03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فون میسج کے ذریعہ ایجاب وقبول کے بعد طلاق کا حکم
71418نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

منگنی کے بعد لڑکا لڑکی نے موبائل فون پر تین دفعہ ایجاب وقبول کیا، اس وقت کوئی گواہ موجود نہ تھے ،نہ ہی یہ الفاظ زبان سے ادا کیے تھے اور والدین کو بھی اس کا علم نہیں تھا ،بعد میں منگنی ٹوٹ گئی ۔

۱۔اس نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

۲۔ کیا اس لڑکے سے طلاق لئے بغیر لڑکی کا نکاح کہیں اور کیا جاسکتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

۱و۲۔ایجاب وقبول  کی درستگی ومعتبر ہونے کے لیےشرعا ایک مجلس ہونا ضروری ہے،جبکہ فون کے ذریعہ نکاح کی صورت میں اکثر اہل افتاء کے نزدیک  وحدت مجلس کی شرط نہیں پائی جاتی،نیزتحریری طور پرنکاح کی درستگی کے لیے ایجاب وقبول میں سے کم از کم کسی ایک کے زبانی ہونے کے علاوہ  مجموعی طور پردونوں پر دوگواہوں کی گواہی بھی ضروری ہے،(جدید فقہی مسائل رحمانی)جبکہ موبائل فون پرصرف لڑکا لڑکی کے درمیان محض تحریری ایجاب وقبول کی صورت میں  ان شرائط پر عمل ممکن نہیں،لہذایہ نکاح نہیں ہوا اور لڑکی دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے ۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 12)

ولا بكتابة حاضر بل غائب بشرط إعلام الشهود بما في الكتاب ما لم يكن بلفظ الأمر فيتولى الطرفين فتح

 (قوله: ولا بكتابة حاضر) فلو كتب تزوجتك فكتبت قبلت لم ينعقد بحر والأظهر أن يقول فقالت قبلت إلخ إذ الكتابة من الطرفين بلا قول لا تكفي ولو في الغيبة، تأمل.

(قوله: بل غائب) الظاهر أن المراد به الغائب عن المجلس، وإن كان حاضرا في البلد ط

(قوله: فتح) فإنه قال ينعقد النكاح بالكتاب كما ينعقد بالخطاب. وصورته: أن يكتب إليها يخطبها فإذا بلغها الكتاب أحضرت الشهود وقرأته عليهم وقالت زوجت نفسي منه أو تقول إن فلانا كتب إلي يخطبني فاشهدوا أني زوجت نفسي منه، أما لو لم تقل بحضرتهم سوى زوجت نفسي من فلان لا ينعقد؛ لأن سماع الشطرين شرط صحة النكاح،

خلاصۃ الفتاوی(2/48):

والاصل فی ذالک ان الکتاب من الغائب بمنزلۃ الخطاب من الحاضر۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۲۳جمادی الثانیۃ ۱۴۴۲ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب