| 91487 | خرید و فروخت کے احکام | قرض اور دین سے متعلق مسائل |
سوال
میں بحثیت پاکستانی آئی ایم ایف کا 2لاکھ 50 یا 2 لاکھ70 ہزار کا مقروض ہوں اور ہمارے گھر میں 7 افراد ہیں۔ اس طرح صرف میرے گھر کے سات افراد آئی ایم ایف کے 18 سے 19 لاکھ کے قرضدار ہیں ۔اب پوچھنا یہ ہے کہ، کیا ہم پر قربانی فرض ہے اس طرح پورے ملک کا ہر فرد آئی ایم ایف کا قرضدار ہے کیا ان پر قربانی فرض ہے ؟
نوٹ:- ہم کیسے قرض دار ہوئے کیوں ہوئے قرضہ کس نے لیا کس نے کہاں استعمال کیا ہمیں پتہ بھی نہیں اس دیرینہ مسئلے کا کوئی حل نکال دیں اور ہاں ایک سوال یہ بھی پوچھنا ہے کہ اگر اس قرض کے ساتھ بندہ مرجائے تو اس ان دیکھے قرض کی مجھ سے پوچھ گچھ تو نہیں ہوگی؟ کیونکہ حکم ہے کہ مرنے سے پہلے اپنے قرض اتار دو اگر ہو سکے تو۔ اور ساتھ میں یہ بھی کہ ہم اس وقت غلام رعایا ہیں کیا غلاموں پر بھی قربانی فرض ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
قومی قرضے افراد کے ذمے نہیں ہوتے، بلکہ ریاست کے ذمے ہوتے ہیں۔ وجوبِ قربانی سے مانع وہ قرض ہے جو انسان نے خود لیا ہو۔ ایسا قرض جو اس نے خود نہ لیا ہو بلکہ حکومت یا کسی اور نے لیا ہو وہ وجوبِ قربانی میں مانع نہیں بنتا۔ لہٰذا ہمارے ملک میں جو بھی شخص ذاتی طور پر صاحبِ نصاب ہے اس پر قربانی واجب ہے۔
حوالہ جات
سنن الترمذي ت شاكر (3/ 381):
عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: نفس المؤمن معلقة بدينه حتى يقضى عنه.
آپ کے مسائل اور ان کا حل : ۶/۱۳۶
فتاوی بینات: ۳/۱۲۱-۱۲۶
محمد ابرار الحق
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
03/صفر/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابرار الحق بن برھان الدین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


