03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مشترکہ فلیٹ میں اپنا حصہ بیوی کے نام کرنے کے بعد واپس لینے کا حکم
78443ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ واپس کرنے کابیان

سوال

میرے دو بیٹے ہیں، ایک کی عمر 13 سال اور دوسرے کی 11 سال ہے۔ میری اور میری اہلیہ کے درمیان دو طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، ایک طلاق میں نے انہیں 18 نومبر 2021ء کو دی تھی، اس کے بعد تجدیدِ نکاح کرلیا تھا، دوسری انہوں نے مجھ سے 7 ستمبر 2022ء کو زبردستی خلع لیا، زبردستی کا مطلب یہ کہ انہوں نے بار بار مطالبہ کیا جس پر میں مجبور ہوگیا خلع دینے پر۔

ہمارا ایک فلیٹ تھا جو ہم نے ایک کروڑ پینتیس لاکھ کا خریدا تھا۔ ابھی تک ایک کروڑ کی ادائیگی ہوئی ہے، جس کی تفصیل یہ ہے: (1) پندرہ لاکھ روپے میں نے اپنے بھائی سے قرض لے کر دئیے ہیں۔ ہمارا ایک پرانا فلیٹ تھا، بیوی نے مجھے کہا تھا کہ آپ بھائی سے قرضہ لے لیں، پھر وہ فلیٹ بیچ کر بھائی کا قرض دیدیں گے، میں نے بھائی سے قرض لیا، لیکن پھر اہلیہ نے وہ پرانا فلیٹ بیچنے نہیں دیا اور اب بھائی کا وہ قرض میں ہی اتار رہا ہوں۔ (2) چالیس لاکھ کی ادائیگی ایک پلاٹ بیچ کر کی ہے، وہ پلاٹ میں نے اپنی بیوی کے نام خریدا تھا اور ارادہ یہی تھا کہ جب ہم فلیٹ لیں گے تو اس کو بیچ کر ادائیگی کردیں گے۔ (3) پینتالیس لاکھ روپے بیوی نے ادا کیے ہیں۔ (4) تینتیس لاکھ روپیہ باقی ہے۔      

 میری اہلیہ نے خلع سے پہلے یہ فلیٹ زبردستی مجھ سے اپنے نام لکھوایا، زبردستی کا مطلب یہ ہے کہ عجیب عجیب باتیں کرتی تھیں کہ یہ فلیٹ سامان سمیت میرے نام کردو، اس کے بقیہ پینتیس لاکھ روپے میں ادا کردوں گی، ورنہ میں گھر چھوڑ کر چلی جاؤں گی، یہ کردوں گی، وہ کردوں گی۔ میں نے مجبور ہوکر کاغذ پر لکھ دیا کہ یہ فلیٹ میں نے سامان سمیت اپنی اہلیہ کو دیدیا ہے۔ فلیٹ اپنے نام لکھواکر اور خلع لے کر اس نے مجھے فلیٹ سے بے دخل کردیا کہ اب آپ کا سوائے اپنے بچوں کے نہ مجھ سے تعلق ہے، نہ فلیٹ سے، فلیٹ کے باقی پینتیس لاکھ روپیہ میں ادا کروں گی۔ اس کے بعد اس نے ایک قانونی کاغذ پر یہ خلع اور فلیٹ اپنے نام کروانے کی بات لکھ کر  اس پر مجھ سے دستخط لیے۔  

سوال یہ ہے کہ یہ فلیٹ جو میں اپنی اہلیہ کے نام کرچکا ہوں، جس میں آدھی رقم سے زیادہ میں نے ادا کی ہے اور اس کے لیے بھائی سے لیے گئے قرض کی رقم ابھی تک بھائی کو ادا کر رہا ہوں، میں اہلیہ سے اس کی واپسی کا مطالبہ کرسکتا ہوں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق جب آپ نے اس فلیٹ میں اپنا حصہ سامان سمیت اہلیہ کو لکھ کر دیدیا اور اس وقت آپ کی اہلیہ اسی فلیٹ میں تھی تو یہ ہبہ مکمل ہوگیا تھا اور فلیٹ میں آپ کا حصہ ان کی ملکیت میں چلا گیا تھا، لہٰذا اب آپ ان سے اپنا حصہ واپس نہیں لے سکتے۔ اہلیہ کا اصرار کے ساتھ مطالبہ شرعا "اکراہ" میں داخل نہیں جس کی وجہ سےیہ ہبہ کالعدم قرار دیا جاسکے۔  

حوالہ جات

بدائع الصنائع (5/ 244):

وأما تفسير التسليم والقبض فالتسليم والقبض عندنا هو التخلية والتخلي، وهو أن يخلي البايع  بين المبيع وبين المشتري برفع الحائل بينهما على وجه يتمكن المشتري من التصرف فيه فيجعل البايع مسلما للمبيع والمشتري قابضا له…. لنا أن التسليم في اللغة عبارة عن جعله سالما خالصا، يقال سلم فلان لفلان أي خلص له، وقال الله تعالى { ورجلا سلما لرجل } أي سالما خالصا لا يشركه فيه أحد، فتسليم المبيع إلى المشتري هو جعل المبيع سالما للمشتري أي خالصا بحيث لا ينازعه فيه غيره، وهذا يحصل بالتخلية، فكانت التخلية تسليما من البائع والتخلي قبضا من المشتري.

المجلة (ص: 54):

 مادة 263: تسليم المبيع يحصل بالتخلية، وهو أن يأذن البائع للمشتری بقبض المبیع مع عدم وجود مانع من تسلیم المشتری إیاه.

مادة 265: تختلف كيفية التسليم باختلاف المبيع.

مادة 270: العقار  الذي له باب وقفل كالدار والكرم، إذا وجد المشتري  داخله وقال له البائع  "سلمته إليك" كان قوله ذلك تسليما، وإذا كان المشتري خارج ذلك العقار فإن كان قريبا منه بحيث يقدر على إغلاق بابه وقفله في الحال يكون قول البائع للمشتري "سلمتك إياه" تسلیما أیضا، وإن لم يكن منه قريبا بهذه المرتبة، فإذا مضى وقت يمكن فيه ذهاب المشتري إلى ذلك العقار و دخوله فیه یکون تسلیما.

مادة 271: إعطاء مفتاح العقار الذي له قفل للمشتري يكون تسليما.

شرح المجلة للعلامة خالد الأتاسی (2/192):

المادة 263: تسلیم المبیع یحصل بالتخلیة: …… و هو أن یأذن البایع للمشتری بقبض المبیع مع عدم وجود مانع من تسلیم المشتری إیاه، یعنی أن التخلیة بین المشتری و المبیع تقوم مقام القبض الحقیقی إذا کانت علی وجه یتمکن فیها المشتری من القبض بعد أن یکون أذن له

البایع بقبضه……………… الخ

المادة 265: تختلف كيفية التسليم باختلاف المبيع.  قال فی رد المحتار: و الحاصل أن التخلیة قبض حکما لو مع القدرة علیه بلا کلفة، لکن ذلك یختلف بحسب حال المبیع، ففی نحو حنطة فی بیت مثلا دفع المفتاح إذا أمکنه الفتح بلا کلفة قبض، و فی نحو دار فالقدرة علی إغلاقها قبض، أی بأن تکون فی البلد فیما یظهر.

المادة 270: العقار  الذي له باب وقفل كالدار والكرم إذا وجد المشتري  داخله، أی لا علی وجه السکنی فی الدار، و إلا کان قابضا بنفس العقد و لا یحتاج فی ذلك إلی تخلیة البائع بقوله "سلمته إلیك" و نحوه………الخ

الفتاوى الهندية (4/ 386):

 أما العوارض المانعة من الرجوع فأنواع:……...منها الزوجية، سواء كان أحد الزوجين مسلما أو كافرا، كذا في الاختيار شرح المختار. وإذا وهب أحد الزوجين لصاحبه لا يرجع في الهبة وإن انقطع النكاح بينهما.  

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

  11/جمادی الاولیٰ/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب