03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جوتا چھپائی اور دودھ پلائی کے نام پر رقم لینے دینے کا شرعی حکم
92655سنت کا بیان (بدعات اور رسومات کا بیان)متفرّق مسائل

سوال

 شادیوں میں جوتا چھپائی، دودھ پلائی اور اسی نوعیت کی دیگر رسومات کے نام پر رقم کا مطالبہ کرنا یا لین دین کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کسی بھی مسلمان کا مال اس کی دلی رضامندی کے بغیر لینا جائز نہیں۔ اس لیے شادیوں میں جوتا چھپائی، دودھ پلائی اور اسی نوعیت کی دیگر رسومات کے نام پر دولہا یا اس کے اہلِ خانہ سے رقم کا مطالبہ کرنا، یا سماجی دباؤ، شرم و حیا یا رسم و رواج کی بنا پر رقم دینے پر مجبور کرنا شرعاً جائز نہیں۔

جوتا چھپائی، دودھ پلائی اور اس نوعیت کی مروجہ رسومات کی شریعت میں کوئی اصل نہیں، لہٰذا انہیں لازمی رسم سمجھنا، ان کے نام پر رقم کا مطالبہ کرنا یا نہ دینے کی صورت میں ناراضی، شرمندگی یا خاندانی دباؤ پیدا کرنا جائز نہیں۔

البتہ اگر دولہا یا اس کے اہلِ خانہ بغیر کسی مطالبے، دباؤ یا رسم کی پابندی کے، اپنی مکمل دلی رضامندی سے خوشی کے طور پر کوئی رقم یا تحفہ دیں تو یہ ہبہ (تحفہ) کے حکم میں ہوگا اور شرعاً اس کی گنجائش ہے۔

نیز ان رسومات میں اکثر نامحرم مردوں اور عورتوں کا اختلاط، بے تکلفی، ہنسی مذاق اور دیگر غیر شرعی امور شامل ہوجاتے ہیں، جو ان کی قباحت میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ نکاح جیسی مبارک سنت کو غیر شرعی رسومات سے پاک رکھیں اور سادگی، وقار اور اسلامی تعلیمات کے مطابق تقریبات کا اہتمام کریں۔

حوالہ جات

 عابداللہ بن لاجبرخان

دارالافتاء  جامعہ الرشید کراچی

06/ربیع الثانی /8144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عابد اللّہ بن لاجبر خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب