03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مقروض کےلیےزکوۃ وصول کرنےکاحکم
91858زکوة کابیانمستحقین زکوة کا بیان

سوال

میں، فرحان نذیر کنول ولد نذیر احمد، حامل شناختی کارڈ نمبر 35402-3165047-5، سکنہ محلہ غلہ منڈی، بوچھیکی، ضلع ننکانہ صاحب، پنجاب، اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر حلفاً بیان کرتا ہوں کہ:

1. اس وقت مجھ پر 9افراد کا واجب الادا قرض ہے، جس کی ادائیگی میری موجودہ مالی حالت کے باعث میرے لیے ممکن نہیں۔

2. کاروبار میں مسلسل نقصان کی وجہ سے میری مالی حیثیت انتہائی کمزور ہو چکی ہے،جس کی وجہ سے ابھی نہ کوئی پراپرٹی ایسٹ بچا ہے اور نہ ہی کوئی کاروباری اثاثہ،یہاں تک کہ اپنی اہلیہ اور بچوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی میرے لیے دشوار ہو گیا ہے۔

3. میرے نام پر کوئی مکان، پلاٹ، زرعی زمین یا کسی قسم کی جائیداد موجود نہیں ہے۔

4. میرے پاس کوئی گاڑی، موٹر سائیکل یا سائیکل موجود نہیں ہے۔

5. میرے پاس سونا، چاندی، نقد بچت یا کوئی ایسا اثاثہ موجود نہیں جسے فروخت کر کے اپنے قرض کی ادائیگی کر سکوں۔

6. میرے والد مرحوم ہو چکے ہیں۔ میرے بھائیوں اور میری اہلیہ کے پاس اگرچہ کچھ اثاثے موجود ہیں، لیکن میں ان سے قرض کی ادائیگی کے لیے مدد کی درخواست کر چکا ہوں، تاہم انہوں نے معذرت کر دی ہے۔

7. میں نے اپنی موجودہ مالی مشکلات اپنے ایک دوست کے سامنے بیان کی ہیں، جن کا قرض بھی میرے ذمے واجب الادا ہے۔ انہوں نے فرمایا ہے کہ اگر جامعۃ الرشید کے دارالافتاء سے یہ فتویٰ یا شرعی تصدیق مل جائے کہ میری موجودہ مالی حالت کے پیش نظر میرے قرض کی ادائیگی کے لیے زکوۃ کی رقم استعمال کی جا سکتی ہے، تو وہ زکوۃ کی مد سے میرے قرض کی ادائیگی میں میری مدد کریں گے۔

میں یہ حلف نامہ اپنی مکمل معلومات اور یقین کے مطابق، بغیر کسی جبر، دباؤ یا لالچ کے مرتب کر رہا ہوں۔ اگر میرے بیان کا کوئی حصہ خلاف واقع ثابت ہو تو میں اس کی قانونی اور شرعی ذمہ داری قبول کروں گا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر حلف نامہ میں درج کردہ معلومات درست ہیں تو آپ کے لیے مستحق زکوٰۃ ہونے کی بنا پر زکوٰۃ لینا جائز ہے۔ البتہ محض قرض معاف کرنے سے قرض خواہ کی زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔ اس کا درست طریقہ یہ ہے کہ وہ زکوٰۃ کی رقم آپ کو دے تو اس کی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی اور پھر آپ اس رقم سے اس کا قرض ادا کریں۔ اسی طرح اگر کسی دوسرے قرض خواہ کو آپ کا قرض دینا چاہتا ہے تو پھر آپ کی اجازت سے اگر اس دوسرے شخص کو رقم دے دی جائے توبھی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔

حوالہ جات

الاختيار لتعليل المختار (1/ 119)

قال: (والمديون الفقير) وهو المراد بقوله تعالى: {والغارمين} [التوبة: 60] وإطلاق الآية يقتضي جواز الصرف إلى مطلق المديون إلا أنه قام الدليل، وهو قوله - عليه الصلاة والسلام -: «لا تحل الصدقة لغني» على أنه لا يجوز صرفها إلى من يملك نصابا فاضلا عما عليه۔

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (2/ 288)

قال محمد رحمه الله: في «الأصل» إذا أعطى زكاة ماله مائتي درهم أو ألف درهم إلى فقير واحد، فإن كان عليه دين مقدار ما دفع إليه، أو كان صاحب عيال يحتاج إليه للإنفاق عليهم، فإنه يجوز ولا يكره۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 43)

وأداء الدين عن العين لا يجوز بأن كان له على فقير خمسة دراهم وله مائتا درهم عين حال عليها الحول فتصدق بالخمسة على الفقير ناويا عن زكاة المائتين؛ لأنه أداء الناقص عن الكامل فلا يخرج عما عليه.....وأما أداء الدين عن الدين فإن كان عن دين يصير عينا لا يجوز بأن كان له على فقير خمسة دراهم دين وله على رجل آخر مائتا درهم فحال عليها الحول فتصدق بهذه الخمسة على من عليه ناويا عن زكاة المائتين؛ لأن المائتين تصير عينا بالاستيفاء فتبين في الآخرة أن هذا أداء الدين عن العين وأنه لا يجوز لما بينا.

فیصل حیات بن خان بہادر

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

02/ربیع الاول/8144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

فیصل حیات بن خان بہادر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب