03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قرآنی آیات کا موبائل سے ڈیلیٹ کرنے کا حکم
91210جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

میرے موبائل کے واٹس ایپ میسیجز میں بہت زیادہ قرآنی آیات کے میسیجز آتے ہیں ، اور یوں موبائل فون کی میموری بھر جاتی ھے ، مزید گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے کچھ قرآنی آیات کے میسیجز ڈیلیٹ کر سکتا ھوں ، اگر بلا وجہ بھی ڈیلیٹ کر دوں ، تو کوئی حرج تو نہیں ، قرآن وسنت کی روشنی میں تحریری طور پر مطلع فرمائیں نہ کہ زبانی میسیج دے کر ،جزاکم اللہ خیرا

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اگر میسج میں قرآنِ  کریم، احادیثِ مبارکہ، اور اسلامی کلمات موصول ہوں تو ان کو پڑھنے کے بعد یا ان سے نصیحت حاصل کرنے کے بعد  اگر ان کومٹانے (ڈیلیٹ) کرنے کی ضرورت درپیش ہو  تو اس کو مٹانے  میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے،  اس لیے کہ فقہاءِ کرام نے  ضرورت کی صورت میں  کاغذ پر سے قرآنی آیات اور احادیث  کو مٹانے کی اجازت دی ہے، لہذا اس طرح کے پیغامات کو ڈیلیٹ کیا جاسکتا  ہے۔

حوالہ جات

«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (5/ 322):

«ولا يجوز لف شيء في كاغد فيه مكتوب من الفقه، وفي الكلام الأولى أن لا يفعل، وفي كتب الطب يجوز، ولو كان فيه اسم الله تعالى أو اسم النبي صلى الله عليه وآله وسلم، ويجوز محوه ليلف فيه شيء، كذا في القنية. ولو محا لوحا كتب فيه القرآن واستعمله في أمر الدنيا يجوز،»

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (6/ 422):

«الكتب التي لا ينتفع بها يمحى عنها اسم الله وملائكته ورسله ويحرق الباقي ولا بأس بأن تلقى في ماء جار كما هي أو تدفن وهو أحسن كما في الأنبياء.»

 محمد عمران 

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

26 /محرم الحرام /8144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد عمران بن عبد المطہر خان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب