03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شادی پر ہونے والے  اخراجات کے بدلے بیٹی کو وارثت سے محروم کرنا
71456اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے جدید مسائل

سوال

مفتی صاحب کیا بیٹی کی شادی کے اخراجات اٹھانا خود بیٹی کا فرض ہے۔کیا میری والدہ میری شادی کے بدلے میرے پلاٹ کی حقدار ہیں۔جب کہ میری شادی کے 14سال بعد تک میری مکمل وراثت میری والدہ کی ملکیت میں رہی اور وہ اس سے بہت فائدہ اٹھاتی رہیں۔کیونکہ مارکیٹ سے ماہانہ کرایہ آتا تھا اور میری شدید غربت کے باوجود میری والدہ نے کبھی ایک پیسے سے بھی میری مدد نہیں کی۔ایک بار بیماری میں ، میں نے قرض مانگا منع کر دیا تھا۔

تنقیح:والد کا انتقال بچپن میں ہوگیا تھا اس وقت سے وراثت والدہ کے پاس تھی اور اب بھی ان کے پاس ہے ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر والد حیات ہوں اور بیٹی کے پاس مال نہ ہو تونکاح سمیت بیٹی کی  شادی تک کے تمام اخراجات والد کی ذمہ داری اور ان کا فرض ہے لیکن والد کے فوت ہونے کے بعد  بیٹی کے نان و نفقہ کی ذمہ داری کسی پر لازم نہیں ہےبلکہ بیٹی  پر ان کے حصہ ِ میراث میں سے خرچ کیا جائے گااگر میراث میں بھی کچھ نہ ہو تو پھر ذمہ داری حقیقی چچا  و دیگر عصبات پر عائد ہوتی ہے والدہ پر نہیں۔ صورتِ مسئولہ میں بیٹی کو وراثت میں ملنے والا پلاٹ بیٹی کا حق ہے ،والدہ کا اخراجات کے بدلے اپنے پاس رکھنا جائز نہیں،البتہ  والدہ  گھر کو فروخت کر کے صرف اتنے پیسے لینے کی مجاز ہیں ،جو انہوں نے نکاح اور اس کے بنیادی وضروری لوازمات کی مد میں خرچ کئے ہیں غیر ضروری اخراجات اور رسم ورواج پر ہونے والے اخراجات اگر بیٹی سے پوچھ کر نہیں کئے گئے تووہ ان کی طرف سے تبرع (ہدیہ) شمار ہونگے، ان  کی رقم کاٹنا جائز نہیں۔

حوالہ جات

سنن ابن ماجه (2/ 902) 

عن أنس ابن مالك قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم (من فر من ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة )

الفتاوى الهندية (1/ 563)

ونفقة الإناث واجبة مطلقا على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال كذا في الخلاصة ولا يجب على الأب نفقة الذكور الكبار إلا أن الولد يكون عاجزا عن الكسب لزمانة.

الفتاوى الهندية (11/ 454)

وإن كان الأب قد مات وترك أموالا ، وترك أولادا صغارا كانت نفقة الأولاد من أنصبائهم ،وكذا كل ما يكون وارثا فنفقته في نصيبه .

الفتاوى الهندية (11/ 462)

والنفقة لكل ذي رحم محرم إذا كان صغيرا فقيرا ، أو كانت امرأة بالغة فقيرة ، أو كان ذكرا فقيرازمنا ، أو أعمى ويجب ذلك على قدر الميراث ويجبر كذا في الهداية وتعتبر أهلية الإرث لا حقيقته كذا في النقاية.

مصطفی جمال

دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی

۳۰/۶/۱۴۴۲

 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مصطفیٰ جمال بن جمال الدین احمد

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب