03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بلااجازت میکےٹھہرنےکی صورت میں نان نفقہ کاحکم
91776نان نفقہ کے مسائلنان نفقہ کے متفرق مسائل

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ میری بیوی کو میں نے اپنی خوشی سے اس کے والدین کے پاس بھیجا تھا 45 دن کی مدت کےلیے، اب اس کے والدین بلا کسی شرعی عذر میری بیوی کو چار ماہ کے لیے روک رہے ہیں، اس میں میری اجازت نہیں ہے ،تو اب میرے لیے شرعی حکم کیا ہے؟ اور میری بیوی اور اس کے والدین کے لیے شرعی حکم کیا ہے؟ شرعی اعتبار سے میرے اوپر اب اس کے نان نفقہ کا کیا حکم ہے؟ اور میری ایک بیٹی بھی ہے جو اس وقت 9 ماہ کی ہے اور ماں کے پاس ہے تو مجھے اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

دوسری بات یہ کہ میری اس وقت تنحواہ پچاس سے پچپن ہزار تک بنتی ہے،جس سے میرے گھر کا نان نفقہ چلتا ہے ۔جب میری بیوی اپنے والدین کے پاس جا رہی تھی تو اس وقت میں نے اس کو 18 ہزار 45 دن کے خرچے کی رقم دی تھی۔ ایک ماہ پورا ہونے سے پہلے اب میری بیوی اور اس کے والدین مجھ سے مزید رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں، تو اس میں میرے لیے شرعی حکم کیاہے؟ اور میرے سسرال والوں کے لیے شرعی کیا حکم ہے؟ اور میری بیوی جب تک وہاں رہتی ہیں اور وہاں بیمار ہو جائے تو اس کے علاج کا خرچہ کون کرے گا؟

ایک اور بات ،اگر بیوی اپنے شوہر کے ساتھ زندگی میں ہونے والے معاملات اپنے والدین کو بتا دے اور گھر میں ہونے والے چھوٹے چھوٹے معاملات اپنے والدین کو بتائے اور اس سے خاندان میں جھگڑے شروع ہو جائیں اور معاملات اس حدتک خراب ہوں کہ بڑوں کا خون بہہ جائے لیکن اس کے بعد معاملات حل ہو جائیں اور بیوی دوبارہ وہی غلطی کرے ،اب خطرہ ہے کہ اس سے بڑوں میں مزید اختلافات بڑھ سکتے ہیں تو اس میں شوہر شریعت میں رہ کر کیا فیصلہ کرے؟ اور اگر اس وقت بیوی بیمار ہو جائے وہ بھی والدین کے گھر میں، تو اس میں شوہر کے لیے شرعی کیا حکم ہے کہ بیوی کا علاج کا خرچہ کون کرے گا اور بچوں کے اخراجات کون کرے گا؟

اس بات کو بھی مدنظر رکھا جائے کہ شوہر نے بیوی کو 45 دن کا وقت دیا تھا والدین کے ساتھ گزارنے کے لیے اور شوہر نے بیوی کو 45 دن کا خرچہ بھی دیا تھا 18 ہزار اپنی استعداد کے مطابق ،لیکن اب بیوی اور اس کے والدین بار بار فون کرکے مزید رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں تو اس میں شوہر کے لیے شرعی کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بیوی اپنے والدین کے گھر ہفتے میں ایک دن جاسکتی ہے، اس سے زیادہ رہنے کے لیے شوہر کی اجازت ورضامندی ضروری ہے اور شوہر کی اجازت یا مرضی کے بغیر گھر سے باہر رہنا بیوی کے لیے سخت گناہ کی بات ہے۔ صورتِ مسئولہ میں بیوی پر لازم ہے کہ وہ شوہرکےمطالبےپر45 دن کےبعد شوہر کے گھر واپس آجائےاور والدین کے لیے بھی شرعا جائز نہیں کہ وہ اپنی شادی شدہ بیٹی کو اس کے شوہر کی اجازت اور مرضی کے بغیر اپنے پاس روک کر رکھیں ۔

نیز بیوی شوہر کی اجازت کے بغیر میکے میں رہنے کی صورت میں نان و نفقہ کی حقدارنہیں ہوگی اور نہ ہی علاج کا خرچہ شوہر پر واجب ہوگا، بلکہ یہ اخراجات وہ خود یا اس کے والدین برداشت کریں گے۔ البتہ آپ کی نو ماہ کی بیٹی کے تمام اخراجات آپ کی وسعت کےبقدر آپ پر بہرصورت لازم ہیں اور ماں کو حق حضانت حاصل ہونے کے باوجود آپ کو اپنی بیٹی سے ملنے اور دیکھ بھال کا حق حاصل ہے ۔

گھر کے معاملات باہر دوسروں کو یا والدین کو بتانا جس کی کوئی درست غرض نہ ہو، خصوصاً جس سے خاندانوں میں فساد پھیلنے کا اندیشہ ہو، یہ سخت گناہ کی بات ہے اور آپ کی بیوی پر لازم ہے کہ وہ اس سے اجتناب برتے۔ آپ کی ذمہ داری ہے کہ بیوی کو از خود یا خاندان کے کسی بڑے و ذی فہم شخص کے واسطے سے سمجھائیں، تاکہ غلط فہمیوں کا خاتمہ ہو اور خوش گوار ازدواجی زندگی گزاری جا سکے۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (1/ 557)

لا يمنعها من الخروج إلى الوالدين في كل جمعة مرة، وعليه الفتوى كذا في غاية السروجي۔

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص: 201)

وحقه عليها أن تطيعه في كل مباح يأمرها به، وله منعها من الغزل ومن كل ما يتأذى من رائحته۔

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (3/ 522)

أن النفقة إنما تجب عوضاً عن الاحتباس في بيت الزوج، فإذا كان الفوات لمعنى من جهة الزوج أمكن أن يجعل ذلك الاحتباس باقياً تقديراً، أما إذا كان الفوات بمعنى من جهة الزوجة لا يمكن أن يجعل ذلك الاحتباس باقياً تقديراً وبدونه لا يمكن إيجاب النفقة۔

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص: 258)

(لا) نفقة لاحد عشر: ...(خارجة من بيته بغير حق) وهي الناشزة حتى تعود ولو بعد سفره۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 575)

(قوله كما لا يلزمه مداواتها) أي إتيانه لها بدواء المرض ولا أجرة الطبيب ولا الفصد ولا الحجامة هندية عن السراج. والظاهر أن منها ما تستعمله النفساء مما يزيل الكلف ونحوه۔

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (3/ 569)

قال: رجلٌ له أولاد صغار لا مال له ولا مال للصغار هل أيضاً يفرض عليه؟ فيكتسب وينفق عليهم؛ لأن نفقة الأولاد الصغار لا تسقط بعسرة الأب. قال الله تعالى: {وعلى الموسع قدره وعلى المقتر قدره} (البقرة: 236) ثم قال الله تعالى: {من وجدكم} (الطلاق: 6) والوجد: هو الطاقة. علم أن هذه النفقة لا تسقط بالعسار ولكن يفرض عليه مقدار طاقته لما تلونا من النص.

الفتاوى الهندية (1/ 560)

نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كذا في الجوهرة النيرة۔

شرح سنن أبي داود للعباد (554/ 3، بترقيم الشاملة آليا)

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (إذا حدث الرجل بالحديث ثم التفت فهي أمانة).

ومعنى ذلك: أن الكلام إذا كان سراً فإنه لا يفشى، وأما إذا كان غير سر وأنه مما يسمح في إفشائه أو أن المطلوب هو إفشاؤه فإن هذا لا يدخل في المحذور، وإنما الذي يمنع من إفشائه ونقله هو الذي يكون صاحبه يريد كتمانه وعدم إفشائه۔

فیصل حیات بن خان بہادر

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

22/صفرالمظفر/8144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

فیصل حیات بن خان بہادر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب