03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ادھار کی صورت میں زیادہ قیمت پر فروخت کا حکم
79049خرید و فروخت کے احکاممرابحہ اور تولیہ کا بیان

سوال

ایک ڈاکٹر مجھ سے کہتا ہے کہ آپ میرے لیے دس لاکھ کی دواء خرید لو اور پھر مجھ پر بیچ دواور میں قیمت چھ ماہ بعد ادا کروں گا۔ اب میرے  لیے یہ دواء اسی ڈاکٹر کو تیرہ لاکھ کے عوض چھ ماہ کے پابند وقت پر بیچنا جائز ہے۔

میرے پاس ایک آدمی آکر کہتا ہے کہ فلاں جگہ ایک گاڑی مجھے پسند ہےوہ میرے لیے خرید لو جس میں آپ کو پچاس ہزار  ایڈوانس دوں گا ۔ گاڑی کی قیمت دس لاکھ ہے۔ کیا یہ گاڑی دس لاکھ میں خرید کر اس بندے کو تیرہ لاکھ میں تین لاکھ کے نفع کے ساتھ بیچنا جائز ہے۔ یاد رہے کہ میں اس بندے کو سات ماہ کا ٹائم بھی دیتا ہوں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نقد پر دوائی خرید کر ادھار پر ڈاکٹر کو زائد قیمت پر بیچنا ان شرائط کے ساتھ جائز ہے:

  1. ڈاکٹر کا پہلے متعلقہ بندے سے، جس سے آپ خرید رہے ہو، کوئی عقد نہ ہوا ہوکہ محض رقم کی ادائیگی کے لیےآپ کو واسطہ بنائےکیونکہ یہ سودی قرض کا حیلہ بن جائیگا۔
  2. آپ باقاعدہ خود یا اپنےکسی وکیل کے ذریعے چیز خرید کر اس پر قبضہ کرنے کے بعدڈاکٹر کو بیچیں۔
  3. بیچتے وقت ہی قیمت متعین کریں اور وقت پر قیمت ادا نہ کرنے کی وجہ سے مزید قیمت میں اضافے کا مطالبہ بھی نہ ہو۔
  4. جتنی مدّت کے لیے ادھار پر بیچا ہےوہ مدّت بھی متعین طور پر معلوم ہو۔

گاڑی نقد پر خرید کر ادھار پر زائد قیمت پر بیچنا شرائط بالا کی رعایت کےساتھ جائز ہے۔

حوالہ جات

البحر الرائق (6/ 124)

( ولو اشترى بألف نسيئة وباع بربح مائة ولم يبين خير المشتري ) لأن للأجل شبها بالمبيع ألا ترى أنه يزاد في الثمن لأجل الأجل والشبهة في هذا ملحقة بالحقيقة فصار كأنه اشترى شيئين وباع أحدهما مرابحة بثمنهما والإقدام على المرابحة يوجب السلامة عن مثل هذه الخيانة فإذا ظهرت يخير كما في العيب

«فتح القدير للكمال ابن الهمام وتكملته ط الحلبي» (6/ 261):

«قال (ويجوز البيع بثمن حال ومؤجل إذا كان الأجل معلوما) لإطلاق قوله تعالى»{وأحل الله البيع} [البقرة: 275] وعنه - عليه الصلاة والسلام - «أنه اشترى من يهودي طعاما إلى أجل معلوم ورهنه درعه» . ولا بد أن يكون الأجل معلوما؛ لأن الجهالة فيه مانعة من التسليم الواجب بالعقد، فهذا يطالبه به في قريب المدة، وهذا يسلمه في بعيدها

فقہ البیوع ج 1 ص 545

وإنّ زیادۃ الثمن من أجل الأجل ،وإن کان جائزا عند بدایۃ العقد، ولکن لا تجوز الزّیادۃ عند التّخلّف فی الأداء، فإنہ رباً فی معنی "أتقضی أم تربی؟"، وذالک لأنّ الأجل ،وإن کان منظورا عند تعیین الثمن فی بدایۃ العقد ،ولکن لمّا تعین الثمن ،فإنّ کلہ مقابل للمبیع، ولیس مقابلا للأجل، ولذلک لایجوز "ضع و تعجل" ۔ أمّا إذا زید فی الثّمن عند التّخلّف فی الأداء ، فھو مقابل للأجل مباشرۃً لا غیر، وھو الربا.

عنایت اللہ عثمانی

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

25 جمادی الثانی 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عنایت اللہ عثمانی بن زرغن شاہ

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب