| 91793 | طلاق کے احکام | طلاق سے رجو ع کا بیان |
سوال
امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔یہ ای میل ایک انتہائی اہم اور حساس عائلی مسئلے (Matrimonial Dispute) میں مستند شرعی رہنمائی (فتویٰ) کے حصول کے لیے ارسال کی جا رہی ہے۔
مسئلے کا مختصر تعارف:
یہ معاملہ سائل اور اس کی اہلیہ کے درمیان ایک تحریر کی بنیاد پر "تفویضِ طلاق" اور مبینہ "طلاقِ رجعی" سے متعلق ہے۔ سائل کے بنیادی سوالات درج ذیل ہیں:
- کیا ڈرافٹ میں استعمال کیے گئے مخصوص انگریزی الفاظ اور شرائط اور نیت کی روشنی میں شرعاً کوئی طلاق واقع ہوئی ہے، یا یہ عمل شرعی و قانونی لحاظ سے سرے سے باطل ہے؟
- اگر بالفرضِ محال طلاق واقع ہو بھی گئی ہو، تو سائل نے عدت کے اندر باضابطہ رجوع کر لیا تھا (جس کی توثیق جامعہ بنوری ٹاؤن کے فتوے سے ثابت ہے)۔ کیا اس رجوع کے بعد نکاح بدستور اور حتمی طور پر قائم ہے؟
تنقیح:سائل سے زبانی رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ میاں بیوی کے درمیان کوئی خاص لڑائی جھگڑا یا شدید اختلاف نہیں تھا۔ البتہ بیوی کا اسقاطِ حمل ہوا تھا، جس کے چند دن بعد اس کے گھر والے اسے میکے آنے کے لیے بار بار بلا رہے تھے۔ بیوی بھی کہتی تھی کہ وہ بیس یا بائیس دن کے لیے میکے جائے گی۔
سائل کے مطابق وہ اپنی بیوی سے کہتا تھا کہ:"میں خود تمہیں لے کر چلا جاؤں گا، تم اپنے والدین سے ملاقات کر لینا، یا پھر اپنے والدین کو یہاں بلا لو تاکہ جو بھی مسئلہ ہو، میرے سامنے بات ہو جائے۔تاہم بیوی شوہر کے ساتھ جانے پر آمادہ نہیں تھی۔
سائل کا مزید کہنا ہے کہ ایک رات تقریباً بارہ بجے بیوی کے والد آئے اور اپنی بیٹی کو اپنے ساتھ میکے لے گئے۔سائل نے یہ بھی حلفاً بیان کیا کہ اس نے اپنی بیوی کو الگ رہائش فراہم کر رکھی تھی۔ نان و نفقہ کا کوئی مسئلہ نہیں تھا، اور گھر کے کام کاج بھی ملازم یا گھر کے دیگر افراد انجام دیتے تھے، اس لیے بیوی کو گھریلو کام بھی نہیں کرنا پڑتا تھا۔
سائل کے مطابق بیوی کے میکے جانے کے بعد اس نے کئی دن تک مسلسل پیغامات کے ذریعے اسے واپس آنے کے لیے کہا اور بار بار یہ پیغام بھیجا کہ:"گھر آ جاؤ۔"لیکن بیوی واپس نہ آئی۔سائل کے بیان کے مطابق اس صورتِ حال پر اسے غصہ آیا، چنانچہ اس نے اپنی بیوی کو ایک پیغام بھیجا، جس میں چند شرائط کے ساتھ اسے طلاق کا اختیار (تفویضِ طلاق) دیا۔ سائل کے مطابق اس وقت اس کی نیت صرف ایک طلاق کی تھی۔بعد ازاں بیوی نے ایک طلاق واقع کرنے کا دعویٰ کیا۔
اس کے بعد سائل نے رجوع کی نیت سے متعدد مرتبہ اپنی بیوی کو رجوع کے الفاظ پر مشتمل پیغامات بھیجے، لیکن بیوی ہر مرتبہ اس کا نمبر بلاک کرتی رہی، جس کی وجہ سے وہ اس کے پیغامات نہ دیکھ سکی۔
مندرجہ بالا تفصیل کی روشنی میں سائل درجِ ذیل تین سوالات کے شرعی جوابات معلوم کرنا چاہتا ہے:
سوالات:
- اگر بیوی بغیر کسی شرعی عذر کے شوہر کا گھر چھوڑ کر اپنے میکے چلی جائے اور شوہر کے بار بار بلانے کے باوجود واپس نہ آئے، تو کیا ایسی صورت میں وہ شرعاً ناشزہ شمار ہوگی؟
- سائل نے اپنی بیوی کو بعض شرائط کے ساتھ طلاق کا اختیار (تفویضِ طلاق) دیا تھا، لیکن بیوی نے ان شرائط کے پورا ہونے سے پہلے ہی طلاق واقع کر دی۔ ایسی صورت میں کیا شرعاً طلاق واقع ہوگی؟
- سائل نے رجوع کی نیت سے متعدد مرتبہ اپنی بیوی کو رجوع کے الفاظ پر مشتمل پیغامات بھیجے، لیکن بیوی نے وہ پیغامات نہیں پڑھے۔ کیا اس صورت میں شرعاً رجوع ثابت ہو جائے گا؟
سائل کا اپنی بیوی کو بھیجا ہوا تفویضِ طلاق کا پیغام:
January 31, 2026Iqra Arif, I Muhammad Junaid Khan being your husband in all my senses bestow upon you / delegates you / authorise you to pronounce one Divorce (rajai) at your will being fearful to Allah and in compliance of Prophet's Hadith since you left me for your reasons which you deemed right / correct.On condition thatIt should be pronounced by 06.02.2026.
اردو ترجمہ:
31 جنوری 2026اقراء عارف! میں، محمد جنید خان، اپنے مکمل ہوش و حواس میں، تمہارا شوہر ہونے کی حیثیت سے، تمہیں ایک رجعی طلاق اپنے اوپر نافذ (استعمال) کرنے کا اختیار (تفویض) دیتا ہوں۔ یہ اختیار میں اللہ تعالیٰ کے خوف اور رسول اللہ ﷺ کی حدیث پر عمل کرتے ہوئے دے رہا ہوں، کیونکہ تم اپنی ان وجوہات کی بنا پر مجھے چھوڑ کر چلی گئی ہو جنہیں تم نے درست یا صحیح سمجھا۔اس شرط کے ساتھ کہ:یہ رجعی طلاق2026 -02-06 تک استعمال (نافذ) کر دی جائے۔
اس کے بعد بیوی کے بیان کے مطابق اس نے2026 -02-01 تک طلاق واقع کرنے کا دعویٰ کیا۔نیز بیوی کا وضاحتی بیان ساتھ منسلک ہے۔
شوہر کے رجوع کے الفاظ:
Mar 30, 2026 at 7:25 AM کو شوہر نے درج ذیل الفاظ پر مشتمل ایک میسج کیا:
"اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو تین اقسام میں تخلیق کیا ہے، نور، نار اور خاک۔ نور کچھ تم نے بیان کیا، میرے نزدیک نور، اللہ کی صفت تمثیلی ہے، جیسا کہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان اور زمین کا نور ہے، اب لفظ نور کی تمثیل کی جہتوں کا ادراک یہاں سے ممکن نہیں لیکن ملائکہ کو نوری مخلوق ان کی معصومیت اور ان کی خیر اور اطاعت کی استطاعت کی بنا پر کہا گیا، پھر ناری مخلوق کی تخلیق عموماً کچھ سرکش رہی۔ دونوں کے بعد اشرف المخلوقات یعنی خاکی (مٹی سے بنائی) مخلوق اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ بنی، اپنی اس صفت پہ کہ یہ اللہ کے حضور معافی یا توبہ کی طالب ہے اور شکر گزاری کا وصف بھی رکھتی ہے، ہم تم بے عیب نہیں، اس لیے توبہ، صلہ رحمی، درگزر اور معافی کو اللہ نے پسند فرمایا اور اسی کی تلقین کی۔ معافی مانگ چکا ہوں۔ اس لیے تم سے رحم اور درگزر کی اپیل کرتا ہوں، اور واپس آنے کا تقاضا کرتا ہوں۔"
نیز سائل نے ایک اور پیغام بھی ارسال کیا ہے، جس میں اس نے اپنی بیوی سے بار بار گھر واپس آنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
-1 سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعتادرست ہو اور بیوی بغیر کسی شرعی عذر کے شوہر کی اجازت کے بغیر اپنے والدین کے ہاں چلی گئی ہے اور شوہر کے بار بار بلانے کے باوجود وہ واپس نہیں آرہی تو وہ ناشزہ ہے ۔ایسی صورت میں نکاح تو قائم رہتا ہے مگر جب تک وہ خاوند کے گھر واپس نہ آجائے عورت نان نفقہ کی مستحق نہیں ہوتی ۔
-2 مذکورہ صورتِ حال کے پیشِ نظرشوہر نے تفویضِ طلاق کے وقت صرف ایک شرط لگائی تھی، وہ یہ کہ بیوی کو 2026/02/ 06تک طلاق کا اختیار حاصل ہوگا۔ جبکہ بیوی نے2026 /02/ 01کو طلاق واقع کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ لہٰذا شوہر کی مقرر کردہ شرط اس وقت موجود تھی، اس لیے بیوی کے اختیار استعمال کرنے سے ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی۔
-3 طلاقِ رجعی کی عدت تین ماہواریاں ہوتی ہیں۔ اگر عدت ختم ہونے سے پہلے شوہر رجوع کر لے تو نکاح برقرار رہتا ہے۔بقول آپ کے آپ نے طلاق کے بعد عدت کے اندر، مورخہ 30 مارچ 2026ء کو رجوع کر لیا تھا، اگر یہ بات درست ہے اور مذکورہ الفاظ (میں آپ سے واپس آنے کا تقاضا کرتا ہوں،واپس آجاؤ) بولتے وقت آپ کی نیت رجوع کی تھی تو آپ کا رجوع درست ہوگا اور عورت آپ کے نکاح میں ہے۔اگر آپ نے رجوع نہیں کیا تھا تو وہ بائن ہوچکی ہے۔اب آپ اگر اس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو اس کی رضا مندی سے دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔ بہرصورت ‘-آئندہ کے لیے آپ کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی ہوگا۔
حوالہ جات
شرح مختصر الطحاويللجصاص (5/ 292):
المعنى الذي به تستحق النفقة في حال الزوجية، هو تسليم نفسها في بيت الزوج، والدليل عليه أن الناشزة لا نفقة لها، لعدم التسليم، فالتي سلمت نفسها في بيت الزوج لها النفقة لوجوده، فلما كان التسليم الذي به استحقت النفقة في حال النكاح موجودًا في حال العدة، وجب أن تستحق النفقة.»
النهاية في شرح الهداية - السغناقي(9/ 132 بترقيم الشاملة آليا):
وإن نشزت فلا نفقة لها، وفسر الخصاف الناشزة، فقال: الناشزة هي الخارجة من منزل زوجها المانعة نفسها منه؛ لأنها إذا كانت مقيمة مع الزوج في منزلها فالظاهر أن الزوج يقدر على تحصيل المقصود منها، فلا يوجب ذلك بطلان نفقتها.
فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي(4/ 78):
واعلم أن الاقتصار على المجلس في الخطاب المطلق، أما لو قال: طلقي نفسك متى شئت فهو لها في المجلس وغيره، وإذا فوض وهي غائبة اعتبر مجلس علمها، ولو قال: جعلت لها أن تطلق نفسها اليوم اعتبر مجلس علمها في ذلك اليوم، فلو مضى اليوم ثم علمت يخرج الأمر من يدها، وكذا كل وقت قيد التفويض به وهي غائبة ولم تعلم حتى انقضى بطل خيارها في المجلس.
فتح باب العناية بشرح النقاية (2/ 130):
وندب إشهاده على الرجعة) بأن يقول لاثنين من المسلمين: اشهدا أني راجعت زوجتي، وبهذا قال مالك، والشافعي في الأصح، وأحمد في رواية. وقال القاضي أبو بكر بن العلاء، وأهل الظاهر: يجب الإشهاد لقوله تعالى: {وأشهدوا ذوي عدل منكم}(1) حيث أمر بالإشهاد، والأمر للوجوب.
ولنا: أن النصوص الواردة في الرجعة ليست مقيدة بإشهاد لقوله تعالى: {فإذا بلغن أجلهن فأمسكوهن بمعروف أو فارقوهن بمعروف}(2) ، وقوله تعالى: {وبعولتهن أحق بردهن}(3) ، وقوله تعالى: {فإمساك بمعروف}(4) وقوله: {فلا جناح عليهما أن يتراجعا}(5) ، وقوله صلى الله عليه وسلم «مر ابنك فليراجعها»(6) . وهو مروي عن ابن مسعود وعمار بن ياسر.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (3/ 403):
(قوله: ثم إنما تعتبر المدة) يعني أن في المسائل التي يقبل فيها قولها " انقضت عدتي ": لا بد من كون المدة تحتمل ذلك، ثم إنما يشترط احتمال المدة ذلك إذا كانت العدة بالحيض فلو كانت العدة بوضع الحمل ولو سقطا مستبين الخلق فلا تشترط مدة.
درر الحكام شرح غرر الأحكام(1/ 384):
(ندب إعلامها) أي إعلام الزوج إياها بالرجعة لأنه لو لم يعلمها لربما تقع المرأة في المعصية لأنها قد تتزوج بناء على زعمها أن الزوج لم يراجعها وقد انقضت عدتها ويطؤها الزوج الثاني فكانت عاصية وزوجها الذي أوقعها فيه مسيئا بترك الإعلام ولكن مع ذلك لو لم يعلمها صحت الرجعة؛ لأنها استدامة للقائم وليست بإنشاء فكان الزوج برجعته متصرفا في خالص حقه، وتصرف الإنسان في خالص حقه لا يتوقف على علم الغير.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 183):
وأما ركن الرجعة فهو قول أو فعل يدل على الرجعة: أما القول فنحو أن يقول لها: راجعتك أو رددتك أو رجعتك أو أعدتك أو راجعت امرأتي أو راجعتها أو رددتها أو أعدتها، ونحو ذلك؛ لأن الرجعة رد، وإعادة إلى الحالة الأولى، ولو قال لما نكحتك أو تزوجتك كان رجعة في ظاهر الرواية.
ابن امین صاحب دین
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
01/ربیع الاول /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ابن امین بن صاحب دین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب / شہبازعلی صاحب |


