| 90041 | متفرق مسائل | متفرق مسائل |
سوال
نیتِ اقامت کے بغیر مسلسل سفرکرنے والے کا حکم
ایک شخص اپنے شہر سے ٹرین کے ذریعے 300 کلومیٹر دور چلا گیا، پھر وہاں سے بس لے کر مزید 140 کلومیٹر دور لاہور شہر پہنچ گیا۔ وہاں 15 دن ٹھہرنے کا ارادہ نہیں تھا، بلکہ تھوڑا رک کر ایک دن قیام کیا۔ پھر وہ 20 کلومیٹر مزید آگے گیا، اور اس کے بعد واپس لاہور شہر آگیا۔ کہیں بھی اس کا 15 دن ٹھہرنے کا ارادہ نہیں تھا۔ تو کیا یہ شخص مسافر رہے گا یا مقیم شمار؟
تنقیح:سائل کاکہناتھاکہ گھر سے باقاعدہ سفرکے ارادے سے نکلاتھالیکن کہیں بھی 15دن ٹھہر نے کاارادہ نہیں تھا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جوشخص48میل یعنی 77.25))کلومیٹریااس سےزیادہ کی مسافت کے سفر کاارادہ کرکےا ٓبادی کی حدود سے نکل جائےتوجب تک وہ کسی جگہ پر 15دن یااس سے زیادہ ٹھہرنے کاارادہ نہیں کرتاتووہ مسافر کے حکم میں ہوگا ۔لہذا صورت مسئولہ میں جب سائل کا کہیں بھی 15دن ٹھہرنے کاارادہ نہیں تھاتویہ مسافر رہے گا۔
حوالہ جات
درمختار مع ردالمحتار- دارالكتب العلمية (599-603/2):
(من خرج من عمارة موضع إقامته)(قاصدا)(مسيرة ثلاثة أيام ولياليها) من أقصر أيام السنة، ولا يشترط سفر كل يوم إلى الليل (بالسير الوسط مع الاستراحات المعتادة(صلى الفرض الرباعي ركعتين) .
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 139):
ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر.
درمختار مع ردالمحتار- دارالكتب العلمية (606,607/2):
(فيقصر إن نوى) الإقامة (في أقل منه) أي في نصف شهر... (أو لم يكن مستقلا برأيه) كعبد وامرأة (أو دخل بلدة ولم ينوها) أي مدة الإقامة (بل ترقب السفر).
فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي (2/ 36):
(ولو دخل مصرا على عزم أن يخرج غدا أو بعد غد ولم ينو مدة الإقامة حتى بقي على ذلك سنين قصر)؛ لأن ابن عمر أقام بأذربيجان ستة أشهر وكان يقصر. وعن جماعة من الصحابة رضي الله عنهم مثل ذلك.
عزیزالرحمن
دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی
27/شوال 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عزیز الرحمن بن اول داد شاہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


