03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہر کے نکاح میں رہتے ہوئے دوسرے شخص سے تعلق، اولاد کے نسب وراثت اور نکاح کا شرعی حکم
91723نکاح کا بیاننسب کے ثبوت کا بیان

سوال

ایک شادی شدہ خاتون تھی، جس کی اپنے پہلے شوہر سے کوئی اولاد نہیں تھی۔ بعد میں وہ اپنے شوہر کو چھوڑ کر ایک دوسرے شخص کے ساتھ چلی گئی۔ وہ دوسرا شخص بھی شادی شدہ تھا۔ کچھ عرصہ بعد اس شخص نے ایک قتل کر دیا، جس کی وجہ سے اسے قید ہو گئی۔

اس کے بعد مذکورہ شخص کے بھائی نے اس خاتون سے نکاح کر لیا، اور اس نکاح کے بعد اس خاتون کے ہاں اولاد پیدا ہوئی۔

اب درج ذیل امور میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے:

1۔اس خاتون سے پیدا ہونے والی اولاد کا شرعی نسب کس کی طرف منسوب ہوگا؟ کیا وہ پہلے شوہر کی اولاد شمار ہوگی، دوسرے شخص کی، یا تیسرے شخص (جس نے باقاعدہ نکاح کیا) کی؟

2۔اگر یہ اولاد شرعاً ولدِ زنا شمار ہو، تو کیا وہ پہلے شوہر کی وارث ہوگی یا نہیں ؟، جبکہ نکاح (فراش) پہلے شوہر کا تھا۔

3۔نیز کیا یہ اولاد اس شخص کی وارث ہوگی جس نے بعد میں اس خاتون سے باقاعدہ نکاح کیا تھا، یا نہیں؟

4۔خاتون کی اولاد سے نکاح کرنا کیسا ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ صورتِ مسئولہ میں بیان کردہ تفصیل اگر واقعہ کے مطابق درست ہے، تو عورت کا اپنے شوہر کو چھوڑ کر بغیر کسی شرعی طریقۂ جدائی (طلاق یا فسخِ نکاح) کے کسی دوسرے شخص کے ساتھ چلے جانا شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر عورت پہلے شوہر کے نکاح ہی میں تھی، اس نے اسے طلاق بھی نہیں دی تھی اور وہ زندہ بھی تھا، تو وہ خاتون بدستور پہلے شوہر کی بیوی شمار ہوگی۔ ایسی صورت میں دوسرے شخص کا اس کے ساتھ رہنا اور ازدواجی تعلقات قائم کرنا شرعاً زنا اور بدکاری کے زمرے میں آئے گا۔

اسی طرح پہلے شوہر کے نکاح میں رہتے ہوئے، دوسرے شخص کے جیل جانے کے بعد اس کے بھائی(تیسرے شخص) کا اس خاتون سے نکاح کرنا بھی شرعاً منعقد نہیں ہوا، کیونکہ نکاحِ اول بدستور قائم تھا۔ لہٰذا اس نکاح کی بنیاد پر قائم ہونے والے تعلقات بھی شرعاً ناجائز اور حرام ہوں گے۔

یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ زنا کے بعد عورت کے رحم میں زانی کا نطفہ قرار پانے اور اس سے حمل ٹھہرنے کے احکام کو فراش اور نسب کے حکم سے الگ سمجھا جائے۔ فقہائے احناف کے نزدیک محض زنا سے پیدا ہونے والے ماء(نطفہ) کی کوئی شرعی حرمت نہیں، اور زنا کرنے والی منکوحہ عورت سے شوہر کے لیے ہم بستری کو محض زنا کی وجہ سے حرام قرار نہیں دیا جاتا، اور نہ ہی استبراء (ایک حیض کا  گزر جانا ) لازم  کیا جاتا ہے ۔

 البتہ اگر عورت زنا سے حاملہ ہو تو وضعِ حمل سے پہلے شوہر کے لئے  اس سے وطی کرنا جائز نہیں، کیونکہ اس صورت میں حدیثِ مبارکہ( لا يسقي ماءه زرع غيره)کے مطابق حمل کی حفاظت کا حکم ہے۔ اسی لیے فقہائے کرام نے زنا کے بعد محض احتمالِ حمل اور بالفعل حمل کی صورت میں فرق کیا ہے۔

چنانچہ اگر زنا سے حمل قائم نہ ہوا ہو تو زانی کے ماء کی مستقل شرعی نسبت اور حرمت کا اعتبار نہیں کیا جاتا، لیکن اگر بعد میں بچے کی ولادت کسی ایسے وقت میں ہو جب عورت کا معتبر شرعی فراش پہلے شوہر کا قائم ہو، تو بچے کے نسب کے ثبوت کے لیے(الولد للفراش وللعاهر الحجر)کا اصول معتبر ہوگا۔ اس صورت میں زنا کے فعل کی قباحت اپنی جگہ برقرار رہتی ہے، لیکن اس کی وجہ سے قائم شدہ شرعی فراش ختم نہیں ہوتا اور بچے کا نسب صاحبِ فراش کی طرف منسوب ہوگا۔

اس اصولی حکم کی روشنی میں سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:

1۔ جس شخص (دوسرے شخص کے بھائی) سے خاتون نے نکاح کیا، وہ شرعاً منعقد نہیں ہوا؛ لہٰذا اس کے ساتھ ازدواجی تعلقات ناجائز شمار ہوں گے۔ چنانچہ اس تعلق سے پیدا ہونے والی اولاد کا نسب حدیثِ مبارکہ «الولد للفراش» کے مطابق پہلے شوہر سے ثابت ہوگا، کیونکہ عورت کی ولادت کے وقت بھی پہلے شوہر کا شرعی نکاح (فراش) قائم تھا۔

2۔ مذکورہ اولاد چونکہ شرعاً پہلے شوہر کی طرف منسوب ہوگی، اس لیے وہ اسی کی وارث بھی ہوگی، اور پہلے شوہر کی وفات پر دیگر شرائطِ وراثت کی موجودگی میں اس کے ترکے میں حصہ پائے گی۔

3۔ جس شخص کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کیے گئے یا جس کا نکاح شرعاً منعقد ہی نہیں ہوا، اس سے اس اولاد کا نسب ثابت نہیں ہوگا۔ لہٰذا اس شخص اور اس اولاد کے درمیان توارث (وراثت) کا تعلق بھی قائم نہیں ہوگا، اور نہ ہی دونوں ایک دوسرے کے وارث بنیں گے۔

4۔ چونکہ مذکورہ اولاد کا نسب شرعاً ثابت ہے، اس لیے ان سے نکاح کرنا شرعاً جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ اگر کسی لڑکی کا ان میں سے کسی لڑکے سے نکاح کیا جائے تو کفاءت کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ کفاءت سے مراد یہ ہے کہ لڑکا دین، دیانت، نسب، پیشہ، مالی حیثیت اور معاشرتی اعتبار سے لڑکی کا کفو (ہم پلہ) ہو، اس سے کمتر نہ ہو۔ البتہ محض مختلف خاندان یا قبیلے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے عدمِ کفاءت لازم نہیں آتی۔

حوالہ جات

الدرمختار  مع ردالمحتار(5/215) :

(وكذا لا عدة لو تزوج امرأة الغير) ووطئها (عالما بذلك) وفي نسخ المتن (ودخل بها) ولا بد منه وبه يفتى، ولهذا يحد مع العلم بالحرمة لأنه زنا، والمزني بها لا تحرم على زوجها. وفي شرح الوهبانية: لو زنت المرأة لا يقربها زوجها حتى تحيض لاحتمال علوقها من الزنا فلا يسقي ماؤه زرع غيره، فليحفظ لغرابته .

(قوله:لا يقربها زوجها) أي يحرم عليه وطؤها حتى تحيض وتطهر كما صرح به شارح الوهبانية، وهذا يمنع من حمله على قول محمد لأنه يقول بالاستحباب، كذا قاله المصنف في المنح في فصل المحرمات وقدمنا عنه أن ما في شرح الوهبانية ذكره في النتف وهو ضعيف، إلا أن يحمل على ما إذا وطئها بشبهة اهـ فافهم (قوله: فليحفظ لغرابته) أمر بحفظه لا ليعتمد بل ليجتنب بقرينة قوله لغرابته، فإن المشهور في المذهب أن ماء الزنا لا حرمة له «لقوله – صلى الله عليه وسلم – للذي شكا إليه امرأته إنها لا تدفع يد لامس: طلقها، فقال إني أحبها وهي جميلة، فقال له – صلى الله عليه وسلم – استمتع بها» وأما قوله: «فلا يسقي ماؤه زرع غيره» فهو وإن كان واردا عنه – صلى الله عليه وسلم – لكن المراد به وطء الحبلى لأنه قبل الحبل لا يكون زرعا بل ماء مسفوحا، ولهذا قالوا: لو تزوج حبلى من زنا لا يقربها حتى تضع لئلا يسقي زرع غيره لأن به يزداد سمع الولد وبصره حدة.فقد ظهر بما قررناه الفرق بين جواز وطء الزوجة إذا رآها تزني وبين عدم جواز وطء التي تزوجها وهي حبلى من زنا فاغتنمه

«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (6/ 242):

الأول فنسب الولد من الرجل لا يثبت إلا بالفراش وهو أن تصير المرأة فراشا له لقوله عليه الصلاة والسلام «الولد للفراش وللعاهر الحجر» .

مرقاةالمفاتیح:(2166/5،)
الولد للفراش) يعني: الولد يتبع الأم إذا كان الوطء زنا، هذا هو المراد هاهنا، وإذا كان والده وأمه رقيقين أو أحدهما رقيقا، فالولد يتبع أمه أيضا (وللعاهر الحجر) : أي: وللزاني الحجارة بأن يرجم إن كان محصنا، ويحد إن كان غير محصن، ويحتمل أن يكون معناه الحرمان عن الميراث والنسب، والحجر على هذا التأويل كناية عن الحرمان، كان يقال للمحروم: في يده التراب والحجر.

الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین: (باب الولی،ج۳،ص۶۶،ط؛سعید)

"(ولزم النكاح ولو بغبن فاحش) بنقص مهرها وزيادة مهره (أو) زوجها (بغير كفء إن كان الولي) المزوج بنفسه بغبن (أبا أو جدا) وكذا المولى وابن المجنونة (لم يعرف منهما سوء الاختيار) مجانة وفسقا (وإن عرف لا) يصح النكاح اتفاقا وكذا لو كان سكران فزوجها من فاسق، أو شرير، أو فقير، أو ذي حرفة دنية لظهور سوء اختياره فلا تعارضه شفقته المظنونة بحر."

فتاوی الھندیۃ: (1/ 292)

"ثم المرأة إذا زوجت نفسها من غير كفء صح النكاح في ظاهر الرواية عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وهو قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - آخراً وقول محمد - رحمه الله تعالى - آخراً أيضاً، حتى أن قبل التفريق يثبت فيه حكم الطلاق والظهار والإيلاء والتوارث وغير ذلك، ولكن للأولياء حق الاعتراض ... وفي البزازية: ذكر برهان الأئمة أن الفتوى في جواز النكاح بكراً كانت أو ثيباً على قول الإمام الأعظم، وهذا إذا كان لها ولي، فإن لم يكن صح النكاح اتفاقاً، كذا في النهر الفائق، ولا يكون التفريق بذلك إلا عند القاضي، أما بدون فسخ القاضي فلا ينفسخ النكاح بينهما".

 محمد عمران 

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

 26 /صفر /8144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد عمران بن عبد المطہر خان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب