03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
“میں تجھے طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں”کہنے کا حکم
78184طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

میرے شوہر نے معمولی بات پر مجھے کہا: "میں تجھے طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں" اس وقت وہ ملائیشیا میں تھا، میں نے اس کے والدین کو بتایا، انہوں نے کہا کہ آپ اپنے والدین سے بات نہ کرنا، ہم اس کو سمجھائیں گے، چھ ماہ بعد وہ پاکستان آیا، ہم اکٹھے رہتے رہے، میرے ہاں ولادت ہوئی، تو انہوں نے کچھ پیسے دیے اور بقیہ پیسوں کے بارے میں یہ کہا کہ منہ دکھائی کی جو سونے کی چین تمہاری والدہ کے پاس ہے اس میں سے پیسے کاٹ لیں، پھر ان کو کچھ پیسوں کی ضرورت پڑی تو انہوں نے وہ چین مانگی، میری والدہ نے دینے سے انکار کر دیا تو اس نے میری والدہ سے فون پر کہا آپ کی بیٹی میری طرف سے فارغ ہے، فارغ ہے، فارغ ہے۔ اگلے دن مجھے بھی یہی کہا کہ اگر چین گلے میں ڈالی تو تم میری طرف سے فارغ ہو، فارغ ہو، فارغ ہو۔ میں نے غصے میں کہا کیا مقصد؟ کیا طلاق دے رہے ہوں تو اس نے کہا: ہاں! میں نے کہا کیا طلاق کو مذاق سمجھا ہوا ہے، ایک مرتبہ پہلے بھی طلاق دے چکے ہو۔ اس پر میری والدہ کو پتہ چل گیا کہ یہ پہلے بھی طلاق دے چکا ہے۔ پہلے ان کے علم میں نہیں تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب میں اس کے نکاح میں ہوں یا نہیں؟ کیا میں اس کے ساتھ جا سکتی ہوں؟ میں ابھی ولادت کے بعد چلے میں اپنے والدین کے گھر ہوں، وہ میرے والدین کو خطرناک نتائج کی دھمکی دے رہا ہے، میرے والدین بوڑھے ہیں، بیمار ہیں، شریعت کی روشنی میں جواب دے کر ممنون فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں آپ کے شوہر نے پہلی مرتبہ جب آپ کو سوال میں ذکر کیے گئے الفاظ "میں تجھے طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں،" کہے تو اسی وقت آپ پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی تھی، اس کے بعدآپ  دونوں کا میاں بیوی کی طرح  اکٹھے رہنا ہرگز جائز نہیں تھا،کیونکہ تین طلاق کے بعد رجوع نہیں ہو سکتا اور  اسی حالت میں دوبارہ نکاح  کرنا بھی جائز نہیں، اب حکم یہ ہے کہ اگر آپ دونوں کے علیحدہ ہو جانے کے بعدبچے کی ولادت ہوئی ہے اور ولادت کے بعد ابھی تک آپ دونوں کو اکٹھے رہنے کا موقع نہیں ملا تو ولادت کے ساتھ ہی آپ کی عدت (یہ عدتِ طلاق نہیں، بلکہ شبہ کی بنیاد پر ہونے والی ہمبستری کی وجہ سے عدت واجب ہوئی تھی) ختم ہو چکی ہے اور آپ دوسری جگہ نکاح کرنے میں شرعاً بااختیار ہیں۔البتہ اگر علیحدگی کے بغیر اکٹھے رہتے ہوئے ہی ولادت ہوئی ہے تو اس صورت میں عدت ختم نہیں ہوئی، کیونکہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے شبہ کی بنیاد پر ہونے والی ہمبستری کی عدت کے شروع ہونے کے لیے زوجین کے درمیان علیحدگی یا کم از کم طلاق کے وقوع کا علم ہونے کے بعد ہمبستری چھوڑنے کے پختہ عزم کو ضروری قرار دیا ہے، جبکہ زوجین کے اکٹھے رہتے ہوئے عام طور پر ہمبستری کا امکان باقی رہتا ہے، اس لیے اکٹھے رہتے ہوئے ولادت کا اعتبار نہیں ہو گا، بلکہ فوری طور پر علیحدگی اختیار کرنے کے بعد مستقل تین ماہواری عدت گزارنا ضروری ہے اور پھر عدت گزرنے کے بعد آپ دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہیں۔

 جہاں تک گزشتہ شوہر سے دوبارہ  نکاح کرنے کا تعلق ہے تو  شرعی اعتبار سے فی الحال اس سے نکاح نہیں ہو سکتا، البتہ اگر عورت عدت گزارنے کے بعد کسی اور شخص سے نکاح کرے اور وہ خاوند عورت سے ہمبستری بھی کرے، پھر وہ اپنی رضامندی سے عورت کو طلاق دیدےیا وہ وفات پا جائے تو اُس خاوند کی عدت گزارنے کے بعد فریقین باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں،  ورنہ نہیں۔

واضح رہے کہ تین طلاقوں کے تین ہونے پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، ائمہ اربعہ اور امت کے جمہور مجتہدین، محدثین، فقہائے کرام، علمائے کرام اور  اہل السنت والجماعت کا اتفاق ہے، خود امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی  اپنی کتاب صحیح البخاری میں تین طلاق کے تین ہونے پر روایات نقل کی ہیں۔لہذا تین طلاق کے بعد آپ دونوں کا  اکٹھے رہنا اور ازدواجی  تعلقات قائم کرنا انتہائی کبیرہ گناہ تھا، جس پر آپ دونوں کو  اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے توبہ واستغفار کرنا لازم ہے، نیز تین طلاق کے بعد مرد کا دوبارہ بار بار طلاق کی نیت سے "تو فارغ ہے" کے الفاظ کہنا اللہ تعالیٰ کے حکم کے ساتھ مذاق اور انتہائی جہالت کی بات ہے، جس پر احادیثِ مبارکہ میں سخت تنبیہ فرمائی گئی ہے، لہذا اس کو اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر معافی مانگنا اور آئندہ ایسی  قبیح حرکت سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔

حوالہ جات

   صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5261) دار طوق النجاة:

حدثني محمد بن بشار، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال: حدثني القاسم بن محمد، عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: «لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول»

  الفتاوى الهندية (1 / 473) دار الفكر، بیروت:

   وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين

كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز۔

الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 276) دار احياء التراث العربي، بيروت:

" والمعتدة عن وفاة إذا وطئت بشبهة تعتد بالشهور وتحتسب بما تراه من الحيض فيها " تحقيقا للتداخل بقدر الإمكان " وإبتداء العدة في الطلاق عقيب الطلاق وفي الوفاة عقيب الوفاة فإن لم تعلم بالطلاق أو الوفاة حتى مضت مدة العدة فقد انقضت عدتها " لأن سبب وجوب العدة الطلاق أو الوفاة فيعتبر ابتداؤها من وقت وجود السبب ومشايخنا رحمهم الله يفتون في الطلاق أن ابتداءها من وقت الإقرار نفيا لتهمة المواضعة " " والعدة في النكاح الفاسد عقيب التفريق أو عزم الواطئ على ترك وطئها " وقال زفر رحمه الله من آخر الوطآت لأن الوطء هو السبب الموجب ولنا أن كل وطء وجد في العقد الفاسد يجري مجرى الوطأة الواحدة لاستناد الكل إلى حكم عقد واحد ولهذا يكتفى في الكل بمهر واحد فقبل المتاركة أو العزم لا تثبت العدة مع جواز وجود غيره ولأن التمكن على وجه الشبهة أقيم مقام حقيقة الوطء لخفائه ومساس الحاجة إلى معرفة الحكم في حق غيره.

 فتح القدير للكمال ابن الهمام (4/ 331) دار الفكر،بيروت:

(أقيم مقام حقيقة الوطء لخفاء الوطء ومسيس الحاجة إلى معرفة الحكم في حق غيره) أي في غير الواطئ وهو حلها للأزواج والخفي لا يعرف الحكم وإذا أقيم مقام حقيقة الوطء لا تثبت العدة ما دام التمكن على وجه الشبهة قائما ولا ينقطع التمكن كذلك إلا بالتفريق أو المتاركة صريحا فلا تثبت العدة إلا عندهما واختار أبو القاسم الصفار قول زفر.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

17/ربيع الثانی 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب