03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین نوٹ دینے سے طلاق کا حکم
91423طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

میرے سسر اپنے بیٹوں کو لے کر ہمارے گھر آئے اور انہوں نے پہلے اطلاع دی تھی کہ ہم  آپ کےگھر آ رہے ہیں۔ جب وہ ہمارے گھر آئے تو میرے بھائی اور میری والدہ اس مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ میرے سسر نے بات شروع کی کہ ‘’میں نے اپنی بیٹی کو سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ وہ اپنا گھر بسائے، مگر وہ اس بات پر رضامند نہیں ہے، لہذا ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں خلع دے دیں تاکہ آگے چل کر ہم سب کو کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔’’اس موقع پر میرے بڑے بھائی نے مجھے کہا کہ ‘’آپ کیا کہتے ہو؟’’ میں نے کہا کہ’’جب وہ میرے ساتھ رہنے کے لیے تیار نہیں ہے تو میں اسے چھوڑنے کے لیے تیار ہوں۔’’ اس موقع پر 12 سے 15 لوگ اس مجلس میں  شریک تھے، مجھے یہ کہا گیا کہ ‘’تین چیزیں لے لو’’  جس سے مراد یہ تھی کہ تین طلاقیں دے دو، لیکن میرے بڑے بھائی نے میرے سسر سے کہا کہ ‘’یہ اس شرط پر طلاق دینے کے لیے تیار ہے کہ اس پر جو مہر ہے جو اس نے اب تک نہیں دیا ہے، وہ خلع کی مد میں چھوڑ دو۔’’ میرے سسر نے کہا کہ ‘’ٹھیک ہے’’ تو میں نے 250 روپے ، یعنی سو سو کے دو نوٹ اور ایک 50 کا نوٹ  اپنے سسر کے ہاتھ میں دیے۔ ان سے مطلب یہ تھا کہ آپ کی بیٹی کو تین طلاقیں ہیں، لیکن اس وقت میں نے زبان سے کچھ نہیں کہا اور نہ کچھ لکھا۔ اب سوال یہ ہے کہ میں نے جو تین نوٹ دیے ہیں  ، جبکہ میں نے زبان سے کچھ نہیں کہا ہے، تو اس سے طلاق واقع ہوگئی ہے یا نہیں؟

وضاحت:سائل کی طرف سے  معلوم ہوا کہ نہ زبان سے طلاق کا لفظ  کہاہے اور نہ تحریری طور پر  طلاق لکھاہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

طلاق واقع ہونے کیلئے ضروری ہے کہ طلاق یااس کے ہم معنی الفاظ استعمال کیے جائیں،طلاق اوراس کے ہم معنی لفظ استعمال کیے  بغیرطلاق واقع نہیں ہوتی،صورت مسؤلہ میں اگرواقعی  شوہرنے تین نوٹ دیتے وقت طلاق کے الفاظ نہیں بولے اورنہ ہی تحریرکرکے دئیے توطلاق واقع نہیں ہوئی،عورت بدستورمردکے نکاح میں ہے۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (1/ 357)

ولو قالت لزوجها: طلقني ،فأشار بثلاث أصابع وأراد بذلك ثلاث تطليقات لا يقع ما لم يقل بلسانه هكذا كذا في الظهيرية

ردالمحتار علی الدرالمختار((230/3

  ( قولهو ركنه لفظ مخصوص) هوما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة  المستبينةوإشارة الأخرس والإشارة إلى

العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي.

وبه ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق ولم يذكر لفظا لا صريحا ولا كناية لا يقع عليه كما أفتى به الخير الرملي وغيره.

الدرالمختار مع ردالمحتار:(3/226)

وشرعا (رفع قيد النكاح  في الحال) بالبائن (أو المآل) بالرجعي (بلفظ مخصوص) هو ما اشتمل على الطلاق.

فتح القدیر:(3/463)

وفي الشرع رفع قيد النكاح بلفظ مخصوص وهو ما اشتمل على مادة الطلاق صريحا كأنت طالق أو كناية كمطلقة بالتخفيف وهجاء طالق بلا تركيب كأنت طالق على ما سيأتي وغيرهما كقول القاضي فرقت بينهما عند إباء الزوج الإسلام والعنة واللعان وسائر الكنايات المفيدة للرجعة والبينونة ولفظ الخلع.

 احسان اللہ گل محمد

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

 10/2/8144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

احسان ولد گل محمد

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب