| 91587 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
مفتی صاحب! یونیورسٹی میں سمسٹر کے آخر میں انتظامیہ کی طرف سے پکنک کا پروگرام رکھا جاتا ہے، جس میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شریک ہوتے ہیں اور بعض اوقات اس کے لئے کئی دن کا سفر کرنا پڑتا ہے ۔ یونیورسٹی کی طرف سے اس میں شرکت پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں شریعت کی رہنمائی کیا ہے؟ کیا اس میں شرکت کرنا جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یونیورسٹی یا کسی بھی تعلیمی ادارے کی طرف سے منعقد کی جانے والی ایسی پکنک، تفریحی پروگرام یا نائٹ فنکشن جس میں لڑکے اور لڑکیوں کا آزادانہ اختلاط، بے پردگی، موسیقی، رقص يا دیگر غیر شرعی امور پائے جاتےہوں، اس میں شرکت کرنا شرعاً ناجائز ہے۔ شریعت مطہرہ کا مسلمہ اصول اور طے شدہ قاعدہ ہے: "لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق" (یعنی خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت کرنا جائز نہیں)۔ اگرچہ یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے اس میں شرکت پر کتنا ہی زور دیا جائے، نمبر کاٹنے کا اندیشہ ہو یا کوئی بھی انتظامی دباؤ ڈالا جائے، تب بھی کسی غیر شرعی امور پر مشتمل پروگرام کا حصہ بننے کی شریعت میں ہرگز گنجائش نہیں ۔لہذا سائلہ پر لازم ہے کہ وہ حکمت، دانا ئی اور شائستگی کے ساتھ اس میں شرکت کرنے سے معذرت کر لیں۔
مزید برآں، اگر یہ پکنک اپنے شہر یا آبادی سے باہر ہو اور اس کا سفر شرعی مسافت (تقریباً 48 میل یعنی 77 کلومیٹر یا اس سے زائد) پر مشتمل ہو، تو خواتین کے لیے شوہر یا کسی محرم کے بغیر جانا مستقل طور پر ممنوع اور گناہ کبیرہ ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺنے فرمایا : اللہ تعالی اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ تین راتوں کی مسافت کے بقدر سفر کرے ، مگر یہ کہ اس کے ساتھ اس کا محرم ہو۔
اسی طرح بخاری شریف کی ایک روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے آپ ﷺسے سنا کہ آپ ﷺفرمارہے تھے : کوئی عورت کسی مرد سے تنہائی میں نہ ملے اور نہ کوئی عورت بغیر محرم کے سفر کرے، تو حاضرین میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا : اے اللہ کے رسول! میں نے فلاں جہاد کے سفر میں جانے کے لیے اپنا نام لکھوایا ہے ، جب کہ میری بیوی حج کرنے جا رہی ہے ، تو آپ ﷺ نے فرمایا : جاؤ اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو ۔
پس جب عبادت کے سفر کے لیے بھی محرم کا ہونا ضروری ہے، تو ایسی مخلوط اور تفریحی پکنک پوائنٹ پر جانابغیر محرم کے کیسے جائز ہوسکتا ہے ۔ حاصل یہ ہے کہ مذکورہ پکنک میں شرکت شرعاً حرام ہے اور اس سے اجتناب کرنا واجب ہے۔
حوالہ جات
(7) أَيْ: كُلَّ مَنْ تَوَلَّى أَمْرًا مِنْ أُمُورِكُمْ , سَوَاءٌ كَانَ السُّلْطَانَ - وَلَوْ جَائِرًا وَمُتَغَلِّبًا - وَغَيْرَهُ , مِنْ أُمَرَائِهِ وَسَائِرِ نُوَّابِهِ، إلَّا أَنَّهُ لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ، وَلَمْ يَقُلْ: " أَمِيرَكُمْ " , إِذْ هُوَ خَاصٌّ عُرْفًا بِبَعْضِ مَنْ ذُكِرَ وَلِأَنَّهُ أَوْفَقُ لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَأَطِيعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ}.تحفة الأحوذي .
(الجامع الصحيح للسنن والمسانيد ،4/270)
"عن عبد الله بن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر،
تسافر مسيرة ثلاث ليال، إلا ومعها ذو محرم»".
(الصحيح المسلم، 1/433)
" عن ابن عباس رضي الله عنهما أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: «لا يخلون رجل بامرأة، ولا تسافرنّ امرأة إلا ومعها محرم»، فقام رجل فقال: يا رسول الله، اكتتبت في غزوة كذا وكذا، وخرجت امرأتي حاجة، قال: اذهب فج مع امرأتك».
(صحيح البخاري،4/59)
عبدالرحیم بن سِد جنان
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
11/صفرا لمظفر /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبد الرحیم بن سید جنان | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


