03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسجد کے فلٹر کا پانی بیچنے کا حکم
91325وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

مسجد میں کسی مخیر شخص نے واٹر فلٹر کا پلانٹ لگوا کر دیا ہے۔ ہمارے علاقے میں فلٹر کا پانی 40 روپے فی کولر بکتا ہے، لیکن مسجد کے فلٹر پلانٹ سے پانی بھرنے کا ریٹ 10 روپے فی کولر رکھا گیا ہے۔ کیا یہ پیسہ لینا اسلامی طور پر جائز ہے؟

تنقیح: سائل نے بتایا کہ یہ فلٹر پلانٹ لگاتے وقت مخیر حضرات کی نیت یہ تھی کہ اس سے مسجد کی بجلی اور دیگر اخراجات پورے کیے جائیں گے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ بالا صورت میں، چونکہ واقف (وقف کرنے والے) کی نیت اس فلٹر پلانٹ سے آمدنی کا حصول تھی، لہٰذا اس صورت میں مسجد کے فلٹر کا پانی رعایتی نرخوں پر فروخت کرنا جائز ہے، تاکہ اس کی آمدنی سے مسجد اور فلٹر پلانٹ کی بجلی کے بل، نیز مسجد کی دیگر ضروریات اور اخراجات پورے کیے جا سکیں۔

حوالہ جات

فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي (6/ 200):

فإن شرائط الواقف معتبرة إذا لم تخالف الشرع، والواقف مالك له أن يجعل ماله حيث شاء ما لم يكن معصية، وله أن يخص صنفا من الفقراء دون صنف، وإن كان الوضع في كلهم قربة.

الفتاوى العالمكيرية ،الفتاوى الهندية (2/ 462):

القيم إذا اشترى من غلة المسجد حانوتا أو دارا وأراد أن يستغل ويباع عند الحاجة جاز إن كان له ولاية الشراء وإذا جاز أن يبيعه، كذا في السراجية.

محمد ابراہیم قریشی بن عبدالرزاق

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

5/صفرالمصفر /1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابرہیم قریشی بن عبد الرزاق

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب