03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قبضہ دیے بغیر ہبہ کیے گئے مکان کا شرعی حکم
91512ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

السلام علیکم مفتی صاحب! گزارش ہے کہ میرا نام محمد یوسف ہے اور میرے والد صاحب کا نام عبدالقدیر تھا ، ان کا ایک مکان تھا۔ اور ہم دس بہن بھائی ہیں، جن میں چار بہنیں اور چھ بھائی ہیں۔ہمارے والد صاحب نے اپنے پورےہوش و حواس میں وہ مکان  چار بھائیوں کے نام کر دیا تھا ، اور چاروں بھائیوں سے کہا تھا کہ ہر ایک بھائی ایک ایک بہن کو حصہ دے دینا۔ البتہ ہم دو بھائیوں کا نام مکان میں نہیں لکھوایا گیا۔ جبکہ  بھائی مکان فروخت کر رہے ہیں،اب جن دو بھائیوں کا نام نہیں ہےان کا حصہ ہے یا نہیں؟ والد صاحب کے انتقال کو گیارہ سال ہو چکے ہیں، چار بھائیوں میں سے دو بھائی قبضہ کرکے بیٹھےہوئے ہیں اور دو بھائیوں نے اپنا مکان خرید لیا ہے۔قرآن و حدیث کی روشنی میں اس مسئلے کا شرعی جواب مرحمت فرمائیں۔

نوٹ:سائل سے تنقیح کرنے پر معلوم ہوا،کہ والد صاحب اپنی پوری زندگی اسی مکان میں رہے ،حتی کہ اسی میں  ان   کا انتقال ہوا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ والد کا اپنی زندگی میں جائیداد وغیرہ  بیٹوں کے نام کر دیناشرعا ہبہ ہے، اور ہبہ کے شرعاً نافذ ہونے کے لیے محض کاغذات میں نام لکھوا دینا کافی نہیں، بلکہ زندگی ہی میں اس کا مکمل مالکانہ قبضہ موہوب لہ (جسے جائیداد دی جائے) کو دینا لازمی  ہے۔

لہٰذا صورت مسئولہ میں چونکہ آپ کے والد محترم نے مذکورہ مکان اگرچہ چار بھائیوں کے نام کر دیا تھا، لیکن انہیں مکمل قبضہ نہیں دیا  اور تاحیات خود ہی اس پر قابض و متصرف رہے، اس لیے یہ ہبہ شرعاً معتبر نہیں ۔ لہٰذا والد صاحب کے انتقال کے بعد مذکورہ مکان ان کا ترکہ (میراث) شمار ہوگا، جس میں محروم کیے گئے دو بھائیوں سمیت تمام دس بہن بھائی اپنے اپنے شرعی حصوں کے مطابق حقدار ہوں گے۔

حوالہ جات

(قوله: والميم إلخ) لينظر ما لو حكم بلحاقه مرتدا أما إذا مات الموهوب له فلأن الملك قد انتقل إلى الورثة. وأما إذا مات الواهب، فلأن النص لم يوجب حق الرجوع إلا للواهب، والوارث ليس بواهب درر۔۔۔۔(قوله بطل) يعني عقد الهبة، والأولى بطلت أي لانتقال الملك للوارث قبل تمام الهبة.

(الدر المختار وحاشية ابن عابدين ،5/ 701)

قال: فإن مات أحدهما إما الواهب أو الموهوب له قبل التسليم: بطلت الهبة؛ لأن تمام الهبة بالقبض، وكان القبض في الهبة كالقبول في البيع من حيث إن الملك يثبت به، فكما أن موت أحدهما بعد الإيجاب قبل القبول يبطل البيع فكذلك الهبة.

( المبسوط للسرخسي، 12/ 56)

ولنا قوله - عليه الصلاة والسلام - «لا تجوز الهبة إلا مقبوضة» والمراد نفي الملك؛لأن الجواز بدونه ثابت، ولأنه عقد تبرع، وفي إثبات الملك قبل القبض إلزام المتبرع شيئا لم يتبرع به، وهو التسليم فلا يصح، بخلاف الوصية؛ لأن أوان ثبوت الملك فيها بعد الموت ولا إلزام على المتبرع؛ لعدم أهلية اللزوم، وحق الوارث متأخر عن الوصية فلم يملكها.

(العناية شرح الهداية، 9/ 20)

(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والاصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلا لا، فلو وهب جرابا فيه طعام الواهب أو دارا فيها متاعه أو دابة عليها سرجه وسلمها كذلك لا تصح، وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والشرج فقط، لان كلا منها شغل الملك لواهب لا مشغول به،لان شغله بغير ملك واهبه لا يمنع، وتمامها كرهن وصدقة، لان القبض شرط تمامها.

(الدر المختار شرح تنوير الأبصار ،ص: 561)

عبدالرحیم بن سید جنان

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی 

  15/صفرا لمظفر /1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبد الرحیم بن سید جنان

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب