03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حرمتِ مصاہرت کے بعد نکاح اور ثبوتِ نسب کا حکم
92517نکاح کا بیانحرمت مصاہرت کے احکام

سوال

ایک عورت جس کے کسی غیر مرد سے ناجائز تعلقات تھے، اس عورت نے اپنے مرنے سے پہلے اپنی بیٹی کا نکاح اسی غیر مرد سے کرا دیا اور اس بیٹی کی اولاد بھی ہو چکی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس بیٹی کا نکاح اس غیر مرد سے منعقد ہوا تھا یا نہیں؟ اس بیٹی کی اولاد کا نسب کیا ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر ان ناجائز تعلقات میں مرد نے اس عورت کے ساتھ زنا یا دواعی زنا(اپنی شرائط کے ساتھ )کیے تو اس سے حرمت مصاہرت ثابت ہوگئی ، جس کی بناء پر اس عورت کی بیٹی اس مرد پر ہمیشہ کیلئے حرام ہوگئی ۔ لہٰذا، اس مرد کا اس عورت کی بیٹی سے کیا گیا نکاح شرعاً منعقد نہیں ہوا ، اور ان دونوں پر فوراً ایک دوسرے سے الگ ہونا لازم ہے ۔ لیکن اگر ناجائز تعلقات صرف موبائل فون یا دور سے باتوں و رابطے کی حد تک تھے تو پھر  اس عورت کی بیٹی سے اس مرد کا  نکاح جائز تھا  اور منعقد بھی ہوگیا تھا  ۔

دواعی زنا اور ان کی شرائط درج  ذیل ہیں :

1۔عورت کے کسی بھی عضو کو بلا حائل شہوت کے ساتھ چھونا، یا ایسے باریک کپڑے کے اوپر سے چھونا جس سے جسم کی حرارت محسوس ہو۔

2۔ عورت کو شہوت  کے ساتھ بوسہ دینا ، چومنا (خواہ منہ پر ہو یا چہرے اور جسم کے دیگر اعضاء پر)۔

3۔ عورت کو شہوت سے گلے لگانا، چٹکی کاٹنا (قرص)، یا دانت سے کاٹنا۔

4۔مرد کا کسی مشتہاۃ عورت کے فرجِ داخل (باطن) کو براہِ راست شہوت کے ساتھ دیکھنا۔

5۔عورت کا مرد کے آلہ تناسل کو شہوت کے ساتھ دیکھنا یا چھونا ۔

شرائط:دواعی زناسےحرمتِ مصاہرت کے ثبوت کے لیے چند شرائط کا  بیک وقت پایا جانا ضروری ہے۔اگر ان میں سے کوئی بھی شرط نہ پائی جائے  تو حرمتِ مصاہرت ثابت نہ ہوگی۔وہ شرائط درج  ذیل ہیں:

.1جس عورت کو چُھوا ہو وہ مشتہاۃ ہو ،یعنی جس کی طرف شہوت پیدا ہوتی ہو اور مفتی بہ قول کے مطابق نو (9) سال کی لڑکی مشتہاة ہے۔

.2چھوتےوقت دونوں میں یا کسی ایک میں شہوت پیدا ہو، مرد کے لیے شہوت کا معیار یہ ہے کہ اس کے آلہ تناسل میں انتشار پیدا ہوجائے،اور اگر آلہ تناسل پہلے سے منتشر ہو تو اس میں اضافہ ہوجائے،اور بیمار اور بوڑھےمرد جن کو انتشار نہیں ہوتا اور عورتوں کے لیے شہوت کا معیا ر یہ ہے کہ دل میں ہیجان کی کیفیت پیدا ہو،اور دل کا ہیجان پہلے سے ہو تو اس میں اضافہ ہوجائے۔

.3کسی کپڑے وغیرہ کے بغیر چُھوا ہو یا کوئی ایساباریک کپڑا درمیان میں حائل ہو کہ جسم کی حرارت محسوس ہوئی ہو۔

.4شہوت چھونے کے ساتھ ملی ہوئی ہو،اگر چھوتے وقت شہوت پیدا نہ ہو ،پھر بعد میں شہوت پیدا ہو تو اس کا اعتبار نہیں ہے۔

.5شہوت کی وجہ سے اس عورت کے بارے میں غلط خیال (شہوتِ جماع) دل میں پیدا ہوا ہو۔

.6اس وقت انزال بھی نہ ہوا ہو، اگر اسی وقت انزال ہو گیا تو حرمت ثابت نہ ہو گی۔

جہاں تک  اس نکاح کے نتیجے میں ہونے والی اولاد کے ثبوت نسب کی بات ہے، تو  وہ  بہر صورت شرعاً اسی مرد کی شرعی و نسبی اولاد شمار ہوگی۔اس لیے کہ نکاح فاسد والی صورت میں اگرچہ یہ نکاح شرعاً فاسد تھا، مگرفقہِ حنفی میں  اولاد کی حیات کے تحفظ کی خاطر نکاحِ فاسد میں بھی نسب ثابت ہو جاتا ہے۔

حوالہ جات

«الاختيار لتعليل المختار» (3/ 88):

«قال: (والزنا يوجب حرمة المصاهرة) ، فمن زنى بامرأة أو وطئها بشبهة حرمت عليه أصولها وفروعها، وتحرم الموطوءة على أصول الواطئ وفروعه. (وكذا المس بشهوة من الجانبين والنظر إلى الفرج من الجانبين أيضا) ، والمعتبر النظر إلى فرجها الباطن دون الظاهر. روي ذلك عن أبي يوسف، وهو الصحيح.»

«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 274):

«وكما تثبت هذه الحرمة بالوطء تثبت بالمس والتقبيل والنظر إلى الفرج بشهوة، كذا في الذخيرة. سواء كان بنكاح أو ملك أو فجور عندنا، كذا في الملتقط. قال أصحابنا: الربيبة وغيرها في ذلك سواء هكذا في الذخيرة. والمباشرة عن شهوة بمنزلة القبلة وكذا المعانقة وهكذا في فتاوى قاضي خان. وكذا لو عضها بشهوة هكذا في الخلاصة. فإن نظرت المرأة إلى ذكر الرجل أو لمسته بشهوة أو قبلته بشهوة تعلقت به حرمت المصاهرة، كذا في الجوهرة النيرة. ولا تثبت بالنظر إلى سائر الأعضاء إلا بشهوة ولا بمس سائر الأعضاء لا عن شهوة بلا خلاف، كذا في البدائع. والمعتبر النظر إلى الفرج الداخل هكذا في الهداية. وعليه الفتوى هكذا في الظهيرية وجواهر الأخلاطي. قالوا: لو نظر إلى فرجها وهي قائمة لا تثبت حرمة المصاهرة، وإنما يقع النظر في الداخل إذا كانت قاعدة متكئة، كذا في فتاوى قاضي خان.ولو نظر إلى فرج امرأة بشهوة وراء ستر رقيق أو زجاج يستبين فرجها تثبت حرمة المصاهرة ولو نظر في مرآة ورأى فيها فرج امرأة فنظر عن شهوة لا تحرم عليه أمها وابنتها؛ لأنه لم ير فرجها وإنما رأى عكس فرجها ولو كانت المرأة على شط حوض أو على قنطرة فنظر الرجل في الماء فرأى فرجها فنظر عن شهوة لا تثبت الحرمة، كذا في فتاوى قاضي خان. وهو الصحيح، كذا في الخلاصة. ولو كانت المرأة في الماء فرأى الرجل فرجها ونظر عن شهوة تثبت الحرمة، كذا في فتاوى قاضي خان. وإذا نظر الرجل فرج ابنته بغير شهوة فتمنى أن يكون له جارية مثلها فوقعت منه شهوة مع وقوع بصره قالوا إن كانت الشهوة وقعت على ابنته حرمت عليه امرأته وإن كانت الشهوة وقعت على التي تمناها لا تحرم؛ لأن نظره في هذه الصورة إلى فرج ابنته لم يكن عن شهوة، كذا في فتاوى قاضي خان والذخيرة. ثم لا فرق في ثبوت الحرمة بالمس بين كونه عامدا أو ناسيا أو مكرها أو مخطئا، كذا في فتح القدير. أو نائما هكذا في معراج الدراية.»

«البناية شرح الهداية» (5/ 182):

«ويثبت نسب ولدها منه، لأن النسب يحتاط في إثباته إحياء للولد، فيترتب على الثابت من وجه. وتعتبر مدة النسب من وقت الدخول عند محمد رحمه الله، وعليه الفتوى؛ لأن النكاح الفاسد ليس بداع إليه والإقامة باعتباره.»

«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 330):

«ويثبت نسب الولد المولود في النكاح الفاسد وتعتبر مدة النسب من وقت الدخول عند محمد - رحمه الله تعالى - وعليه الفتوى قاله أبو الليث كذا في التبيين. والنكاح الفاسد لا حكم له قبل الدخول حتى لو تزوج امرأة نكاحا فاسدا بأن مس أمها بشهوة ثم تركها له أن يتزوج الأم كذا في الخلاصة»

عبدالغفار بن غلام اکبر

دارالافتاء جامعتہ الرشید کراچی

02/جمادی الاولی/1448

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالغفار بن غلام اکبر

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب