03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
آیت الکرسی پڑھنےکی منت ماننےکاحکم
91424قسم منت اور نذر کے احکاممتفرّق مسائل

سوال

میری بہن کے ہاں جب بھی اولاد ہوتی تھی تو پیدائش کے چند دن بعد ہی انتقال ہو جاتا تھا۔ اس پر میری بہن نے منت مانی کہ اگر اس مرتبہ اللہ تعالیٰ اولاد کو زندہ رکھ دے تو وہ ایک لاکھ مرتبہ آیت الکرسی کا ختم کریں گی۔ الحمدللہ، اس مرتبہ اللہ تعالیٰ نے ان کی اولاد کو سلامت رکھا اور منت پوری ہو گئی۔ اب وہ اپنی منت کے مطابق ایک لاکھ آیت الکرسی کا ختم کرنا چاہتی ہیں۔ منت مانتے وقت انہوں نے یہ شرط نہیں رکھی تھی کہ وہ خود اکیلے ہی ختم کریں گی، بلکہ اب وہ چاہتی ہیں کہ دوسرے لوگوں کو شامل کر کے یہ ختم مکمل کر لیں۔ اب کچھ لوگوں نے انہیں کہا ہے کہ آیت الکرسی کا ورد جلالی ہوتا ہے اور اس طرح کثرت سے پڑھنے سے جنات وغیرہ کی حاضری ہو سکتی ہے، اس لیے یہ ختم نہیں کرنا چاہیے۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں:

 ۱) کیا اس طرح کی منت ماننا درست تھا؟

 ۲) کیا اب اس منت کو پورا کرنا لازم ہے؟

 ۳) کیا ایک لاکھ آیت الکرسی کا ختم خود کرنے کے بجائے کئی افراد مل کر کر سکتے ہیں؟

 ۴) کیا آیت الکرسی کو کثرت سے پڑھنے کے متعلق جو جنات والی باتیں کہی جا رہی ہیں، ان کی کوئی حقیقت ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کی بہن کے آیۃ الکرسی پڑھنے کی منت ماننے سے یہ منت لازم نہیں ہوئی، کیونکہ منت لازم ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ جس عمل کی منت مانی جائے، وہ عبادتِ مقصودہ ہو جبکہ فقہاءکرام کےنزدیک تلاوت عبادتِ مقصودہ نہیں ہے، لہذا اس منت کا پورا کرنا ان پر ضروری نہیں۔البتہ آیت الکرسی کا پڑھنا باعث ثواب اور فضیلت کا کام ہے، لہٰذا جب ارادہ کرلیاتوبغیر لازم سمجھے اس کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کرنامناسب ہے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (5/ 82)

(ومنها) أن يكون قربة مقصودة، ويصح النذر بالصلاة والصوم والحج والعمرة والإحرام بهما والعتق والبدنة والهدي والاعتكاف ونحو ذلك؛ لأنها قرب مقصودة۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) :(3/ 426)

ولا يصح النذر بقراءة القرآن وصلاة الجنازة وتكفين الموتى كما في أيمان القهستاني۔

فتاوى قاضيخان :(2/ 8)

علي الطواف بالبيت والسعي بين الصفا والمروة أو علي أن أقرأ القرآن إن فعلت كذا لا يلزمه شيء

تقریرات الرافعي على رد المحتار:(372/2)

 قوله : (أو علي أن أقرأ القرآن إن فعلت كذا لا يلزمه شيء) لعل وجهه أن هذه الأشياء وإن كانت عبادة إلا أنها ليست مقصودة، فإن القصد بالطواف تعظيم الكعبة، وبالقراءة التدبر في معانيها لا مجرد إجراء الحروف على اللسان. وعلل في شرح الأشباه لعدم صحة نذر التسبيحات، وقراءة القرآن بأنها ليست بقربة مقصودة۔

المستدرك على الصحيحين للحاكم (3/ 344)

عن أبي بن كعب، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أبا المنذر، أي آية في كتاب الله أعظم معك؟» قال: قلت: {الله لا إله إلا هو الحي القيوم} [البقرة: 255] قال: فضرب صدري وقال: «ليهنك العلم أبا المنذر» هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه

فیصل حیات بن خان بہادر

دارلافتاء جامعۃ الرشید کراچی

10/صفرالمظفر /8144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

فیصل حیات بن خان بہادر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب