| 92654 | جائز و ناجائزامور کا بیان | لباس اور زیب و زینت کے مسائل |
سوال
کیا مرد شادی کے موقع پر زینت کی غرض سے اُبٹن یا مہندی لگا سکتے ہیں؟ اس بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ مردوں کے لیے شادی یا کسی بھی خوشی کے موقع پر زینت کی غرض سے ہاتھوں یا پاؤں پر مہندی لگانا جائز نہیں، کیونکہ یہ عورتوں کی مخصوص زینت میں شمار ہوتا ہے، اور مردوں کو عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
جہاں تک اُبٹن کا تعلق ہے، اگر اسے محض جسم کی صفائی، میل کچیل دور کرنے، جلد کی حفاظت یا علاج کی غرض سے استعمال کیا جائے، تو اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔ لیکن اگر اسے عورتوں کے مخصوص بناؤ سنگھار کی مشابہت، شادی کی لازمی رسم یا محض نمائش و زینت کے طور پر اختیار کیا جائے، تو ایسا کرنا درست نہیں۔
اسی طرح شادی کے موقع پر دولہا کو اُبٹن لگانے کی مروجہ رسم کو ضروری یا باعثِ برکت سمجھنا، یا اسے شادی کی لازمی تقریب کا حصہ قرار دینا شرعاً درست نہیں، کیونکہ ایسی رسومات کی شریعت میں کوئی اصل نہیں۔ خصوصاً اگر ان میں اسراف، بے پردگی، یا غیر مسلم اقوام کی مشابہت پائی جائے، تو ان سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔
حوالہ جات
رد المحتار على الدر المختار: (6 / 422):
"(قوله: خضاب شعره ولحيته ) لا يديه ورجليه؛ فإنه مكروه للتشبه بالنساء ، (قوله: والأصح أنه عليه الصلاة والسلام لم يفعله )؛ لأنه لم يحتج إليه؛ لأنه توفي ولم يبلغ شيبه عشرين شعرةً في رأسه ولحيته بل كان سبع عشرة، كما في البخاري وغيره، وورد أن أبا بكر رضي الله عنه خضب بالحناء والكتم.
عابداللہ بن لاجبرخان
دارالافتاء جامعہ الرشید کراچی
06/ربیع الثانی /8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عابد اللّہ بن لاجبر خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


