| 76255 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میری شادی خانہ آبادی 2001ءمیں ہوئی ،میرےسسرصاحب کامطالبہ تھاکہ ایک تہائی حصہ مکان میری بیٹی کےمہرمیں دیاجائےگا،چنانچہ میرےوالدصاحب نےاپنےمملوکہ مکان میں سےایک تہائی حصہ باقاعدہ تحریری طورپرگواہان کی موجودگی میں اسٹامپ پیپرپرمیرےنام ہبہ کیا،اورپھربوقت نکاح یہی مکان کاایک تہائی حصہ مہرکے خانےمیں درج کیاگیااوراسی پہ ایجاب وقبول ہوااورپھرنکاح کےوقت سےمکان کےاس 1/3پر میری زوجہ مسماۃ کوثر کاقبضہ ہے،بعدازاں گھریلوجھگڑےکی بناءپرحصول مہرکی خاطر میری زوجہ نےایک بارڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج مانسہرہ کی عدالت میں مقدمہ بھی دائرکیا،عدالت نےزوجہ ام کایہ حق تسلیم کرتےہوئےمحکمہ مال کومکان کےایک تہائی حصہ کےزوجہ ام کےنام باقاعدہ انتقال کرنےکاحکم صادرفرمایا۔
2006ءمیں میرےوالدصاحب فوت ہوگئے،واضح رہےکہ میرےوالدمرحوم کی وفات کےبعدعدالت نےایک تہائی حصہ مکان انتقال کرنےکاحکم دیاتھا،چنانچہ مکان کایہ ایک تہائی حصہ اب میری بیوی کےنام ہےاوراس کاقبضہ ہے اس ہبہ شدہ ایک تہائی حصہ مکان کےعلاوہ بقیہ مکان میں سےسائل نےجب دیگرورثاءسےشرعی وراثت کے مطابق اپناحصہ طلب کیاتوانہوں نےبقیہ مکان میں سےسائل کووراثت کےمطابق حصہ دینےسےانکارکردیاہےاور ان کا موقف یہ ہےکہ والدصاحب مرحوم نےاپنی زندگی میں جوایک تہائی حصہ مکان تمہیں اورتمہاری بیوی کودیاتھا ، بس صرف اسی ایک تہائی حصہ پرتمہاراحق ہےبقیہ مکان میں ایک فٹ جگہ بھی تمہیں وراثت میں نہیں ملےگا۔کیااب سائل کابقیہ مکان میں دیگرورثاءسےوراثت کےشرعی حصص کےمطابق اپنےحصےکامطالبہ از روئےشرع جائزاورمبنی برحق ہے؟براہ کرم قرآن وسنت کی روشنی میں مفصل اورمدلل جواب عنایت فرمائیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
والدمرحوم کی وفات کےبعدآپ کاوراثت میں سےاپنےحصےکامطالبہ کرناشرعاجائزہے،لہذاوالدمرحوم کے ترکہ میں آپ کاحصہ شرعا ثابت ہے۔اگرمکان کےعلاوہ کوئی اورجائیدادنہیں ہےتوپھر آپ سےیہ مطالبہ کیاجاسکتاہےکہ آپ مزیدحصےکامطالبہ تبرعاواحساناچھوڑدیں تاکہ دیگرورثاءکوبھی وراثت میں سےکچھ دیاجاسکے۔ لیکن اگرآپ اپنامیراث کاحصہ نہیں چھوڑناچاہ رہے توپھرآپ کواپنےحصےکےبقدرمطالبےکاپوراحق حاصل ہے۔
حوالہ جات
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (7/ 228):
لأن الإرث ليس من لوازم النسب فإن لحرمان الإرث أسبابا لا تقدح في النسب من القتل والرق واختلاف الدين والدار
«لسان الحكام» (ص236):
وفي جامع الفتاوى ولو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منه أو من حصتي لا يصح وهو على حقه لأن الإرث جبري لا يصح تركه
«موسوعة القواعد الفقهية» (8/ 794):
الإرث يدخل في ملك الوارث بغير اختياره؛ لأن هذا الملك اضطراري.
الإرث يدخل في ملك الوارث بغير اختياره؛ لأن الإرث ملك إجباري ينتقل من المورث إلى الوارث بمجرد موت المورث، ولو رفض الوارث الميراث لا يعتبر رفضه
عبدالقدوس
دارالافتاء،جامعۃ الرشیدکراچی
۲شعبان ۱۴۴۳
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالقدوس بن محمد حنیف | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


