03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نکاح کے وقت مالی ضمانت اور اضافی شرائط مقرر کرنے کا شرعی حکم
92656نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

کیا نکاح کے موقع پر لڑکی کی جانب سے پانچ لاکھ روپے بطور سیکیورٹی، پلاٹ، دو تولہ سونا یا دیگر مالی شرائط عائد کرنا شرعاً درست ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے  کہ  مہر عورت کا شرعی حق ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ کوئی حد مقرر نہیں۔ لہٰذا پانچ لاکھ روپے، پلاٹ، دو تولہ سونا یا کوئی دوسری مالیت رکھنے والی اور شرعاً قابلِ تملیک چیز مہر میں مقرر کرنا جائز ہے۔

اگر پانچ لاکھ روپے بطور سیکیورٹی سے مراد مؤخر مہر ہے، یعنی شوہر کے ذمے واجب الادا مہر کا وہ حصہ جو بعد میں ادا کیا جائے، تو یہ شرعاً جائز ہے۔

لیکن اگر سیکیورٹی سے مراد مہر کے علاوہ کوئی ایسی مالی شرط ہو جو ضمانت یاجرمانے کے طور پر عائد کی جائے، یا لڑکی کے والدین و رشتہ دار اپنے لیے رقم، قیمتی تحائف، پلاٹ یا دیگر مالی فوائد کا مطالبہ کریں، تو ایسی شرائط شرعاً درست نہیں، کیونکہ یہ غیر شرعی مالی مطالبات ہیں اور نکاح کو غیر ضروری طور پر دشوار بناتے ہیں۔

حوالہ جات

 

 

 عابداللہ بن لاجبرخان

دارالافتاء  جامعہ الرشید کراچی

06/ربیع الثانی /8144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عابد اللّہ بن لاجبر خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب