| 71982 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
ہم 12 بھائی اوربہن ہیں ۔سید حق نواز ،سرفراز ،عبدالاحد ،عبد الصمد ،محمد رمضان،محمد ادریس، محمد رفیق ۔تین بھائی شادی شدہ اور چارغیر شادی شدہ ہیں ۔اسی طرح تین بہنیں شادی شدہ اور دو غیر شادی شدہ ہیں۔ہمارے دو مکان ہیں ،دونوں کی قیمت 50,50لاکھ روپے ہے۔میں بھائیوں میں سب سے بڑا ہوں ۔ میں نے 20سال محنت کر کے جتنا کمایا گھر پر خرچ کیا ،اسی طرح تیسرے نمبر والے بھائی(عبدالاحد) نے 4سال سعودیہ میں محنت کرکے جتنا کمایا گھر پر بھیجا۔بقیہ دوبھائی( عبدالصمد اورمحمد رمضان ) نے چند سال میں جتنا کمایا اس میں سے کچھ پیسا گھر میں بھیجا،والد صاحب کے بقول یہ دوبھائی باقاعدہ خرچ نہیں بھیجتے بلکہ سال میں ایک لاکھ یا کبھی اس سے کم گھر چکر لگنے پر دے دیتے تھے۔ان ہی دو بھائیوں نے والدصاحب اور دیگر لوگوں کو بتائے بغیر ایک مکان خریدا ،جس کی قیمت 50لاکھ روپے ہے۔
ہم بھائیوںمیں وارثت تقسیم کرنے کی ذمہ داری ہمارے بہنوئی انجام دے رہے ہیں۔دو مکان میں سے ایک مکان جس کی قیمت 50لاکھ روپے ہے اس طرح تقسیم کیا جارہا ہے کہ دوسرے نمبر کی بہن کا دعوی ہے کہ اس میں سے 24لاکھ روپے میرے ہیں ۔(والد صاحب کو اس بہن کے شوہر نے 24لاکھ کا ایک مکان دلایا تھا ،پھر والد صاحب نے وہ مکان بیچ کر بہنوئی کا قرض ادا کرنے کے بجائے مزید رقم ملا کر یہ مکان خریدا تھا جس میں بھائیوں نے بھی پیسے ملائے تھےلیکن بہنوئی نے یہ 24لاکھ والد صاحب کو ان کی حیات میں معاف کردیئے تھے)۔
لہذا 24لاکھ بہن کو قرض کی ادائیگی کے مد میں دے دیے گئے اورتقریباً ایک لاکھ روپے سے دیگر قرض اور بجلی گیس کا بل ادا کردیا گیا ۔اس کے بعد جتنے رقم بچی وہ ہم بہن بھائیوں میں تقسیم کردی گئی ۔( گھر فروخت نہیں کیا گیا اس کی صرف قیمت لگائی گئی ہےاورحصہ داروں کو پیسے دے دیے گئے ) ۔
اب دیگر بہن بھائیوں کا کہنا کہ ہم دو بھائی(حق نواز اور عبدالصمد ) اپنے حصے کے پیسے وصول کریں اور تین مہینے میں مکان خالی کردیں جبکہ میرے کہنا ہے کہ مجھے پیسے نہیں چاہیےبلکہ اس مکان میں جگہ چاہیے،مجھے چھت پر جگہ دے دیں میں چھت پر اپنےکمرے بناؤ گالیکن یہ لوگ ماننے کو تیار نہیں ہیں ۔کیا 24لاکھ روپے بہن کا حق بنتا ہے،جبکہ ان کے شوہر نے والد صاحب کو بخش دیئےتھے؟
تنقیح: بہنوئی نے والد صاحب کو 24لاکھ معاف کردیئے تھے جس پر دو گواہ بھی موجود ہیں لیکن بہن وہ واپس لینے پر بضد ہیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کے بہنوئی نے والد صاحب کو جو24 لاکھ روپے زمین کی مد میں قرض دیئےتھے،اسے بعد میں اگردو گواہوں کی موجودگی میں معاف کردیا تھاتو بہنوئی کے معاف کرنےسے والد صاحب اس کے مالک بن گئے تھے۔ والد صاحب کی وفات کے بعد دیگر ترکہ کی طرح اس میں بھی تمام ورثاء کا حق ہے، بہن کا اپنا حق کا دعوی کرنا شرعاً جائز نہیں۔لہذا اگر بہن نے یہ رقم وصول کرلی ہے تو اسے واپس کرناشرعاً لازم ہے۔
حوالہ جات
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (7/ 291)
فلا رجوع في هبة الدين للمديون بعد القبول بخلافه قبله لكونها إسقاطا..... وواهب دينليس يرجع مطلقا.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 121)
وهبة الدين ممن عليه الدين جائز لأنه إسقاط الدين عنه.
مصطفی جمال
دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی
۳۰/۶/۱۴۴۲
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مصطفیٰ جمال بن جمال الدین احمد | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


