| 91897 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
غلام احمد نے اپنے بیٹے محمد ساجد کا نکاح 16 سال کی عمر میں کیا ،جبکہ محمد ساجد کی حالت کچھ اس طرح تھی جیسے ایک گونگا آدمی ہوتا ہے نہ صحیح سن سکتا ہے اور نہ ہی صحیح بول سکتا ہے، البتہ محمد ساجد کو تین لفظ سمجھ آتے تھے۔ اماں ، ابا ، چا چاوغیرہ اور نکاح کے وقت کچھ اعصابی مریض بھی تھا ، اُس کے والد غلام احمد نے جس لڑکی سے محمد ساجد کا نکاح کیا اُس کی عمر اس وقت گیارہ سال تھی اور لڑکی سمجھ دار اور صحت مند تھی۔ نکاح ہو گیا ۔ اُس کے کچھ عرصہ بعد ساجد زیادہ اعصابی مریض ہو گیا ، نکاح کو تقریبا پندرہ سال کا عرصہ بیت چکا ہے ۔ اب وہ خود اکیلا چل بھی نہیں سکتا، اپنے آپ کو سنبھال بھی نہیں سکتا اور کبھی کبھار کپڑے بھی اتار دیا ہے، اب غلام احمد پریشان ہے کہ یہ اپنے آپ کو سنبھال نہیں سکتاتو لڑکی کو کیسے سنبھالے گا اور طلاق کیلئے نہ کو ئی لفظ بول سکتا ہے اور نہ کوئی اشارہ سمجھ سکتا ہے۔ براہ کرم اس کی طلاق کی کوئی بھی صورت بتائیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں اگر محمد ساجد اعصابی اور دماغی کمزوری کی وجہ سے کوئی لفظ بول اور سمجھ نہیں سکتا تو اس صورت میں اس کا حکم مجنون کی طرح ہو گا اور مجنون کی طلاق کے بارے میں فقہائے کرام رحمہم اللہ نے صراحت فرمائی ہے کہ اس کی طلاق واقع نہیں ہو گی، کیونکہ طلاق دینے کےلیے عقل اور سمجھ بوجھ کا ہونا ضروری ہے ، نیز اس کا ولی بھی اس کی بیوی کو طلاق نہیں دے سکتا، کیونکہ مجنون کے ولی کا ایسا تصرف نافذ نہیں ہوتا جس میں مجنون کا نقصان ہو اور اس کی بیوی کو طلاق دینے میں اس کا نقصان ہے، اس لیے شریعت نے ولی کو بھی اس کی بیوی کو طلاق دینے کی اجازت نہیں دی۔
البتہ جب بیوی کا ایسےشخص کے ساتھ رہنا مشکل ہو تو عورت کو نقصان سے بچانے کے لیے فقہائے کرام رحمہم اللہ نے قاضی کو اس کا نکاح فسخ کرنے کا اختیار دیا ہے، جس کی صورت یہ ہے کہ عورت قاضی کے سامنے فسخِ نکاح کے لیے اپنا دعوی پیش کر ے اور معتبر گواہوں کے ذریعہ شوہر کا مجنون ہونا ثابت کرے، نیز گواہی کے درست ہونے کے لیے دعوی پر گواہوں کے دستخط کروانا بھی کافی ہے، اس کے بعد عدالت کا جج اور قاضی شوہر کا جنون ثابت ہونے کی بنیاد پر عورت کا نکاح فسخ کر دے تو فریقین کے درمیان نکاح ختم ہو جائے گااور قاضی کے فیصلہ جاری کرنے کی تاریخ سے عورت کی عدت شروع ہو جائے گی، عدت ختم ہونے کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں شرعاً آزاد ہو گی۔
نیز امام کرخی رحمہ اللہ کے قول کے مطابق مجنون کی بیوی کانکاح فسخ کرنے کے لیے اس کو علاج کے لیے ایک سال کی مہلت دینا بھی ضروری نہیں،علامہ کاسانی رحمہ اللہ نے بدائع الصنائع میں اسی قول کو صحیح قرار دیا ہے اور اسی کو علامہ ابن نجیم رحمہ اللہ نے البحرالرائق میں نقل کیا ہے، لہذا اگر عدالت علاج کی مہلت دیے بغیر نکاح فسخ کر دے اور اس سے پہلے جنون کی حالت کو ایک سال گزر چکا ہوتو فسخِ نکاح کا فیصلہ درست ہو گا، جیسا کہ فتاوی ہندیہ میں امام محمدرحمہ اللہ کا قول الحاوی القدسی کے حوالے سے اسی طرح نقل کیا گیا ہے اور حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب دہلوی رحمہ اللہ نے اسی قول پر عمل کرتےہوئے ایک سوال کے جواب میں بغير کسی مہلت دينے کے حاکم کو نکاح فسخ کرنے کی گنجائش دی ہے، دیکھیے عبارت:
"اہل السنت والجماعہ حنفی مذہب کے موافق بھی مجنون کی بیوی اپنا نکاح فسخ کرا سكتی ہے اور اب جبکہ جنون کو دس بارہ سال کا عرصہ ہو گیا ہے، بغیر کسی مہلت کے کوئی حاکم (مسلم) نکاح فسخ کر سکتا ہے۔"
(كفايت المفتی:ج:8ص:395، ط:دارالاشاعت كراچی)
حوالہ جات
الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 224): دار احياء التراث العربي – بيروت:
"ويقع طلاق كل زوج إذا كان عاقلا بالغا، ولا يقع طلاق الصبي والمجنون والنائم" لقوله ﷺ: "كل طلاق جائز إلا طلاق الصبي والمجنون"، ولأن الأهلية بالعقل المميز، وهما عديما العقل والنائم عديم الاختيار.
المبسوط للسرخسي (6/ 54) الناشر: دار المعرفة - بيروت:
(قال) ولا يجوز طلاق المجنون وإن مات عن امرأته كان في حكم العدة والولد منه بمنزلة الصحيح لأن المجنون يجامع ويحبل وقد ثبت الفراش له بحكم النكاح، وهو يصلح أن يكون والدا.
البدر التمام شرح بلوغ المرام (8/ 80) الحسين بن محمد بن سعيد اللاعيّ، المعروف بالمَغرِبي (المتوفى: 1119 هـ):
وفي قوله: "وعن المجنون حتى يفيق". فيه دلالة على أن طلاق المجنون لا يقع، وهو مجمع عليه، والعلة فيه ذهاب العقل.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 325) الناشر: دار الكتب العلمية:
وإن كان الزوج كبيرا مجنونا، فوجدته عنينا قالوا: إنه لا يؤجل كذا ذكر الكرخي؛ لأن التأجيل للتفريق عند عدم الدخول، وفرقة العنين طلاق، والمجنون لا يملك الطلاق.
وذكر القاضي في شرحه مختصر الطحاوي أنه ينتظر حولا، ولا ينتظر إلى إفاقته بخلاف الصبي؛ لأن الصغر مانع من الوصول، فيستأنى إلى أن يزول الصغر، ثم يؤجل سنة. فأما الجنون، فلا يمنع الوصول؛ لأن المجنون يجامع، فيؤجل للحال، والصحيح ما ذكره الكرخي أنه لا يؤجل أصلا لما ذكرنا.
البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (4/ 133) الناشر: دار الكتاب الإسلامي:
قال في البدائع وإن كان الزوج كبيرا مجنونا فوجدته عنينا قالوا إنه لا يؤجل كذا ذكر الكرخي؛ لأن التأجيل للتفريق عند عدم الدخول وفرقة العنين طلاق والمجنون لا يملك الطلاق وذكر القاضي في شرح مختصر الطحاوي أنه ينتظر حولا ولا ينتظر إلى إفاقته بخلاف الصبي؛ لأن الصغر مانع من الوصول فيتأتى إلى أن يزول الصغر ثم يؤجل سنة فأما الجنون فلا يمنع الوصول؛ لأن المجنون يجامع فيولج للحال والصحيح ما ذكره الكرخي إنه لا يؤجل أصلا لما ذكرنا اه.
بدائع الصنائع (4/ 55): الناشر: دار الكتب العلمية:
المجنون الذي يجن في حال ويفيق في حال فما يوجد منه في حال إفاقته فهو فيه بمنزلة سائر العقلاء وما يوجد منه في حال جنونه فهو بمنزلة المجنون المطبق اعتبارا للحقيقة.
حاشية ابن عابدين (3/ 244)ایچ ایم سعید:
والذي يظهر لي أن كلا من المدهوش والغضبان لا يلزم فيه أن يكون بحيث لا يعلم ما يقول بل يكتفى فيه بغلبة الهذيان واختلاط الجد بالهزل كما هو المفتى به في السكران على ما مر ولا ينافيه تعريف الدهش بذهاب العقل فإن الجنون فنون ولذا فسره في البحر باختلال العقل وأدخل فيه العته والبرسام والإغماء والدهش ...............فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقوالهوإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن إدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
23/ربیع الاول 1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


