03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نفسیاتی ومغلوب الحال شخص کی طلاق کا حکم
79268طلاق کے احکامبیمار کی طلاق کا بیان

سوال

میں گزشتہ کچھ سالوں سے نفسیاتی مسائل کا شکار ہوں جو کہ وقت کے ساتھ ساتھ پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں جن کی وجہ سے مجھے اپنی پڑھائی کے دوران ملازمت کے دوران اور گھریلو معاملات میں کافی مسائل کا سامنا رہا ہے۔ان نفسیاتی مسائل کی وجہ سے میں معاملات کو صحیح طریقے سے حل نہیں کر سکتا۔ میں اکثر اپنے معاملات میں دوسروں کو ان باتوں پر مورد الزام ٹھہراتا ہوں جو کہ شاید انہوں نے نہیں کی ہوتی یا بہت معمولی غلطی پر بہت سخت ردعمل کا اظہار کرتا ہوں، مجھے غصہ بہت زیادہ اور شدید آتا ہے۔ جب کوئی مجھ سے زیادہ بحث و تکرار کرے تو اس میں میں اپنے آپے سے باہر ہو جاتا ہوں اور ایسا ردعمل دیتا ہوں کہ جس کی وجہ سے مجھے بعد میں ندامت اور معافی مانگنی پڑتی ہے اور یہ میں غیر اختیاری طور پر کر جاتا ہوں۔ ماضی میں ایسی حرکتیں غصے کی حالت میں کر چکا ہوں ہوں جن میں میں اپنے حواس بحال نہ رکھ سکا اور بڑے چھوٹے کے عزت و احترام کا لحاظ کئے بغیر ایسا ردعمل دیا جس کو سوچ کر یا کسی دوسرے سے سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور پورے شعور و مکمل ہوش و حواس کے ساتھ ایسا کرنے کا میں تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ میں نے کچھ ماہر نفسیات سے اس بارے میں رائے لی ہے۔ ان سب کا یہی کہنا ہے کہ مجھے علاج کی ضرورت ہے جس میں کم سے کم چھ ماہ اور زیادہ سے زیادہ سالوں بھی لگ سکتے ہیں ۔ اگر میں علاج نہیں کراتا تو میرے معمولات زندگی شدید متاثر ہوں گے۔ اب میں ایک ماہر نفسیات سے علاج کروا رہا ہوں۔ ماہرین نفسیات کے مطابق میرا غصہ عام غصہ کی طرح نہیں ہے، میرے اس غصہ کی وجوہات میرے بچپن سے منسلک ہیں  اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس نے میری شخصیت پر بہت برے اثرات ڈالے ہیں۔ اس میں شدت آتی جا رہی ہے۔ میرے معالج کے مطابق میں اپنے سے وابستہ لوگوں کو چاہے وہ دوست ہوں یا ساتھ کام کرنے والے یا میرے گھر کے افراد میں انہیں ان باتوں کی سزا دے رہا ہوتا ہوں جو انہوں نے کی ہی نہیں ہوتی ان سے متعلق ہی نہیں ہوتی اور اس میں ان کا کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔ میرے ذہن میں غیر اختیاری اور غیر ارادی طور پر بہت زیادہ سوچیں آتی ہیں ہیں جن کی وجہ سے مجھے اپنی نمازوں میں تقریبا 70 فیصد شک و شبہ رہتا ہے کہ رکعتیں کم پڑھی ہیں یا زیادہ اور جب نماز کا اعادہ کرتا ہوں تو اس میں پھر دوبارہ شک ہو جاتا ہے۔ میرے معالج کے مطابق یہ میرے ان نفسیاتی مسائل کی ہی وجہ سے ہے، نیز یہ کہ غصے کے دوران میری سوچ و سمجھ اور عقل اپنی حد سے باہر ہوتی ہے اور میں اپنے کہے ہوئے الفاظ کے برے اثرات سے غافل ہوتا ہوں اور اپنی زبان پر پورا قابو حاصل نہیں ہوتا ۔ میرے معالج ماہر نفسیات کے مطابق میں اپنے الفاظ غیرارادی طور پر بول جاتا ہوں گا اور کہنا کچھ چاہتا ہوں اور کہہ کچھ جاتا ہوں، اگرچہ یہ حالت جنون والی نہیں ہوتی۔ میری شادی کے بعد ان نفسیاتی مسائل میں اور زیادہ اضافہ شروع ہو گیا تھا اور اسے میں ایسی حرکتیں اور باتیں کر جاتا تھا جن کا میں تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ گھریلو تنازعات کی وجہ سے شدید ذہنی دباؤ اور پریشان رہتا تھاا ور اللہ سے دعائیں کرتا تھا کہ ذہن میں منفی خیالات نہ آئے اور غصے میں کوئی ایسی حرکت نہ کر بیٹھوں جس کی وجہ سے مجھے حسرت و افسوس ہو۔ ایک دفعہ اسی طرح ایک تنازع میں مجھے شدید غصہ آیا ہوا تھا اور میں نے اپنا موبائل بھی توڑ دیا تھا اور اپنے حواس اور آپے سے باہر ہو رہا تھا اور میرے منہ سے بغیر قصد وارادے کے طلاق کےالفاظ نکل گئے ۔ مجھے الفاظ مکمل طور پر یاد نہیں ہے۔ اس وقت میں اور میری اہلیہ ہی صرف موجود تھے اور کوئی تیسرا بالغ فرد ہمارے ساتھ نہ تھا ۔ میری اہلیہ کے بقول میں نے کہا ہے کہ" میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ،میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔" میں یہ بات حلفا کہتا ہوں کہ میں نے ایسا کچھ کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ میں اپنے ارادے سے یہ کروں گا۔ اس واقعہ سے چند گھنٹے قبل تہجد میں بھی یہی دعا کر رہا تھا کہ منفی سوچیں اور خیالات نہ آئے اور کوئی ایسی بات نہ ہو جس سے سکون خراب ہو جائے۔ لہذا اب میری ذہنی کیفیت اورنفسیاتی مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے بتائیں کی طلاق ہوئی ہے یا نہیں ہوئی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر آپ واقعۃ سؤال میں ذکر کردہ حالت میں مبتلا ہیں اوراس حالت کے ساتھ عام لوگوں میں یا کم از کم اپنے خاندان یا دوست واحباب کے ہاں معروف بھی ہیں،جیساکہ سؤال میں ذکر کردہ تفصیل میں ڈاکٹر اوربعض دوست احباب کی تصدیق ومعرفت کا ذکربھی ہےاورطلاق دیتے وقت آپ کی ذہنی کیفیت سؤال میں ذکرکردہ حد تک بگڑی ہوئی بھی تھی توایسی حالت میں آپ جیسے شخص کی طلاق واقع نہیں ہوتی۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 244):

مطلب في طلاق المدهوش وقال في الخيرية: غلط من فسره هنا بالتحير، إذ لا يلزم من التحير وهو التردد في الأمر ذهاب العقل. وسئل نظما فيمن طلق زوجته ثلاثا في مجلس القاضي وهو مغتاظ مدهوش، أجاب نظما أيضا بأن الدهش من أقسام الجنون فلا يقع، وإذا كان يعتاده بأن عرف منه الدهش مرة يصدق بلا برهان. اهـ. قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله.

الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. اهـ. ملخصا من شرح الغاية الحنبلية، لكن أشار في الغاية إلى مخالفته في الثالث حيث قال: ويقع الطلاق من غضب خلافا لابن القيم اهـ وهذا الموافق عندنا لما مر في المدهوش، لكن يرد عليه أنا لم نعتبر أقوال المعتوه مع أنه لا يلزم فيه أن يصل إلى حالة لا يعلم فيها ما يقول ولا يريده وقد يجاب بأن المعتوه لما كان مستمرا على حالة واحدة يمكن ضبطها اعتبرت فيه واكتفي فيه بمجرد نقص العقل، بخلاف الغضب فإنه عارض في بعض الأحوال، لكن يرد عليه الدهش فإنه كذلك. والذي يظهر لي أن كلا من المدهوش والغضبان لا يلزم فيه أن يكون بحيث لا يعلم ما يقول بل يكتفى فيه بغلبة الهذيان واختلاط الجد بالهزل كما هو المفتى به في السكران على ما مر، ولا ينافيه تعريف الدهش بذهاب العقل فإن الجنون فنون، ولذا فسره في البحر باختلال العقل وأدخل فيه العته والبرسام والإغماء والدهش. ويؤيده ما قلنا قول بعضهم: العاقل من يستقيم كلامه وأفعاله إلا نادرا، والمجنون ضده. وأيضا فإن بعض المجانين يعرف ما يقول ويريده ويذكر ما يشهد الجاهل به بأنه عاقل ثم يظهر منه في مجلسه ما ينافيه، فإذا كان المجنون حقيقة قد يعرف ما يقول ويقصده فغيره بالأولى، فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن الإدراك الصحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل، نعم يشكل عليه ما سيأتي في التعليق عن البحر. وصرح به في الفتح والخانية وغيرهما، وهو: لو طلق فشهد عنده اثنان أنك استثنيت وهو غير ذاكر، وإن كان بحيث إذا غضب لا يدري ما يقول وسعه الأخذ بشهادتهما وإلا لا اهـ مقتضاه أنه إذا كان لا يدري ما يقول يقع طلاقه وإلا فلا حاجة إلى الأخذ بقولهما إنك استثنيت، وهذا مشكل جدا، وإلا أن يجاب بأن المراد بكونه لا يدري ما يقول أنه لقوة غضبه قد ينسى ما يقول ولا يتذكره بعد، وليس المراد أنه صار يجري على لسانه ما لا يفهمه أو لا يقصده إذ لا شك أنه حينئذ يكون في أعلى مراتب الجنون، ويؤيده هذا الحمل أنه في هذا الفرع عالم بأنه طلق وهو قاصد له، لكنه لم يتذكر الاستثناء لشدة غضبه، هذا ما ظهر لي في تحرير هذا المقام، والله أعلم بحقيقة المرام ثم رأيت ما يؤيد ذلك الجواب، وهو أنه قال في الولوالجية: إن كان بحال لو غضب يجري على لسانه ما لا يحفظه بعده جاز له الاعتماد على قول الشاهدين، فقوله لا يحفظه بعده صريح فيما قلنا والله أعلم.

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۸رجب۱۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب