| 91119 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
مفتیانِ کرام! درج ذیل معاملے میں قرآن و سنت اور فقہِ اسلامی کی روشنی میں شرعی رہنمائی فرمائیں: تقریباً بیس (20) سال قبل دو بھائی، مولانا امداد اللہ صاحب اور مولانا حماد اللہ صاحب، باہمی اعتماد کے ساتھ مشترکہ مالی معاملات کرتے تھے۔ انہی دنوں مولانا حسین احمد صاحب کے سسرال والوں نے امداد اللہ صاحب سے مولانا حماد اللہ صاحب کے واسطے سے پانچ مرلہ کا ایک پلاٹ خریدا۔ یہ خرید و فروخت زبانی (کلامی) ہوئی، اس کی کوئی تحریری دستاویز یا رجسٹری نہ ہوئی۔ پلاٹ کی قیمت مولانا حماد اللہ صاحب کو ادا کی گئی، اور مولانا حماد اللہ صاحب نے ایک مرتبہ نہیں بلکہ متعدد مواقع پر اس بات کا اقرار کیا کہ پلاٹ کی پوری قیمت وصول ہو چکی ہے۔ اس اقرار پر متعدد گواہ موجود ہیں، جن میں ان کی اولاد، دیگر متعلقہ افراد اور دوسرے اشخاص شامل ہیں۔ اس وقت دونوں بھائیوں کے والد محترم بھی حیات تھے اور انہیں بھی اس معاملے کا علم تھا۔ اس کے بعد مولانا حسین احمد صاحب کے سسرال والوں نے اپنے ذاتی خرچ سے اس پلاٹ پر مکان تعمیر کیا۔ تعمیر کے وقت مولانا امداد اللہ صاحب، مولانا حماد اللہ صاحب اور ان کے والد محترم موجود تھے، مگر کسی نے بھی تعمیر پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ مکان مکمل ہونے کے بعد مولانا حسین احمد صاحب اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ تقریباً سات (7) سال اس مکان میں رہائش پذیر رہے۔ بعد ازاں بھی تقریباً تیرہ (13) سال تک مولانا حماد اللہ صاحب زندہ رہے۔ اس پورے عرصے میں مکان میں مزید تعمیر و توسیع بھی ہوتی رہی، لیکن تقریباً اٹھارہ (18) سے بیس (20) سال تک مولانا امداد اللہ صاحب نے نہ پلاٹ کی ملکیت پر کوئی اعتراض کیا، نہ قبضہ طلب کیا، نہ تعمیر پر اعتراض کیا اور نہ ہی یہ دعویٰ کیا کہ پلاٹ کی قیمت انہیں نہیں ملی۔ البتہ پلاٹ کی سرکاری رجسٹری تمام عرصہ مولانا امداد اللہ صاحب کے نام رہی، کیونکہ اس وقت باقاعدہ انتقال یا رجسٹری نہیں کرائی گئی۔ مندرجہ ذیل امور میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے: مذکورہ صورت میں شرعاً پلاٹ کا مالک کون شمار ہوگا؟ کیا ملکیت مولانا امداد اللہ صاحب کی رہے گی یا خریدار (مولانا حسین احمد صاحب کے سسرال والے) اس کے شرعی مالک قرار پائیں گے؟ اگر بیع زبانی ہوئی ہو، قیمت ادا ہو چکی ہو، قبضہ بھی دے دیا گیا ہو اور اس پر متعدد گواہ بھی موجود ہوں، تو کیا صرف رجسٹری نہ ہونے کی وجہ سے ملکیت پر کوئی اثر پڑتا ہے؟ تقریباً بیس سال تک خاموش رہنے، تعمیر پر اعتراض نہ کرنے اور قبضہ برقرار رہنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا یہ خاموشی قرینہ یا اقرار شمار ہوگی؟ جو مکان خریداروں نے اپنے ذاتی خرچ سے تعمیر کیا، کیا مولانا امداد اللہ صاحب اس تعمیر پر کسی قسم کا حق یا دعویٰ کر سکتے ہیں؟ اگر بالفرض پلاٹ کی ملکیت میں کوئی نزاع مان بھی لیا جائے تو کیا تعمیر شدہ مکان کا مطالبہ یا اس کی ملکیت کا دعویٰ شرعاً درست ہوگا، جبکہ تعمیر مکمل طور پر خریداروں کے خرچ سے ہوئی ہے؟ اگر مولانا حماد اللہ صاحب کا متعدد مرتبہ قیمت وصول ہونے کا اقرار ثابت ہو جائے اور اس پر معتبر گواہ موجود ہوں، تو شرعی اعتبار سے اس اقرار کی کیا حیثیت ہوگی؟ ایسی صورت میں فیصلہ کن شرعی اصول، دلائل اور فقہِ حنفی کی روشنی میں صحیح حکم کیا ہے؟ براہِ کرم قرآن و سنت، فقہِ حنفی اور معتبر فتاویٰ کی روشنی میں مفصل اور مدلل جواب عنایت فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یاد رہے کہ بیع( خرید و فروخت ) کا معاملہ ایجاب و قبول سے تام و مکمل ہو جاتا ہے ۔ اور قبضہ ( تسلیم و تسلم ) سے اپنی انتہاء کو پہنچ جاتا ہے ۔ اسی طرح زمین اور پلاٹ کی خرید و فروخت میں تخلیہ سے ہی شرعاً قبضہ ثابت ہو جاتا ہے ۔
صورتِ مسؤولہ میں جب مولانا حسین احمد کے سسرال والوں نے بواسطہ (وکیل) مولانا حماد اللہ ، مولانا امداللہ سے پلاٹ خریدا اور ان کو قیمت بھی ادا کردی تو یہ خرید و فروخت مکمل ہوئی اور پلاٹ کی ملکیت شرعاً مولانا حسین احمد کے سسرال والوں کی طرف منتقل ہوگئی ۔ اسی طرح جب اس پلاٹ کو مولانا حسین احمد کے سسرال والوں کے حوالے کردیا گیااور انہوں نے اس پر تعمیرات وغیرہ بھی کیں تو شرعاً ان کا قبضہ بھی اس پر ثابت ہوگیا ۔ لہٰذا اس صورت میں شرعاً اس پلاٹ کی مکمل و کامل ملکیت مولانا حسین احمد کے سسرال والوں کی ہوگئی ، سرکاری رجسٹری و انتقال محض ایک انتظامی امر ہے ، اس کا خرید وفروخت کے شرعاً ناقص یا کامل ہونے میں کوئی دخل نہیں ہے ۔ اب اگر ان تمام معاملات کا مولانا امداد اللہ صاحب اقرار کرتے ہیں یا اگر انکار کرتے ہیں اور انکار کے خلاف مولانا حسین احمد کے سسرال والوں کے پاس شرعی گواہ ( دو مرد یا ایک مرد و دو عورتیں ) موجود ہیں، تو محض سرکاری رجسٹری نہ ہونے کی وجہ سے خریدار( مولانا حسین احمد کے سسرال) کی ملکیت پہ کوئی اثر نہیں پڑتا اور نہ ہی مولانا امداد اللہ صاحب پلاٹ یا تعمیرات پر کسی قسم کے دعویٰ کا حق رکھتے ہیں ۔
بالفرض اگر یہ خرید و فروخت شرعی گواہوں سے ثابت نہ بھی ہو، تب بھی حکمِ شرعی کی رو سے اگر کوئی چیز مسلسل 15سال تک کسی شخص کے قبضے اور زیرِ استعمال رہے اور صاحبِ حق اس دوران بلا عذرِ شرعی کے اس پر اپنی ملکیت کا کوئی دعویٰ نہ کرے، تو اس مدت کے بعد یہ دعویٰ قابلِ سماعت نہیں ہوگا۔
اسی طرح، پاکستان میں نافذ الوقت قانون "Limitation Act-1908" کے آرٹیکل 142 کے تحت بھی، 12 سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد ایسا دعویٰ عدالت میں قابلِ سماعت نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
«الهداية في شرح بداية المبتدي» (3/ 23):
«وإذا حصل الإيجاب والقبول لزم البيع ولا خيار لواحد منهما إلا من عيب أو عدم رؤية.»
«البناية شرح الهداية» (8/ 46):
«قال ابن شجاع: وهذا باتفاق أهل العلم، وقال الشافعي رضي الله عنه: القبض في الدراهم والدنانير لهما بالتزاحم، وفي الثياب ونحوها بنقله من مكان إلى مكان إلا الطعام مكايلة فبالمكيل وفي العقار والشجر بالتخلية، وفي " الغاية ": المحكم فيه العرف فقبض العقار بالتخلية»
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (5/ 244):
«(وأما) تفسير التسليم، والقبض فالتسليم، والقبض عندنا هو التخلية، والتخلي وهو أن يخلي البائع بين المبيع وبين المشتري برفع الحائل بينهما على وجه يتمكن المشتري من التصرف فيه فيجعل البائع مسلما للمبيع، والمشتري قابضا له، وكذا تسليم الثمن من المشتري إلى البائع،»
«مختصر القدوري» (ص219):
«ومنها الشهادة ببقية الحدود والقصاص تقبل فيها شهادة رجلين ولا تقبل فيها شهادة النساء وما سوى ذلك من الحقوق تقبل فيها شهادة رجلين أو رجلين وامرأتين سواء كان الحق مالا أو غير مال مثل النكاح والطلاق والوكالة والوصية»
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (3/ 451):
«ومنها الشهادة بغير الحدود والقصاص وما يطلع عليه الرجال وشرط فيها شهادة رجلين، أو رجل وامرأتين سواء كان الحق مالا، أو غير مال كالنكاح والطلاق والعتاق والوكالة والوصاية ونحو ذلك مما ليس بمال كذا في التبيين.»
«مجلة الأحكام العدلية» (ص333):
«المادة (1660) لا تسمع الدعاوى غير العائدة لأصل الوقف أو للعموم كالدين الوديعة والعقار الملك والميراث والمقاطعة في العقارات الموقوفة أو التصرف بالإجارتين والتولية المشروطة والغلة بعد تركها خمس عشرة سنة. »
«مجلة الأحكام العدلية» (ص336):
«المادة (1669) إذا ترك أحد الدعوى بلا عذر على الوجه الآنف ووجد مرور الزمن فكما لا تسمع الدعوى في حياته لا تسمع من ورثته بعد مماته أيضا.»
«الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» (ص473):
«فروع: القضاء مظهر لا مثبت، ويتخصص بزمان ومكان وخصومة، حتى لو أمر السلطان بعد سماع الدعوى بعد خمسة عشر سنة فسمعها لم ينفذ. قلت: فلا تسمع الآن بعدها إلا بأمر إلا في الوقف والارث ووجود عذر شرعي، وبه أفتى المفتي أبو السعود فليحفظ.»
عبدالغفاربن غلام اکبر
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
٢٦/محرم الحرام/١٤٤٨
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالغفار بن غلام اکبر | مفتیان | مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


