حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کے بارے میں متعدد روایات وارد ہوئی ہیں۔چنانچہ:
1-ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امِ ایمن رضی اللہ عنہا کے ساتھ ان کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے گھر بھیجا اور بعد میں خود جا کر دونوں کو دعا دی۔
2-ایک روایت میں ہے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو رخصتی کے وقت اپنے گھر بلوایا ۔
3-ایک روایت یہ بیان کی جاتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس رضی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا کہ حضرت ابوبکر،حضرت عمر اور بعض دیگر صحابہ رضی اللہ عنھم کو بلائیں،تاکہ ان کے سامنے نکاح کا خطبہ پڑھا جائے۔
4-ایک روایت یہ بیان کی جاتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جہیز بھی دیا تھا،جو ایک مشکیزے،چکی اور کچھ ضروری سامان پر مشتمل تھا۔(مواہبِ لدنیہ و شرحہ)
درج بالا احادیث کی صحت و ضعف کے اعتبار سے حیثیت واضح کریں اور راجح کی تعیین کریں!
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ روایات میں سے پہلی،دوسری اور چوتھی روایت کا مفہوم یکجا طور پر ایک طویل روایت میں آیا ہے،جس میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔پہلی دو روایتوں میں کو ئی تعارض نہیں ہے،کیونکہ عقدِ نکاح کے وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی علیہ السلام کے پاس آئے تھے اور رخصتی کے وقت حضرت امِ ایمن رضی اللہ عنہا کے ساتھ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گھر بھیجا گیا تھا،پھر وہیں جاکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا دی تھی۔اِس روایت کو علامہ ابنِ حبانؒ نے صحیح ابنِ حبان میں،علامہ طبرانیؒ نے معجمِ کبیر میں،علامہ عبدالرزاقؒ نے مصنفِ عبدالرزاق میں اور علامہ قسطلانیؒ نے مواہبِ لدنیہ میں نقل فرمایا ہے۔اِس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں سوائے یحی بن یعلی اسلمیؒ کے،اِن کو محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے،جس کی وجہ سے یہ روایت بالاتفاق ضعیف ہے،لیکن چونکہ اِس روایت کے مضمون کی تائید دوسری روایات سے بھی ہوتی ہے،اِس لیے یہ روایت فضائل کے باب میں قابلِ قبول ہے۔ذیل میں صحیح ابنِ حبان سے اِس روایت کو یہاں ذکر کرتے ہیں،اس کے بعد حضرت یحی بن یعلیؒ کے بارے میں ائمہ جرح و تعدیل کی آراء ذکر کی جائیں گی۔
حوالہ جات
قال العلامۃ ابن حبان البستی رحمہ اللہ: أخبرنا أبو شيبة داود بن إبراهيم بن داود بن يزيد البغدادي بالفسطاط، حدثنا الحسن بن حماد، حدثنا يحيى بن يعلى الأسلمي، عن سعيد بن أبي عروبة، عن قتادة، عن أنس بن مالك، قال: جاء أبو بكر إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقعد بين يديه، فقال: يا رسول الله!قد علمت مناصحتي وقدمي في الإسلام وإني وإني.قال: «وما ذاك؟ »، قال: تزوجني فاطمة. قال: فسكت عنه، فرجع أبو بكر إلى عمر، فقال له: قد هلكت وأهلكت، قال: وما ذاك؟ قال: خطبت فاطمة إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فأعرض عني، قال: مكانك حتى آتي النبي صلى الله عليه وسلم، فأطلب مثل الذي طلبت، فأتى عمر النبي صلى الله عليه وسلم، فقعد بين يديه، فقال: يا رسول الله!قد علمت مناصحتي وقدمي في الإسلام، وإني وإني، قال: «وما ذاك؟ »، قال: تزوجني فاطمة، فسكت عنه، فرجع إلى أبي بكر، فقال له: إنه ينتظر أمر الله فيها ،قم بنا إلى علي حتى نأمره يطلب مثل الذي طلبنا، قال علي: فأتياني وأنا أعالج فسيلا لي، فقالا: إنا جئناك من عند ابن عمك بخطبة، قال علي: فنبهاني لأمر، فقمت أجر ردائي، حتى أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقعدت بين يديه، فقلت: يا رسول الله، قد علمت قدمي في الإسلام ومناصحتي، وإني وإني، قال: «وما ذاك؟ » قلت: تزوجني فاطمة، قال: «وعندك شيء»، قلت: فرسي وبدني، قال: «أما فرسك فلا بد لك منه، وأما بدنك فبعها»، قال: فبعتها بأربع مائة وثمانين، فجئت بها حتى وضعتها في حجره، فقبض منها قبضة، فقال: «أي بلال! ابتغنا بها طيبا» وأمرهم أن يجهزوها ،فجعل لها سريرا مشرطا بالشرط، ووسادة من أدم حشوها ليف، وقال لعلي: «إذا أتتك فلا تحدث شيئا، حتى آتيك» ،فجاءت مع أم أيمن حتى قعدت في جانب البيت وأنا في جانب وجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: «ها هنا أخي؟ »، قالت أم أيمن: أخوك وقد زوجته ابنتك؟ قال: «نعم»، ودخل رسول الله صلى الله عليه وسلم البيت فقال لفاطمة: «إيتيني بماء»، فقامت إلى قعب في البيت فأتت فيه بماء، فأخذه صلى الله عليه وسلم ومج فيه ثم قال لها: «تقدمي»، فتقدمت فنضح بين ثدييها وعلى رأسها، وقال: «اللهم إني أعيذها بك وذريتها من الشيطان الرجيم»، ثم قال صلى الله عليه وسلم لها: «أدبري»، فأدبرت، فصب بين كتفيها، وقال: «اللهم إني أعيذها بك وذريتها من الشيطان الرجيم» ثم قال صلى الله عليه وسلم: «إيتوني بماء»، قال علي: فعلمت الذي يريد، فقمت، فملأت القعب ماء، وأتيته به، فأخذه ومج فيه، ثم قال لي: «تقدم» فصب على رأسي وبين ثديي، ثم قال: «اللهم إني أعيذه بك وذريته من الشيطان الرجيم»، ثم قال: «أدبر»، فأدبرت، فصبه بين كتفي، وقال: «اللهم إني أعيذه بك وذريته من الشيطان الرجيم»، ثم قال لعلي: «ادخل بأهلك، بسم الله والبركة» (صحيح ابن حبان : 6944 )
اب یحی بن یعلیؒ راوی سے متعلق ائمہ کرامؒ کی آراء ذکرتے ہیں:
یحی بن یعلی اسلمیؒ:
علامہ عبداللہ بن دورقیؒ ،یحی بن معینؒ سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:” ليس بشيء“.
امام بخاری ؒ فرماتے ہیں:” مضطرب الحديث“. امام ابو حاتمؒ فرماتے ہیں: ضعيف الحديث ،ليس بالقوي.علامہ ابنِ عدی فرماتے ہیں:” کوفی،من الشیعۃ“.علامہ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ ابن حبان ؒ نے اپنی صحیح میں یحی بن یعلیؒ سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کے بارے میں حدیث نقل فرمائی ہے،لیکن اِس حدیث میں کچھ نکارت ہے۔
قال العلامۃ ابن حجر رحمہ اللہ:قال عبد الله بن الدورقي عن يحيى بن معين :ليس بشيء .وقال البخاري: مضطرب الحديث. وقال أبو حاتم :ضعيف الحديث ,ليس بالقوي .وقال بن عدي : کوفی من الشیعۃ.
قلت :وأخرج بن حبان له في صحيحه حديثا طويلا في تزويج فاطمة، فيه نكارة. وقد قال بن حبان في الضعفاء :يروي عن الثقات المقلوبات، فلا أدري ممن وقع ذلك منه أو من الراوي عنه أبي ضرار بن صرد، فيجب التنكب عما رويا. (تهذيب التهذيب لأبن حجر :10/ 213)
1ئمہ کرامؒ کے اقوال کا حاصل:
لیس بشیء:
حافظ منذری ؒ فرماتے ہیں کہ جب یہ لفظ ایسے راوی کے بارے میں بولا جائے جس کا ضعف مشہور ہو اور کسی نے بھی اس کی توثیق نہ کی ہو تو ایسے راوی کی روایت ناقابلِ احتجاج ہوتی ہے۔
قال الحافظ المنذري: وإن كان الذي قيل فيه ذلك مشهورا بالضعف، ولم يوجد من الأئمة من يحسن أمره، فيكون محمولا على أن حديثه ليس بشيء يحتج به ولا يعتبر به ولا يستشهد به، ويلتحق هذا بالمتروك، والله عز وجل أعلم. (جواب الحافظ المنذري عن أسئلة في الجرح والتعديل ،ص: 86)
مضطرب الحدیث:
جب راوی ضعیف ہو،لیکن تعددِ طرق اور متابع و شواہد کی وجہ سے ضعف کا انجبار ہو جاتا ہو تو اس کی روایت دو وجہ سے ضعیف شمار ہوگی:ایک تو راوی کے ضعف کی وجہ سے اور دوسرا اضطراب کی وجہ سے۔پھر تعددِ طرق کی وجہ سے اس میں قوت آجائے گی۔
وإن كان الراوي في مرتبة الاعتبار (الضعيف المنجبر) ، واضطرب في الحديث، ضعف الحديث لأمرين:لضعف راويه،ولاضطرابه فيه…الاضطراب من أسباب ضعف الحديث.وهذا الضعف ليس شديداً بل هو من الضعف المنجبر.فإذا كان الاضطراب من الراوي المقبول أوْ الراوي الضعيف الذي ينجبر ضعفه بمتابعة أو شاهد؛ فإنه يَتَقوّى بالمجموع.ففي السند إذا روى الحديث موصولاً ومرسلاً. وجاء ما يقويه من متابعة أو شاهد معتبر تقوى به.وفي المتن إذا جاء الحديث بألفاظ مضطربة. وجاء ما يقوى بعض هذه الألفاظ تقوى به.) المقترب في بيان المضطرب: 58)
الحديث المضطرب ضعيف؛ لأن الاختلاف فيه مشعر بعدم ضبط راويه.( أثر علل الحديث في اختلاف الفقهاء: 198)
ضعیف الحدیث،لیس بالقوی:
ان الفاظ سے ابوحاتمؒ کی مراد یہ ہے کہ یہ راوی مجروح تو ہے،لیکن اس کی عدالت ساقط نہیں۔
الغاية فى شرح الهداية فى علم الرواية (ص: 124)
وَقد رتب ابْن أَبى حَاتِم أَلْفَاظه أَيْضا، وفصلها النَّاظِم بِالْفَاءِ كألفاظ التَّعْدِيل (الأول) : أدناها " لين الحَدِيث "، وحققها كميت فى ميت؛ فَهَذَا يكْتب حَدِيثهَا ينظر اعْتِبَارا، (الثانى) : لَيْسَ بقوى، وَهُوَ كَالْأولِ فى كتب حَدِيثه ،لكنه دونه
کوفی من الشیعۃ:
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل سے متعلق چند روایات یحی بن یعلیؒ سے مروی ہیں،لیکن کسی سے بھی ان کے متعصب ہونے کے بارے میں تصریح منقول نہیں۔علامۃ ابن جنید فرماتے ہیں : سألت يحيى عن يحيى بن يعلى الأسلمي، فقال: «كان عابدًا»(سؤالات ابن الجنيد: 481)
خلاصہ کلام:
خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ بالا الفاظ اور ان کی تشریح سے معلوم ہوا کہ یحی بن یعلیؒ بالاتفاق ضعیف ہیں،اولاً:مضطرب الحدیث،ضعیف الحدیث،لیس بالقوی وغیرہ ان کے حافظے کے ضعف پر دلالت کر رہے ہیں،ثانیاً ”کوفی من الشیعۃ“ سے تعصب کا بھی امکان ہے۔لہذا ان کی مذکورہ روایت ضعیف تو ضرور ہے،لیکن اول کا انجبار متابع و شواہد اور تعددِ طرق سے اور ثانی کا انجبار”کان عابداً“سے ہو سکتا ہے۔لہذا اس روایت کو فضائل کی حد تک قبول کیا جا سکتا ہے۔
فی مقدمۃ ابن الصلاح:ليس كل ضعف يزول بمجيئه من وجوه ، بل ذلك يتفاوت ، فمنه ضعف يزيله ذلك بأن يكون ضعفه ناشئاً من ضعف حفظ راويه مع كونه من أهل الصدق والديانة ، فإذا رأينا ما رواه قد جاء من وجه آخر عرفنا أنه مما قد حفظه ، ولم يختل ضبطه له.(مقدمۃ ابن صلاح:34)
وقال بعضهم:إن كان الضعيف من جهة سوء حفظ أو اختلاط أو تدليس مع وجود الصدق والديانة ينجبر بتعدد الطرق .(مقدمة في أصول الحديث: 84)
متابع و شواہد:
مصنف عبدالرزاق میں اسی مضمون کی دو روایتیں الگ الگ طرق سے مروی ہیں،ایک روایت(9781)اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے اور دوسری(9782)ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔دوسری روایت یحی بن العلاء البجلیؒ کی وجہ سے ضعیف ہے،لیکن پہلا طریق مذکورہ روایت کےلیے شاہد بن سکتا ہے۔گھریلو اشیاء دینے کے مضمون کی تائید بہت سی صحیح روایات سے بھی ہوتی ہے،جیسا کہ چوتھی روایت میں تفصیل آ رہی ہے۔اس کے علاوہ معجم کبیر طبرانی،طبقات ابن سعد اور مواہبِ لدنیہ میں یہ روایت متعدد طرق سے مروی ہے۔علامہ ابن حبانؒ کا اس کو اپنی صحیح میں ذکر کرنا بھی اس قلتِ ضعف پر دلالت کرتا ہے۔واللہ آعلم بالصواب
تیسری روایت:
تیسری روایت ایک طویل روایت کا ٹکڑا ہے،جس کو علامہ آجریؒ نے ”الشریعۃ“ میں نقل کیا ہے۔اِس روایت کو علامہ ابن جوزیؒ نے ”الموضوعات لابن جوزی:1/417“میں،علامہ ذھبیؒ نے”المغنی فی الضعفاء:1/195“میں اور علامہ کنانیؒ نے”تنزیہ الشریعۃ:1/81“میں موضوع قرار دیاہے۔وضع کی نسبت محمد بن دینار راوی کی طرف کی گئی ہے۔ علامہ سیوطیؒ نے”اللآلی المصنوعۃ:2/7“میں اِس کے موضوع ہونے کو برقرار رکھا ہے۔ذیل میں اس روایت کا شروع والا حصہ ذکر کرتے ہیں:
فی ”الشریعۃ“: وحدثنا أبو عبد الله محمد بن مخلد العطار قال: حدثنا أبو الحسن محمد بن نهار بن عمار بن يحيى ،عن يعلى التيمي قال: حدثنا عبد الملك بن خيار ابن عم ،يحيى بن معين قال: حدثنا محمد بن دينار الغرقي ، بساحل دمشق قال: حدثنا هشيم ، عن يونس ، عن الحسن ،عن أنس قال: بينا أنا قاعد ، عند النبي صلى الله عليه وسلم إذ غشيه الوحي ، فلما سرى عنه قال لي: «يا أنس ! تدري ما جاءني به جبريل عليه السلام من صاحب العرش عز وجل؟» قلت: بأبي وأمي ما جاءك به جبريل عليه السلام من صاحب العرش عز وجل؟ قال: «إن الله عز وجل أمرني أن أزوج فاطمة من علي ، انطلق وادع لي أبا بكر ،وعمر ، وعثمان ،وعليا ، وطلحة ، والزبير ، وبعدتهم من الأنصار» قال: فدعوتهم ،فلما أخذوا مقاعدهم قال النبي صلى الله عليه وسلم: " الحمد لله المحمود بنعمه ، المعبود بقدرته ، المطاع بسلطانه . (الشريعة للآجري ،ح: 1615)
وفی المواھب الدنیۃ: قال أنس: ثم دعانى عليه السّلام بعد أيام ،فقال لى: يا أنس: «ادع لى أبا بكر وعمر وعثمان وعبد الرحمن وعدة من الأنصار» ، فلما اجتمعوا وأخذوا مجالسهم وكان على غائبا ،فقال صلى الله عليه وسلم:«الحمد لله المحمود بنعمته…
(المواهب اللدنية بالمنح المحمدية :1/ 235)
قال العلامۃ الذھبی رحمہ اللہ: عبد الملك بن خيار عن محمد بن دينار عن هشيم بخبر موضوع. (المغني في الضعفاءللذهبي : 195)
قال العلامۃ الکنانی رحمہ اللہ: عبد الملك بن خيار عن محمد بن دينار عن هشيم مجهول والحديث كذب. (تنزيه الشريعة المرفوعة :1/ 83)
وفی اللآلی المصنوعۃ: موضوع وضعه ابن دينار (قلت) أخرجه ابن عساكر وقال غريب لا أعلمه يروي إلا بهذا الإسناد
قال: وذكر أبو الفضل محمد بن طاهر المقدسي في كتاب تكملة الكامل في معرفة الضعفاء،قال: محمد بن دينار روى عن هشيم عن يونس بن عبيد عن الحسن عن أنس تزويج علي بفاطمة والراوي عنه من أهل الساحل دمشقي فيه جهالة والله أعلم
. (اللآلئ المصنوعة في الأحاديث الموضوعة :2/ 7)
خلاصہ یہ ہے کہ یہ روایت موضوع اور ساقط الاعتبار ہے۔
چوتھی روایت:
چوتھی روایت جس میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو رخصتی کے وقت گھر کا کچھ سامان دینے کا ذکر ہے،اس کو امام طبرانیؒ کے علاوہ امام نسائیؒ نے سننِ نسائی میں،امام ابنِ ماجہؒ نے سننِ ابنِ ماجہ میں،ابنِ حبانؒ نے اپنی صحیح میں اورحاکمؒ نے مستدرکِ حاکم میں ذکر فرمایا ہے۔مندرجہ ذیل طریق مستدرکِ حاکم سے نقل کیا گیا ہے۔اِس میں تمام راوی ثقہ ہیں اور امام حاکمؒ فرماتے ہیں:” هذا حديث صحيح الإسناد“.لہذا یہ حدیث صحیح ہے۔
2755 - حدثنا أبو بكر بن إسحاق، الفقيه وأبو بكر بن بالويه قال الشيخ أبو بكر: أنبأ، وقال ابن بالويه: ثنا محمد بن أحمد بن النضر، ثنا معاوية بن عمرو، ثنا زائدة، عن عطاء بن السائب، عن أبيه، عن علي رضي الله عنه، قال: «جهز رسول الله صلى الله عليه وسلم فاطمة رضي الله عنها في خميل وقربة ووسادة من أدم حشوها ليف». هذا حديث صحيح الإسناد".