03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حصص (Shares) پر زکوۃ کا حکم
91625خرید و فروخت کے احکامشئیرزاور اسٹاک ایکسچینج کے مسائل

سوال

اسٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کے حوالے سے درج ذیل معاملات میں رہنمائی درکار ہے : 

اگر شیئرز خریدتے وقت یہ نیت ہو کہ ان شیئرز کو فروخت نہیں کرنا بلکہ انکا نفع (dividend) حاصل کرنا ہے ، تو کیا ان شیئرز کی مالیت پر زکوٰۃ لازم آئے گی ؟

اور اگر خریدتے وقت نیت فروخت کرنے کی نہیں تھی اور بعد میں نیت فروخت کرنے کی بن گئی ، تو کیا یہ شیئرز مال تجارت میں شامل ہو جائیں گے اور ان پر زکوٰۃ لازم آئے گی ؟ والسلام

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

     کسی کمپنی کے حصص اس کمپنی کے فیصدی حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ مثلاً کمپنی کےکچھ اثاثے نقد،کچھ خام مال، کچھ تیار پڑوڈکٹ، کچھ  قابل وصول ادھار وغیرہ قابل زکوۃ اموال ہیں جبکہ فکسڈاثاثے  مثلاً  بلڈنگ، آلات ، مشینری وغیرہ بالعموم قابل زکوۃ نہیں ہوتے۔

    لہٰذا اگر حصص خریدتے وقت ان حصص کو فروخت کرنا مقصود نہ ہو، بلکہ  انکا نفع (dividend) حاصل کرنا مقصود ہو، تو ایسی صورت میں زکوٰۃ ان حصص کی مارکیٹ قیمت کے اس حصے پر واجب ہوگی جو قابلِ زکوٰۃ اثاثوں کے مقابل میں ہوگا۔

     اس کو ایک مثال کے ذریعے سمجھ لیجیے:  فرض کریں حصص  کی مارکیٹ ویلیو 100 روپے ہے، جس میں سے 60 روپے بلڈنگ اور مشینری وغیرہ کے مقابل میں ہیں اور 40 روپے خام مال، تیار مال اور نقد رقم کے مقابل میں ہیں، تو اس صورت میں چونکہ ان حصص کے 40 روپے قابلِ زکوٰۃ حصوں کے مقابل میں ہیں، اس لیے 40 روپے کی زکوٰۃ ڈھائی فیصد کے حساب سے واجب ہوگی، جبکہ 60 روپے کی زکوٰۃ واجب نہ ہوگی۔

    اور اگر حصص فروخت کرنے کی نیت سے خریدے جائیں، تو وہ حصص مکمل طور پر مالِ تجارت شمار ہوں گے، اور ان کی بازاری  قیمت کے حساب سے ان پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔

لیکن اگر حصص خریدتے وقت فروخت کرنے کی نیت نہ ہو، پھر بعد میں فروخت کرنے کی نیت بن جائے، تو وہ حصص  مالِ تجارت میں شمار نہیں ہوں گے، البتہ ان حصص کو فروخت کرنے کے بعد حاصل ہونے والی مالیت اگر زکوۃ کے حساب کے دن تک خرچ نہ ہوئی تو اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔

حوالہ جات

    الفتاوی الھندیۃ: (1/179)

الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنةً ما كانت إذا بلغت قيمتها نصاباً من الورق والذهب، كذا في الهداية. ويقوم بالمضروبة، كذا في التبيين۔ وتعتبر القيمة عند حولان الحول بعد أن تكون قيمتها في ابتداء الحول مائتي درهم من الدراهم الغالب عليها الفضة، كذا في المضمرات.

کذا فی "فقہی مقالات "للشیخ المفتی تقی العثمانی،حفظہ اللہ تعالی :(1/155)   

فتح القدير للكمال ابن الهمام (2/ 218):

(قوله وتشترط نية التجارة) لأنه لما لم تكن للتجارة خلقة فلا يصير لها إلا بقصدها فيه، وذلك هو نية التجارة.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 262):

وليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة؛ لأنها مشغولة بحاجته الأصلية وليست بنامية.

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (2/ 247):

ثم نية التجارة لا عمل (لها) ما لم ينضمَّ إليها الفعل بالبيع والشراء أو السوم فيما يسام، حتى إن من كان له عبد للخدمة أو ثياب للبذلة نوى فيهما التجارة لم تكن للتجارة حتى يبيعها، فيكون في الثمن الزكاة مع ماله، وهذا بخلاف ما لو كان له عبد للتجارة، فنوى أن يكون للخدمة، بطل عنه الزكاة بمجرد النية؛ لأن في الفصل الأول الحاجة إلى فعل التجارة.

محمد ابرار الحق

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

08/صفر/1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابرار الحق بن برھان الدین

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب