| 71158 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے شوہر نے مجھ سے دوسری شادی کی جس سے میرے سات بچے ہیں،پانچ لڑکے اور دو لڑکیاں ،جبکہ پہلی بیوی سے بھی ان کے چھ بچے ہیں جن میں تین لڑکے اور تین لڑکیاں ہیں،میرے شوہر نے مجھے پانچ تولہ سونا مہر اور دو تولہ سونا مجھے گفٹ کیا تھا،ایک دن میرے شوہر نے میری بیٹی کو کہا کہ تم اپنی ماں کو کہو کہ یہ سونا بیچ کر مجھے پیسےدے، مجھے پیسوں کی ضرورت ہے ۔میرے پاس ایک زمین ہے ،میں وہ فروخت کرکے پیسے ضرور واپس کردوں گا،چناچہ میں نے پانچ تولہ سونا فروخت کرکے اپنے شوہر کو رقم دے دی۔
اب میرے شوہر کا انتقال ہوگیا ہے،جبکہ اس سونے کی رقم بھی مجھے ابھی تک واپس نہیں ملی،البتہ انہوں نے جو زمین فروخت کی تھی ،اس میں سے اکتیس (31)لاکھ روپے آنا باقی ہیں ۔میرے شوہر کہتے تھے :میرا جو کچھ بچے گا ،وہ سب تیرا ہے ،تاکہ تمہیں کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانے پڑیں۔
سوال یہ ہے کہ اس آنے والی رقم میں میرا حصہ کتنا بنے گا؟جبکہ میرے خاوند پر کچھ لوگوں کے قرضے بھی ہیں ۔نیز پہلے خاوند سے میری ایک بیٹی بھی ہے شرعی لحاظ سے اس کا کتنا حصہ بنے گا؟شرعی رہنمائی فرمائیں۔
تنقیح:مرحوم کی پہلی بیوی کا انتقال ان کی زندگی ہی میں ہو گیا تھا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ صورت میں میت نے جو بھی مال چھوڑا ہےاس میں سے سب سے پہلے میت کا تمام قرضہ ادا کیا جائے گا جس میں یہ پانچ تولہ سونے کی رقم بھی شامل ہے۔اس کے بعد باقی مال تمام ورثہ میں شرعی طور پرتقسیم کیا جائے گا،البتہ پہلے خاوند سے جو آپ کی بیٹی ہے، اس کا وراثت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔
مرحوم کا اپنی زوجہ کو یہ کہنا کہ میرا جو کچھ مال بچے گا، وہ تیراہےشرعا معتبر نہیں،لہذا یہ وصیت کالعدم ہوگی۔اسی طرح ورثہ میں مال کی تقسیم کی تفصیل یہ ہےکہ کل مال کے چوبیس(24) حصےکرکے اس میں سے تین (3) حصے مرحوم کی موجودہ زوجہ کو دیے جائیں گےپھر باقی حصوں میں سے ہر بیٹے کودو (2) اور بیٹی کو ایک (1) حصہ بالترتیب دیا جائے گا۔آسانی کے لیے ذیل میں دیا گیا نقشہ ملاحظہ ہوں:
|
ورثہ |
حصے |
فیصد |
|
زوجہ |
تین(3)حصے |
12.5% |
|
ہر بیٹا |
دو(2)حصے،کل 16حصے |
8.33x8=66.64% |
|
ہر بیٹی |
ایک (1)حصہ،کل 5 حصے |
4.16x5=20.8% |
|
کل ورثہ |
کل حصے:24 |
کل فیصد:100 |
حوالہ جات
قال العلامہ الحصکفی رحمہ اللہ: (ثم) تقدم (ديونه التي لها مطالب من جهة العباد) ويقدم دين الصحة على دين المرض إن جهل سببه وإلا فسيان كما بسطه السيد.(الدر المختار مع رد المحتار:6/ 760)
قال العلامة الکاسانی رحمہ اللہ:(ومنها): أن لا يكون وارث الموصي وقت موت الموصي، فإن كان لا تصح الوصية، لما روي عن أبي قلابة رضي الله عنه ،عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال :إن الله تبارك وتعالى أعطى كل ذي حق حقه، فلا وصية لوارث.(بدائع الصنائع:7/ 337)
قال جمع من العلماء: وإذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات، فيكون للابن مثل حظ الأنثيين، كذا في التبيين…….فالزوج والزوجة ،فللزوج النصف عند عدم الولد وولد الابن، والربع مع الولد أو ولد الابن ،وللزوجة الربع عند عدمهما ،والثمن مع أحدهما.
(الفتاوی الہندیة :6/ 448-450)
قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ: قوله: ( ويسقط بنو الأخياف )( بالولد الخ ): أي ولو أنثى فيسقطون بستة بالابن والبنت وابن الابن وبنت الابن والأب والجد.(رد المحتار :6/ 782)
قال العلامہ ابن نجیم رحمہ اللہ: قال رحمه الله :(ثم بدينه) لقوله تعالى ﴿من بعد وصية توصون بها أو دين﴾ [النساء: 12]. قال علي كرم الله وجهه :إنكم تقرءون الوصية مقدمة على الدين، وقد شهدت النبي صلى الله عليه وسلم قدم الدين على الوصية، ولأن الدين واجب ابتداء والوصية تبرع، والبداءة بالواجب أولى).البحر الرائق:8/ 558)
سعد خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
3 جمادی الثانیہ 1442ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سعد خان بن ناصر خان | مفتیان | ابولبابہ شاہ منصور صاحب / شہبازعلی صاحب |


