدہ دونوں کے پیسوں سے خریداگیاتھا لہذا اس میں آپ دو ہی شریک تھے اورپھرجب والدہ نے اپناحصہ آپ کو ہبہ کیا اورقبضہ میں دیدیا تویہ ہبہ شیوع نہ ہونے کی وجہ سے درست ہوا جیسے کہ فقہاء کرام نے لکھاہےکہ اگردولوگ اپنا قابل تقسیم گھر ایک ہی شخص کو ہبہ کردیں تو ہبہ بالاجماع صحیح ہوجاتاہے شیوع نہ ہونے کی وجہ سے تو یہاں بھی جب والدہ نے اپناحصہ آپ کو ہبہ کیا اورکوئی اوراس فلیٹ میں شریک نہیں تھا تو شیوع نہ ہونےکی وجہ سے یہ ہبہ بھی بغیر تقسیم کے درست ہوگیاہے ۔
(2) چونکہ ہبہ صحیح ہوگیاہے اوروالدہ کاحصہ آپ کی طرف منتقل ہوگیا ہے ،اورقبضہ میں آگیاہے،لہذا والدہ کی وفات کی صورت میں اس میں میراث جاری نہیں ہوگی، اورباقی ورثہ کو دعوے کا کوئی حق حاصل نہیں ہوگا۔میراث صرف اس مال میں جاری ہوتاہے، جو موت کے وقت مرنےوالے کی ملکیت مین ہوتاہےجبکہ یہاں فلیٹ میں ماں کا حصہ آپ کی ملک سے طرف موت سے پہلے ہی منتقل ہوچکاہوگا ۔
(3) آپ کی والدہ صاحبہ اگر اپنی زندگی میں اپنی بقیہ جائیداد یا رقم اولاد میں تقسیم کرنا چاہتی ہیں تو یہ شرعی اصطلاح میں وراثت نہیں بلکہ ہبہ کہلائے گا۔ شریعت کی رو سے اولاد کو عطیہ دیتے وقت برابری کرنا افضل اور مستحب ہے، چنانچہ بیٹوں اور بیٹیوں کو برابر دینا زیادہ مناسب اور باعثِ اتفاق ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اولاد کے درمیان انصاف اور برابری کی ترغیب دی ہے۔
البتہ اگر والدین اپنی زندگی میں اولاد کو شرعی وراثت کے تناسب کے مطابق، یعنی بیٹے کو دو حصے اور بیٹی کو ایک حصہ دے دیں تو بعض فقہاء کرام نے اس کی بھی گنجائش دی ہے، اور ایسا ہبہ بھی نافذ ہو جاتا ہے۔
نیز اگر کسی اولاد کی دینداری، خدمت، معذوری، بیماری یا خصوصی ضرورت کی بنا پر اسے دیگر اولاد کی نسبت زیادہ دے دیا جائے تو یہ بھی جائز ہے، بشرطیکہ مقصد دیگر اولاد کو محروم کرنا یا انہیں نقصان پہنچانا نہ ہو۔
لہٰذاآپ کی والدہ صاحبہ اگر اپنی زندگی میں اپنی جائیداد تقسیم کرنا چاہتی ہیں تو بہتر طریقہ یہ ہے کہ تمام اولاد میں برابری کے ساتھ تقسیم کریں، اور ہبہ کے مکمل ہونے کے لیے ہر شخص کو اس کے حصے کا حقیقی قبضہ اور تصرف بھی دیدیں ۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (4/ 378)
إذا وهب اثنان من رجل دارا فإنه يصح بالإجماع، كذا في المضمرات.
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (2/ 88)
وهب اثنان دارا لواحد صح؛ لأنها سلماها جملة وقد قبضها جملة فلا شيوع
اللباب في شرح الكتاب (2/ 174)
(وإن وهب اثنان من واحد داراً) أو نحوها مما يقسم (جاز) ؛ لأنهما سلماه جملة وهو قبضها جملة؛ فلا شيوع
الفتاویٰ الہندیۃ: (ج:4،ص:374،دارالفكر)
"ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض وأن يكون الموهوب مقسوما إذا كان مما يحتمل القسمة."
الفتاویٰ الہندیۃ: (الباب الثانی فیما یجوز من الھبۃ، 378/4، ط: مکتبة رشیدیة)
"لايثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية".
وفی الہندیۃ:اذا وہب اثنان من رجل دارا فانہ یصح بالاجماع کذا فی المضمرات والمفسد ہو الشیوع المقارن لا الشیوع الطاریٔ۔
وقال العلامۃالحصکفی: وفی الخانیۃ لا بأس بتفضیل بعض الاولاد فی المحبۃ لانہا عمل القلب وکذا فی العطایا ان لم یقصد بہ الاضرار وان قصدہ سوی بینہم یعطی البنت کالابن عند الثانی وعلیہ الفتویٰ ولو وہب فی صحتہ کل المال للولد جاز واثم۔ (الدرالمختار ۴:۵۷۳ کتاب الہبۃ)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
8/1/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


