| 74206 | زکوة کابیان | سامان تجارت پر زکوۃ واجب ہونے کا بیان |
سوال
دکان کے سامان میں زکاۃ کس قیمت کے اعتبار سے ادا کی جائے گی؟قیمتِ خرید کے اعتبار سے یا جس قیمت پر -سامان فروخت کیا جائے گا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جس دن زکاہ کا حساب کیا جائے گا اس روز اس سامان کی بازار میں جو قیمت ہوگی اس کے اعتبارسے زکاۃ واجب ہوگی۔قیمتِ خرید کا اعتبار نہیں ہوگا۔اگر پرچون کی دکان ہے تو چیزوں کی پرچون والی قیمت لگائی جائے گی اور اگر ہول سیل کی دکان ہے تو ہول سیل کی قیمت معتبر ہوگی۔
اگر سامان زیادہ ہو اور سب کا حساب لگانا مشکل ہو تو پورے سامان کا اندازہ لگایا جائے،اندازہ لگانے میں یہ طریقہ اختیار کیا جائے کہ پورے سامان کو دیکھ کر اچھی طرح اطمینان کر لیا جائے کہ وہ کس قدر ہے؟اس سے کچھ زیادہ شمار کر کےزکاۃ ادا کی جائے
حوالہ جات
وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الاداء.وفي السوائم يوم الاداء إجماعا، وهو الاصح، ويقوم في البلد الذي المال فيه.( الدر المختار،کتاب الزکاۃ،باب زکاۃ الغنم:2/286)
وتعتبر القيمة عند حولان الحول بعد أن تكون قيمتها في ابتداء الحول مائتي درهم من الدراهم الغالب عليها الفضة كذا في المضمرات ثم في تقويم عروض التجارة التخيير يقوم بأيهما شاء من الدراهم والدنانير إلا إذا كانت لا تبلغ بأحدهما نصابا فحينئذ تعين التقويم بما يبلغ نصابا هكذا في البحر الرائق.(الفتاوی الہندیۃ،کتاب الزکاۃ،الباب الثالث،الفصل الثانی:1/179)
(تبویب:97/365)
محمدانس جمال
دار الافتا جامعۃ الرشید کراچی
15/صفر/1443ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | انس جمال بن جمال الدین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


