03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جائیدا د فرضی طور پرکسی کے نام کرنےحکم
79184جائز و ناجائزامور کا بیانبچوں وغیرہ کے نام رکھنے سے متعلق مسائل

سوال

ہمارے  مرحوم  والد  حاجی کمال  نے  اپنی زندگی  میں  کچھ  جائداد  فرضی  طور پر ایک بیٹے  کے نام اور کچھ جائداد  اپنے بھائی کے نام کردی تھی،  لیکن قبضہ  اپنے پاس ہی رکھا ،ان  لوگوں کےحوالے  نہیں  کیاتھا ، تو  ان   جائیداد  وں  کا  کیاحکم  ہے،کہ کس کو  ملے گی جن  کے نام کیاتھا ان کو    یا میراث  میں  شامل ہوکر  تمام  ورثاء میں تقسیم ہوگی ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

زندگی میں اولاد کو مال  دینا  یہ  ھبہ  ہے ،اس میں  سب  اولاد میں  مساوات  برابری کرنا مستحب ہے ،کسی وجہ ترجیح ﴿دینداری ،خدمت گذاری ،احتیاج وغیرہ ﴾کے بغیر کسی کو کم وزیادہ دینے  میں بھی  اگردیگر  ورثاء کو  ضرر پہنچانے  کی نیت  ہے  تو یہ بھی سخت  گناہ  ہے، جبکہ کسی  وارث کو بالکل محروم کرنا ناجائز ہے ، تاہم زندگی میں مال کا  کچھ حصہ کسی  وارث کو  قبضہ دے کر مالک بنادیا جائے  تو  وہ  اس مال کا مالک بن جاتا  ہے  ۔لیکن  والد ایسا کرنے سے  گناہگار  ہوگا ۔

اس وضاحت  کے بعد مسئولہ  صورت میں   بقول سائل مرحوم حاجی  کمال نے فرضی  طور پر اپنے  ایک بیٹے اور  بھائی  کے نام جائیداد کی تھی  لیکن با قاعدہ  قبضہ دے کر مالک  نہیں  بنایا  تھا اگر  واقعی  یہ بات  درست  ہے   تو بیٹا  اور  بھائی اس جائیداد  کے مالک نہیں  بنے،بلکہ  وہ جائیداد  بدستور  حاجی  صاحب  مرحوم کی ملک  میں باقی  ہے ،

لہذا  وہ ترکے میں  شامل ہوکر  تمام  ورثاء  میں  شرعی  اصول کے  مطابق  تقسیم ہوگی۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 690)

(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها،

ولو وھب  جمیع  مالہ لابنہ  جاز  فی  القضا ء وھو اثم  ثم نص محمد   رحمہ اللہ  تعالی ھکذا  فی  العیون  ، ولواعطی بعض ولدہ  شئیا دون  البعض لزیادة  رشدہ  لا باس بہ وان کانا سواء لاینبغی ان یفضل ﴿ خلاصة  الفتاوی ص/400﴾        

احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ    

دارالافتاء جامعة الرشید     کراچی

۲رجب  ١۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

احسان اللہ شائق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب