| 92378 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
شوہر کا بیان:
"میں جب عشاء کی نماز پڑھ کر اپنے گھر آیا، تو میری بیوی ناہید اختر سے بدكلامی ہو گئی۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ آپ خدا کے لیے چپ ہو جائیں، مگر وہ خاموش نہ ہوئی۔ تو پھر میں نے اپنی بیوی کو ایک مثال دی کہ جس طرح دو میاں بیوی میں طلاق ہو جاتی ہے اور پھر وہ آپس میں بات نہیں کرتے، تو ایسے سمجھو کہ ہماری اس وقت آپس میں وہی طلاق والا حساب ہے اور میں نے اس سے بات نہیں کرنی۔ بس ہماری دونوں میاں بیوی کی بات صرف ایک مثال دینے کے لیول تک ہوئی ہے، نہ کہ میں نے بیوی کو مخاطب کرکے یہ کہا ہے کہ میں آپ کو طلاق دیتا ہوں۔ یہ میرا حلفیہ بیان ہے۔"
زوجہ کا بیان:
"14 دسمبر کی شب عشاء کی نماز کے بعد، جب میرا شوہر محمد اسحاق نماز سے فارغ ہو کر گھر آیا، تو ہماری تلخ کلامی کے دوران میرے شوہر نے مجھے مخاطب کر کے دو دفعہ یہ الفاظ دہرائے کہ: 'تم چپ ہو جاؤ، سمجھو، تیری میری اس کے بعد طلاق ہو گئی' یہ الفاظ میرے شوہر نے دو دفعہ دہرائے۔ اس کے بعد ہماری میاں بیوی کی آپس میں کوئی بات نہیں ہوئی۔"
مطلوب امر یہ ہے کہ فریقین کے ان بیانات کی روشنی میں طلاق واقع ہو گئی ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جمہورعلماء کے نزدیک "طلاق سمجھو" کے لفظ سے طلاق نہیں ہوتی،جیسے کہ "امدادالاحکام"2/432،"خیر الفتاویٰ"5/147،" نجم الفتاوی"6/58،فتاوی دارالعلوم کراچی ابراہیم عیسی،"فتاوی دارالافتاء بنوری ٹاؤن اور"فتاوی دار الافتاءجامعة الرشید42/599 وغیرہ میں ہے، لہذا مسئولہ صورت میں بیوی پرکوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔(ماخوذ ازتبویب84593)
حوالہ جات
البحر الرا ئق (۴۱۸/۸):
مسا ئل متفر قۃ:( ولو قال الزوج داده أنكار وكرده أنكار ) لا يقع الطلاق ( وإن نوى الوقوع ) والفرق بينهما أن في الأولى إخبارا عن وقوع فيقع الطلاق وفي الثاني ليس بأخبار لأن معنى قوله داده أنكار افرضي أنه وقع أو احسبي فلا يقع به شيء وأنكار بفتح الهمزةوسكون النون وفتح الكاف الصماءوفي آخره راءمهملة ومعناه افرضي وقدري۔
فی الخانیۃ(۲۱۴/۲):
ولو قیل لرجل أطلقت امرأتک فقا ل:عدّھامطلقۃ أواحسبھامطلقۃ لا تطلق امرأتہ۔
فی مجمع الا نھر(۴۷۸/۴):
مسائل متفر قۃ:ولو قالت المرأة مراطلاق ده فقال الزوج داده كير أو کردہ كير أو داده باد أو کردہ باد معناه أعطني طلاقا فقال افرضي وقدري أنه قد أعطى أو أنه قد فعل أو أنه كان أعطى أو أنه كان قد فعل لأن قوله كير معناه الأصلي أمسك لكن معناه هنا افرضي وقدري إن نوى الطلاق يقع وإلا أي وإن لم ينو فلا يقع لاحتمال الوعد والإيقاع فيحتاج إلى نية الإيقاع ولو قال الزوج داده است في جواب قولها مراطلاق ده أو کردہ است يقع الطلاق وإن لم ينو لأنه لا يحتمل غير الإيقاع فلا يحتاج إلى النية ولو قال داده آنكار و کردہ آنكار لا يقع الطلاق وإن نوى الوقوع والفرق بينهما أن في الأول إخبارا عن الوقوع فيقع مطلقا وفي الثانية ليس بإخبار لأن معنى قوله داده آنكار افرضي أنه وقع أو احسبي فلا يقع به شيء۔
الولو الجیۃ(۱۵/۲):
امرأۃ قالت لزوجھا مرا طلاق دہ فقال الزوج بالفارسیۃ دادہ کیر فھھناأربعۃ ألفاظ۔[إحداھا:دادہ کیر وکردہ کیر]،[والثانیۃ:دادہ باذہ ،باذ،وکردہ کیر] ، [والثالثۃ: دادہ است ،وکیردہ است]،[والرا بعۃ:دادہ انکار، وکردہ انکار]ففی الو جہ الأ ول والثانی :ینوی إن نوی الإیقاع یقع وإلا فلا لأنہ یحتمل الإیقاع والوعدوفی الو جہ الثالث :یقع نویٰ أو لم ینو ولا یصدق فی تر ک النیۃ قضاء لأ نہ تحقیق ظاھر وفی الو جہ الرا بع لا یقع نوی أو لم ینو لأنھافارسیۃ قو لہ عدی أنک طا لق ولو قال ذلک ونوی لا یقع۔الخ
قال العلامۃ ابن عابدینؒ: سئل فی الرجل اذا شک انہ طلق امرأتہ ام لا فھل لایقع علیہ الطلاق الجواب نعم لایقع الطلاق۔ (تنقیح الفتاویٰ الحامدیۃ:ج؍۱،ص؍۳۷، کتاب الطلاق)
قال مشایخنا رحمہم اﷲ تعالیٰ: ویحتاط في باب الفروج في جمیع المواضع نحو العتق في الجواري والطلاق في النساء في الشہادۃ وغیر ذلک۔ (الفتاوی الہندیۃ، کتاب أدب القاضي، قبیل الباب الثالث والعشرون، مکتبہ زکریا دیوبند قدیم ۳/۳۸۰، زکریا جدید ۳/۳۳۴)المحیط البرہاني، کتاب القضاء، الفصل الثاني والعشرون، المجلس العلمي۱۲؍۳۱۵، رقم:۱۴۴۵۴الفتاوی التاتارخانیۃ ،کتاب أدب القاضي، الفصل الثاني والعشرون، مکتبہ زکریا دیوبند۱۱؍۱۹۷
امدادالاحکام :
"ان الفاظ میں باوجود نیت کے فقہاء نے عدمِ وقوعِ طلاق کی تصریح فرمائی ہے، کیوں کہ یہ لفظ معنی وعدہ میں صریح ہے،جس کی نظیر یوں ہے کہ کوئی سوالِ طلاق کے بعد یوں کہے "طلاق کنم طلاق کنم" تو اس سے بمعنی وعد کے وقوع نہ ہوگا۔"(ج2،ص432، مکتبہ دار العلوم)
خیر الفتاویٰ (ج:۵ ؍ ۱۴۷ ) :
جواب:طلاق ہی سمجھو ’’دادہ انگار‘‘ کے مشابہہ ہے۔ لہٰذا عورت مذکورہ پر طلاق واقع نہیں ہوئی، بلکہ بدستور اپنے خاوند کے نکاح میں ہے‘‘۔
فتاوی دارالعلوم کراتشی:
"تم سمجھوکہ میں نے تمہیں طلاق دیدی" اس قسم کے الفاظ سے بھی طلاق نہیں ہوتی ،چنانچہ آپ دونوں کا نکاح برقرارہےالخ( ابراھیم عیسی/ 2ذیعقدہ 1434)
فتاوی دارالافتاء جامعة العلوم الاسلامیة بنوری ٹاؤن :
’’ طلاق سمجھو‘‘ کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی ہے([1])
نجم الفتاوی جلد 6 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع صفحہ نمبر: 58
’’سمجھ لے ‘‘مسئلے کا اصل مدا ر اس لفظ پر ہے۔ ’’کا غذ ہے‘‘ وغیر ہ تو کنا ئی الفاظ ہیں لیکن سمجھ لے کے ساتھ مل کر ان کا حکم کیا ہو گا، اصل اس کی تنقیح ضرو ری ہے۔ ’’سمجھ لے ‘‘ کاممکنہ تر جمہ عربی میں ’’احسبی ‘‘ سے کیا جا سکتا ہے ۔مصبا ح اللغات میں ’’حسب یحسب‘‘ (من باب سمع یسمع ) کا تر جمہ ’’گمان کرنا ‘‘ تحریر ہے۔ اسی سے ملتے جلتے الفا ظ ’’عد ی ‘‘ (شما ر کر) اورافر ضی (فرض کر) ہیں ۔احسبی ،عدی یا افرضی (گما ن کر ،شما ر کر ،فر ض کر ) میں سے احسبی (گمان کر ) ’’سمجھ لے‘‘ کے قریب تر ہے۔فقہا ء نے ان تمام الفا ظ میں احتما ل طلا ق ہو نے کی نفی کی ہے۔ عمو ما فقہا ء ایک مکا لمے کی صورت میں [جو کہ فا رسی میں ہے] اس کا عر بی تر جمہ ان الفاظ سے کر کے مع النیۃ بھی عد م وقو ع طلا ق کا حکم لگا تے ہیں ۔ فا رسی میں مکا لمہ یوں ہے کہ بیو ی کہتی ہے کہ ’’مرا طلا ق دہ‘‘ (مجھے طلاق دے ) شو ہر اس کے جوا ب میں کہتا ہے (دادہ آنکا ر) اس ’’دادہ آنکار ‘‘ کا تر جمہ فقہاء "افر ضی أنہ وقع" "عدی أنک طا لق" اور "احسبی"سے کر تے ہیں کہ[ شما ر کر لے کہ تو طلاق یا فتہ ہے ]،[فرض کر لے کہ وہ وا قع ہو گئی ہے] یا[ گمان کر لے]وغیر ہ ترا جم کرکے ان الفاظ میں مع النیہ بھی عدم وقوع کا قو ل کر تے ہیں ۔
البحرالرائق کی عبا رت ہے :
"معنى قوله داده أنكار افرضي أنه وقع أو احسبي فلا يقع به شيء وأنكار بفتح الهمزة وسكون النون وفتح الكاف الصماء وفي آخره راء مهملة ومعناه افرضي وقدري"(البحر ۴۸۱/۸)
اسکے مقا بلے میں اسی مکا لمے میں شو ہر کا ایک جواب ’’دادہ است ‘‘ (دے دی ہے ) بھی منقو ل ہے ۔اس میں فقہا ء بغیر نیت کے ہی طلا ق کےوقوع کے قائل ہیں ۔ اس کا معنی عر بی میں ’’اعطیت ‘‘سے کیا جا سکتا ہے ۔فقہاء ان دو نوں میں یہ فرق تحریر فرما تے ہیں کہ یہ[ دا دہ است] طلا ق کی خبر دینا ہے اور یہ اصول ہے کہ طلا ق کی جھو ٹی خبر سے انشا ء بن کر وقوع طلاق ہوجاتا ہے لہذا یہ ’’دادہ است‘‘ خبر کا ذب کی بنا ء پر انشا ء ہے، جبکہ ’’احسبی ،عدی ،افر ضی ‘‘میں اخبا ر نہیں ،بلکہ یہ حال میں طلاق کو گمان کر نے کا حکم ہے لہٰذا یہاں مع النیۃ بھی طلا ق کا وقو ع نہ ہو گا ۔
لما فی البحر الرا ئق (۴۸۱/۸):والفر ق بینھما أن فی الأ ولی اخباراعن الو قوع فیقع الطلا ق و فی الثانی لیس باخبارلأن معنی قو لہ دادہ انکا رافرضی۔ الخ ۔
جبکہ بعض فقہا ء نے فا رسی مکا لمے کے تر جمے میں یہ الفاظ ذکر کر نے کے بجا ئے مستقلا بھی ان الفاظ کو ذکر کیا ہے لیکن انہوں نے بھی نیت کے باوجود ،عد مِ وقوعِ طلاق کاحکم لگایا ہےاور احتمال کی نفی کی ہے۔مثلا خانیہ میں ہے:
"ولو قیل للرجل أطلقت امرأتک فقا ل عدّھا مطلقۃ واحسبھا مطلقۃ لا تطلق امرأتہ" ( الخا نیۃ۲۱۴/۲)
مآل بہر حال ایک ہی ہے کہ طلا ق واقع نہ ہوگی ۔الغرض’’احسبی ،افر ضی اور عد ی‘‘میں بتصر یح فقہا ء احتما ل طلا ق ہی نہیں ،لہذا ’’سمجھ لے ‘‘میں بھی کسی قسم کا احتما ل نہ ہو گا۔ اگر کو ئی نیت بھی کرتا ہے تو طلا ق کا وقوع نہ ہوگا ۔
[1] https://www.banuri.edu.pk/readquestion/shohar-ka-ye-kahnay-kay-main-ap-ko-talaq-day-chuka-hn-meri-taraf-say-lakh-talaq-samjho-kahnay-ka-hukum-144209200147/14-04-2021
صادق محمد
دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی
22 /ربیع الثانی /1448
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | صادق محمد بن زرفروش | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


