| 91559 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
شوہر کا بیان یہ ہے،جب میں نے کہنا شروع کیا:کہ اگر تم گھر سے نکلو گی ،تو تمہیں طلاق ہو جائے گی، تو میری بیوی میرے سامنے کھڑی تھی۔ مجھے یقین ہے کہ میری بیوی جملے کے دوران گھر سے نکل گئی تھی۔ البتہ مجھے یہ یقین نہیں کہ وہ جملہ مکمل ہونے سے پہلے نکلی تھی، یا عین جملہ مکمل ہوتے ہی نکلی تھی۔ اتنا مجھے یقین ہے کہ وہ میرے جملے کے دوران ہی باہر نکل گئی تھی۔ میری نیت طلاق دینے کی نہیں تھی۔
بیوی کا کہنا ہے،جب میرے شوہر نے یہ جملہ کہا کہ: "اگر تم گھر سے نکلو گی تو تمہیں طلاق ہو جائے گی، تو میں نے یہ الفاظ نہیں سنے تھے، نہ ہی مجھے اس بات کا علم تھا ،کہ وہ طلاق کی شرط لگا رہے ہیں۔دروازہ میرے بہت قریب تھا اور جب میں گھر سے باہر نکلی، تو مجھے صرف اتنا یقین ہے کہ میرے شوہر اس وقت کچھ بول رہے تھے۔ ان کے آخری الفاظ میں وہ مجھے روکنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن میں نے دل میں فیصلہ کر لیا تھا کہ آج وہ مجھے کچھ بھی کہیں ،میں نہیں رکوں گی، اس لیے میں نے ان کی بات نہیں سنی۔مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ طلاق کے الفاظ یا شرطیہ طلاق کے الفاظ کہہ رہے ہیں۔ مجھے صرف اتنا یقین ہے کہ جب میں نے گھر سے باہر قدم رکھا ،تو میرا شوہر کچھ بول رہے تھے، لیکن میں نے ان کے الفاظ نہیں سنے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں شوہر کی طرف سے معلق کی گئی طلاق واقع نہیں ہوئی، اور فریقین کا نکاح بدستور قائم و برقرار ہیں۔
واضح رہےکہ صریح الفاظ کے ساتھ معلق کی گئی طلاق میں شوہر کی نیت کا ہونا ضروری نہیں ، اور نہ ہی تعلیق کے مؤثر ہونے کے لیے بیوی کا ان الفاظ کو سننا یا ان سے باخبر ہونا شرط ہے، تاہم معلق طلاق کے وقوع کے لیے یہ لازمی ہے کہ جس شرط پر طلاق کو معلق کیا گیا ہے، وہ شوہر کا کلام مکمل ہونے کے بعد پائی جائے۔
لہذا صورت مسئولہ میں شوہر اور بیوی دونوں کے بیانات سے یہ بات واضح ہے کہ بیوی شوہر کے جملے کے دوران ہی گھر سے باہر نکل گئی تھی، جبکہ شوہر کا جملہ ابھی مکمل نہیں ہوا تھا۔ اس لیے شرط، کلام کی تکمیل سے پہلے ہی پائی گئی، حالانکہ شرعاً اس کا کلام مکمل ہونے کے بعد پایا جانا ضروری تھا۔ مزید یہ کہ کلام مکمل ہونے کے بعد شرط کے پائے جانے کا کوئی یقینی ثبوت بھی موجود نہیں، بلکہ اس میں شک ہے، جبکہ فقہ کا مسلمہ اصول ہے کہ "الیقین لا یزول بالشک"، یعنی جو چیز یقین کے ساتھ ثابت ہو، وہ محض شک کی بنا پر ختم نہیں کی جاسکتی۔ لہٰذا نکاح، جو یقین کے ساتھ ثابت تھا ، اسے شک کی بنیاد پر ختم نہیں کیا جائے گا۔
مزید برآں، شوہر کے بیان سے ظاہر ہے کہ اس کا مقصد اسی وقت بیوی کو نکلنے سے روکنا تھا، اس لیے یہ تعلیق اسی مجلس تک محدود تھی، جسے فقہاء "یمین فور" سے تعبیر کرتے ہیں۔ لہٰذامجلس ختم ہونے کے ساتھ یہ تعلیق بھی ختم ہوجائے گی، اور بعد میں اگر بیوی گھر سے نکلے تو اس سابقہ تعلیق کی بنا پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔
حوالہ جات
(قال): وإذا قال لآخر: أخبر امرأتي بطلاقها فهي طالق سواء أخبرها به أو لم يخبرها؛ لأن حرف الباء للإلصاق فيكون معناه أخبرها بما أوقعت عليها من الطلاق موصولا بالإيقاع، ۔۔۔۔وكذلك لو قال: أخبرها أنها طالق أو قل لها: إنها طالق؛ لأن الخبر، وإن كان يحتمل الصدق، والكذب فالأصل فيه الصدق، وذلك لا يكون إلا بعد إيقاعه الطلاق عليها،
(المبسوط للسرخسي ،6/ 141)
والحاصل أن قولهم الصريح لا يحتاج إلى النية إنما هو في القضاء أما في الديانة فمحتاج إليها لكن وقوعه في القضاء بلا نية إنما هو بشرط أن يقصدها بالخطاب. . . إلخ هذا، وفي القنية عن المحيط رجل دعته جماعة إلى شرب الخمر فقال إني حلفت بالطلاق أني لا أشرب وكان كاذبا فيه ثم شرب طلقت، وقال صاحب التحفة لا تطلق ديانة اهـ.
(البحر الرائق شرح كنز الدقائق ،3/ 272)
عدم الشك من الزوج في الطلاق وهو شرط الحكم بوقوع الطلاق حتى لو شك فيه، لا يحكم بوقوعه حتى لا يجب عليه أن يعتزل امرأته؛ لأن النكاح كان ثابتا بيقين ووقع الشك في زواله بالطلاق فلا يحكم بزواله بالشك كحياة المفقود، أنها لما كانت ثابتة ووقع الشك في زوالها لا يحكم بزوالها بالشك حتى لا يورث ماله ولا يرث هو أيضا من أقاربه.
(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، 3/ 126)
(قال له: اجلس فتغد عندي، فقال: إن تغديت فعبدي حر، فرجع وتغدى في بيته لم يحنث، ولو أرادت الخروج فقال لها: إن خرجت فأنت طالق، فجلست ثم خرجت لم تطلق) ، وكذا لو أراد ضرب عبده فقال له آخر: إن ضربته فعبدي حر، فتركه ثم ضربه لم يعتق، وهذه تسمى يمين الفور، وأول من أظهرها أبو حنيفة، ووجهه أن المقصود هو الامتناع عن الغداء المدعو إليه وهو الغداء عنده، لأن الجواب يطابق السؤال، وكذلك قصده منعها عن الخروج الذي همت به والضرب الذي هم وبذلك يشهد العرف والعادة.
(الاختيار لتعليل المختار، 4/ 58)
قال: وأما القيام والقعود والركوب والسكنى فهو على أن يمكث ساعة بعد اليمين وأما الدخول فلا يكون إلا على دخول مستقبل وكذلك الخروج لا يكون إلا على خروج مستقبل وكذلك الحبل إذا قال للحبلى: إن حبلت فهذا على حبل مستقبل وكذلك الضرب والأكل على الحادث بعد اليمين كذا في المحيط.
(الفتاوى الهندية، 1/ 421)
عبدالرحیم بن سید جنان
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
13/صفرا لمظفر /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبد الرحیم بن سید جنان | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


