| 92653 | جائز و ناجائزامور کا بیان | عورت کو دیکھنے ، چھونے اورجماع کرنے کے احکام |
سوال
ا جنبی مرد اور عورت کا ایک دوسرے کو سلام کرنا یا سلام کا جواب دینا شرعاً کیسا ہے؟ اگر سلام کا جواب دینا ہو تو کیا دل میں جواب دینا کافی ہے یا آواز سے جواب دینا ضروری ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت میں سلام کرنا سنت اور اس کا جواب دینا واجب ہے، تاہم اجنبی مرد اور عورت کے بارے میں فقہائے کرام نے فتنے کے اندیشے کی بنا پر خصوصی احکام بیان فرمائے ہیں۔
اگر مرد اور عورت دونوں جوان ہوں اور ایک دوسرے کے لیے اجنبی (نامحرم) ہوں، تو بلا ضرورت ایک دوسرے کو سلام کرنا مکروہ ہے، کیونکہ اس سے فتنہ پیدا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اسی بنا پر فقہِ حنفی میں یہ تصریح کی گئی ہے کہ اگر جوان عورت کسی اجنبی مرد کو سلام کرے، تو مرد زبان سے جواب نہ دے بلکہ دل میں جواب دے، اور اگر جوان مرد سلام کرے، تو اجنبی جوان عورت بھی زبان سے جواب نہ دے بلکہ دل ہی میں جواب دے۔
البتہ بوڑھی عورتe کوسلام کرنا اور اس کے سلام کا زبان سے جواب دینا جائز ہے۔
اسی طرح اگر کسی شرعی یا دنیوی ضرورت کے تحت اجنبی مرد اور عورت کے درمیان گفتگو کی ضرورت پیش آئے، تو بقدرِ ضرورت سلام کرنا اور اس کا جواب دینا بھی جائز ہے، بشرطیکہ گفتگو شرعی حدود، حیا اور وقار کے مطابق ہو اور فتنے کا اندیشہ نہ ہو۔
حوالہ جات
الفتاوى الھندیۃ، :5\326
وإذا سلمت المرأة الأجنبية على رجل، إن كانت عجوزا، رد الرجل عليها السلام بلسانه بصوت تسمع، وإن كانت شابة، رد عليها في نفسه. والرجل إذا سلم على امرأة أجنبية فالجواب فيه على العكس."
عابداللہ بن لاجبرخان
دارالافتاء جامعہ الرشید کراچی
06/ربیع الثانی /8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عابد اللّہ بن لاجبر خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


