| 91603 | طلاق کے احکام | طلاق سے رجو ع کا بیان |
سوال
سوال نمبر 2: شادی کی پہلی سالگرہ تک تحدید (التفویض المؤقت) اور حنفی قانونِ مجلس: فتاویٰ ہندیہ (العالمگیریہ) اور الہدایہ کا متفقہ قانون ہے کہ جب شوہر تفویضِ طلاق میں وقت یا تاریخ کی حد طے کر دے جیسے شوہر نے رخصتی کی پہلی سالگرہ یعنی 6 فروری 2026ء مقرر کی تھی، تو فوری ”مجلسِ علم“ کی قید ختم ہو جاتی ہے اور وہ مجلسِ اختیار مذکورہ تاریخ تک شرعاً قائم رہتی ہے۔ یعنی مسمات کے پاس صلح، تدبر اور خاندانی کونسلنگ کے لیے رخصتی کی پہلی سالگرہ تک کا پورا وقت محفوظ تھا اور حق ضائع ہونے کا کوئی شرعی خوف نہیں تھا۔ جب مجلسِ تفویض ضائع ہونے کا کوئی شرعی خطرہ ہی نہیں تھا، تو مسمات کا محض 30 گھنٹے میں، سورہ النساء کی آیت 34 (وعظ و فہمائش) اور آیت 35 (خاندانی ثالثی/حَکَم کا تقرر: ”فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا“) کے الٰہی مراحل کو یکسر بائی پاس کر کے طلاق نامہ لکھ دینا، کیا شوہر کی عائد کردہ شرط کی صریح خلاف ورزی اور لڑکی کی ”سوءِ نیت“ (Bad Faith) کا قطعی ثبوت نہیں ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
(2)واضح رہے کہ فقہ حنفی کے مطابق جب تفویضِ طلاق کا اختیار کسی خاص مدت یا تاریخ تک مقید کر دیا جائے، تو وہ اختیار صرف اسی مجلس تک محدود نہیں رہتا بلکہ مقررہ مدت تک باقی رہتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ عورت پر اس مہلت کے آخر تک انتظار کرنا لازم ہے، بلکہ اس دی گئی مدت کے دوران کسی بھی وقت وہ یہ حق استعمال کر سکتی ہے۔
لہٰذا، صورتِ مسئولہ میں اگرچہ عورت (بیوی) نے محض 30 گھنٹے بعد ہی اپنا حق استعمال کر لیا ہے، تب بھی اس کا یہ اقدام شرعاً درست اور نافذ العمل ہے۔ اسے دی گئی مہلت کی خلاف ورزی یا قانونِ تفویض کے منافی قرار دے کر کالعدم (Void) قرار نہیں دیا جا سکتا۔
حوالہ جات
«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (4/ 92):
«أنك بالخيار ثلاثة أيام فقبلت إن ردت الطلاق في الأيام الثلاثة بطل الطلاق، وإن اختارت الطلاق في الأيام الثلاثة وقع»
«المبسوط» للسرخسي (6/ 184):
«(قال): ولو قال لها: أنت طالق ثلاثا إذا أعطيتني ألفا، أو متى أعطيتني ألفا، فهي امرأته على حالها حتى تعطيه ذلك؛ لأنه علق الطلاق بشرط إعطاء المال، فلا يقع بدونه، ومتى أعطته في المجلس، أو بعده، فالطلاق واقع عليها»
«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (4/ 87):
«واشتراط البراءة شرط فاسد فبطل فكان عليها تسليم عينه إن قدرت، وتسليم قيمته إن عجزت أشار إلى أن الخلع لا يبطل بالشروط الفاسدة كالنكاح»
«شرح الزيادات - قاضي خان» (2/ 472):
«لأن هذا تفويض، وتمليك من المرأة، وليس بتوكيل؛ لأن الوكيل من يعمل لغيره، وهي عاملة لنفسها، والتمليك لا يقبل الرجوع»
محمدسعید خان آفریدی
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
12/صفر/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد سعید خان آفریدی بن معین خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


