| 91621 | طلاق کے احکام | صریح طلاق کابیان |
سوال
عرض ہے کہ میری( محمد طارق) کی شادی ۲۰۱۰ء میں مہویش سے ہوئی، جس سے ہمارے ۳ بچے ہیں: دو بیٹے اور ایک بیٹی۔
شادی کے دس سال بعد ہمارے درمیان خلع کا معاملہ ہوا، جس میں ہم دونوں کی رضامندی نہیں تھی، بلکہ یہ کسی بیرونی دباؤ میں ہوا، جس کی وجہ سے فیملی کورٹ نے خلع گرانٹ کر دیا۔ حالاں کہ میں اپنی بیوی کے تمام اخراجات پورے کر رہا تھا اور نان و نفقہ بھی ادا کر رہا تھا۔ اس معاملے میں نہ میری رضامندی تھی اور نہ ہی میری بیوی کی۔ میں اسے اپنے نکاح میں رکھنا چاہتا تھا، لیکن فیملی کورٹ نے مکمل بات سنے بغیر ہمارے درمیان خلع کر دیا، جس پر میں نے کہیں بھی دستخط نہیں کیے۔
اس کے بعد ہمارا کمپرومائز بھی ہوگیا، جو کسی کورٹ میں ہوا، اور میری بیوی دوبارہ گھر آگئی، اور ہم ساتھ زندگی گزارنے لگے۔
اس کے بعد ۲۰۲۵ء میں کسی جھگڑے کے دوران، میں نے غصے میں آکر اپنی بیوی کو میسج پر ایک طلاق دے دی۔ اس کے بعد ایک ہفتہ پہلے پھر کسی جھگڑے میں ایک اور طلاق زبان سے ادا ہوگئی۔
عرض یہ ہے کہ میں اپنے بچوں اور بیوی کو نہیں چھوڑنا چاہتا، نہ ہی وہ مجھے چھوڑنا چاہتی ہے۔ اب اس صورتِ حال میں میری رہنمائی فرما دیں۔ ہم ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ ہماری پندرہ سالہ ازدواجی زندگی ہے، جسے ہم آئندہ بھی ساتھ گزارنا چاہتے ہیں۔
جزاکم اللہ خیراً
تنقیح: سائل کے مطابق، سوال کے آغاز میں خلع کے معاملے سے عدالتی خلع ہی مراد ہے، اور میسیج پر طلاق کے بعد عدت کے اندر رجوع کیا گیا تھا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ خلع ایک مالی معاملہ ہے، جس کے لیے زوجین کی رضامندی ضروری ہوتی ہے۔ ان میں سے کسی ایک کی رضامندی کے بغیر عدالت کا جاری کردہ یک طرفہ خلع شرعاً نافذ نہیں ہوگا۔ اس لیے مذکورہ صورت میں خلع کا اعتبار نہیں ہے۔
اس کے بعد آپ نے میسج کے ذریعے جو طلاق دی ہے، اس سے ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی ہے۔ لیکن چونکہ آپ نے عدت کے اندر رجوع کر لیا تھا، اس لیے نکاح بحال ہوگیا۔ اب جب دوبارہ ایک طلاق دے دی، تو اس سے دوسری طلاقِ رجعی واقع ہوگئی ہے، لیکن اس کے بعد بھی آپ کو عدت کے اندر رجوع کا حق حاصل ہے۔
البتہ اس کے بعد آپ کو صرف ایک طلاق کا حق ہوگا۔ اگر ایک اور طلاق دی، تو سابقہ دو طلاقوں کے ساتھ مل کر یہ تین طلاقیں ہوجائیں گی، اور آپ کی بیوی مغلظہ ہوجائے گی۔ پھر رجوع یا نئے نکاح کا امکان ختم ہو جائے گا ۔
حوالہ جات
«المبسوط» للسرخسي (6/ 173):
«قال): والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد.»
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (3/ 109):
«وإن كتب كتابة مرسومة على طريق الخطاب والرسالة مثل: أن يكتب أما بعد يا فلانة فأنت طالق أو إذا وصل كتابي إليك فأنت طالق يقع به الطلاق، ولو قال: ما أردت به الطلاق أصلا لا يصدق إلا أن يقول: نويت طلاقا من وثاق فيصدق فيما بينه وبين الله عز وجل؛ لأن الكتابة المرسومة جارية مجرى الخطاب»
اسداللہ بن قوت خا
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
8/صفر /8144 ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسداللہ بن قوت خان | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


