| 91039 | رضاعت کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
3. بچوں کی حضانت (پرورش اور رکھنے) کا حق شرعاً کس کو حاصل ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت کی رو سے علیحدگی یا شوہر کی عدم موجودگی کی صورت میں بچوں کی پرورش (حضانت) کا پہلا حق ماں کو حاصل ہے۔
- لڑکے کے لیے یہ حق سات (7) سال کی عمر تک، اور لڑکی کے لیے بالغ ہونے تک ماں کے پاس رہتا ہے۔ اس عمر تک باپ (یا سسرال والوں) کے لیے جائز نہیں کہ وہ زبردستی بچے کو ماں سے چھین لیں۔
- چونکہ آپ کا ایک بچہ 6 سال کا ہے، اس لیے شرعاً اسے اپنے پاس رکھنے کا حق آپ (ماں) ہی کو حاصل ہے۔ اسی طرح جو باقی بچے سسرال والوں کے پاس ہیں، اگر ان کی عمریں مذکورہ حد (لڑکا 7 سال، لڑکی بالغ) سے کم ہیں، تو ان کی پرورش کا حق بھی شرعاً آپ کا ہی ہے۔ سسرال والوں کا انہیں اپنے پاس زبردستی رکھنا اور آپ کے حوالے نہ کرنا شرعاً درست نہیں ہے۔
- حقِ پرورش کے خاتمے کی شرائط: ماں کے پاس یہ حق اس وقت تک برقرار رہتا ہے جب تک وہ بچوں کے کسی غیر محرم (اجنبی) شخص سے دوسری شادی نہ کر لے، یا کوئی ایسی مستقل ملازمت اختیار نہ کر لے جس کی وجہ سے بچے کی تربیت میں حرج لازم آتا ہو۔ ان صورتوں میں حقِ پرورش عورتوں ہی میں (ترتیب وار: نانی، پھر دادی، پھر بہن، پھر خالہ، پھر پھوپھی) کی طرف منتقل ہوتا ہے، اور ان سب کی عدم موجودگی میں باپ کو ملتا ہے۔
- نان و نفقہ: یہ بات بھی واضح رہے کہ جب تک بچے شرعی عمر تک ماں کے پاس پرورش پائیں گے، ان کا نان و نفقہ (خرچہ) شرعاً باپ کے ذمے ہی واجب ہوتا ہے ۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين ( (3/ 567) دار الفكر،بيروت
(ولا خيار للولد عندنا مطلقا) ذكرا كان، أو أنثى خلافا للشافعي. قلت: وهذا قبل البلوغ، أما بعده فيخير بين أبويه، وإن أراد الانفراد فله ذلك مؤيد زاده معزيا للمنية۔
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص: 254):
وفي القنية: الام أحق بالولد ولو سيئة السيرة معروفة بالفجور ما لم يعقل ذلك (أو غير مأمونة) ذكره في المجتبى بأن تخرج كل وقت وتترك الولد ضائعا۔
درر الحكام شرح غرر الأحكام (1/ 412) دار إحياء الكتب العربية:
يشترط أيضا أن لا تكون متزوجة بغير محرم للصغير۔
حاشية ابن عابدين (3/ 557) دار الفكر-بيروت:
(قوله: بأن تخرج كل وقت إلخ) المراد كثرة الخروج، لأن المدار على ترك الولد ضائعا والولد في حكم الأمانة عندها، ومضيع الأمانة لا يستأمن، ولا يلزم أن يكون خروجها لمعصية حتى يستغني عنه بما قبله فإنه قد يكون لغيرها؛ كما لو كانت قابلة، أو غاسلة، أو بلانة أو نحو ذلك، ولذا قال في الفتح: إن كانت فاسقة أو تخرج كل وقت إلخ فعطفه على الفاسقة يفيد ما قلنا فافهم۔
الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 283) دار احياء التراث العربي - بيروت:
" وإذا وقعت الفرقة ين الزوجين فالأم أحق بالولد " لما روى أن امرأة قالت يا رسول الله إن ابني هذا كان بطني له وعاء وحجري له حواء وثديي له سقاء وزعم أبوه أنه ينزعه مني فقال عليه الصلاة والسلام: " أنت أحق به مالم تتزوجي " ولأن الأم أشفق وأقدر على الحضانة فكان الدفع إليها أنظر وإليه أشار الصديق رضي الله عنه بقوله ريقها خير له من شهد وعسل عندك يا عمر قاله حين وقعت الفرقة بينه وبين امرأته والصحابة حاضرون متوافرون..... ولا تجبر الأم عليه " لأنها عست تعجز عن الحضانة " فإن لم تكن له أم فأم الأم أولى من أم الأب وإن بعدت " لأن هذه الولاية تستفاد من قبل الأمهات " فإن لم تكن أم الأم فأم الأب أولى من الأخوات " لأنها من الأمهات …… فإن لم تكن له جدة فالأخوات أولى من العمات والخالات ….. وتقدم الأخت لأب وأم " لأنها أشفق " ثم الأخت من الأم ثم الأخت من الأب " لأن الحق لهن من قبل الأم " ثم الخالات أولى من العمات " ترجيحا لقرابة الأم " وينزلن كما نزلنا الأخوات " معناه ترجيح ذات قرابتين ثم قرابة الأم " ثم العمات ينزلن كذلك وكل من تزوجت من هؤلاء يسقط حقها " لما روينا ولأن زوج الأم إذا كان أجنبيا يعطيه نزرا وينظر إليه شزرا۔
محمدسعید خان آفریدی
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
20/محرم الحرام /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد سعید خان آفریدی بن معین خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


