03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حلالہ کا حکم
79028طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

تین طلاق واقع ہونےکےبعددوبارہ نکاح کب کرسکتےہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

تین طلاق دےدینےسےبیوی پر طلاق مغلظ واقع ہو جاتی ہے، اور حلالہ کے بغیر اس سے دوبارہ نکاح نہیں ہوسکتا، حلالہ کی صورت یہ ہے کہ بیوی کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے اور اس کے ساتھ وظائف زوجیت بھی پورے کرے اس کے بعد اگر وہ شخص کسی وجہ سے اسے طلاق دیدےیا اس کا انتقال ہو جائے تو پہلاشوہر بیوی کی عدت گزر جانے کے بعد اس کی صریح مرضی سے دوبارہ نکاح کر لے، اس عمل کو حلالہ کہتے ہیں، لیکن حلالہ کی نیت سے دوسری جگہ نکاح کرواناجائزنہیں ہے۔

حوالہ جات

فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} [البقرة: 230]

الدر المنثور في التفسير بالمأثور (1/ 676)

أخرج ابْن جرير وَابْن الْمُنْذر وَابْن أبي حَاتِم وَالْبَيْهَقِيّ عَن ابْن عَبَّاس فِي قَوْله {فَإِن طَلقهَا فَلَا تحل لَهُ من بعد} يَقُول: فَإِن طَلقهَا ثَلَاثًا فَلَا تحل لَهُ حَتَّى تنْكح غَيره

مشكاة المصابيح للتبريزي (2/ 247)

حديث رجاله ثقات وعن محمود بن لبيد قل : أخبر رسول الله صلى الله عليه و سلم عن رجل طلق امرأته ثلاث تطليقات جميعا فقام غضبان ثم قال : " أيلعب بكتاب الله عز و جل وأنا بين أظهركم ؟ " حتى قام رجل فقال : يا رسول الله ألا أقتله ؟ . رواه النسائي

ولی الحسنین

 دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

۲۵  جمادی الثانیہ۱۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ولی الحسنین بن سمیع الحسنین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب