| 79086 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے فاسد معاملات کا بیان |
سوال
ہمارےہاں کچھ ایسے لوگ ہیں جو اپنی دودھ والی گائے اور بھینس کوکرائے پر دیتے ہیں،جب کہ میں نے کہیں سے سنا ہے کہ اس طرح کرنا جائز نہیں ہے ،آپ ذرا رہنمائی فرما دیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
دودھ والے جانور کو دودھ کے لیےکرائے پر دینا اور لینا شرعا جائز نہیں ہے۔
حوالہ جات
في بدائع الصنائع:وإذا عرف أن الإجارۃ بیع المنفعۃ فنخرج علیھا بعض المسائل فنقول: ولا تجوز إجارۃ الشاۃ للبنھا أو سمنھا أو صوفھا أو ولدھا،لأن ھذہ أعیان فلا تستحق بعقد الإجارۃ،وکذا إجارۃ الشاۃ لترضع جدیا أو صبیا لما قلنا.(بدائع الصنائع:5/518)
في الدر مع الرد:وجاز إجارۃ الحمام ..والظئر المرضعۃ بأجر معین لتعامل الناس،نخلاف بقیۃ الحیوانات لعدم التعارف.(بخلاف بقیۃ الحیوانات )أي بخلاف إستئجارھا للإرضاع.
وفي التاتارخانیۃ:استأجر بقرۃ لیشرب اللبن أو کرما أو شجرا لیأکل ثمرۃ أو أرضا لیرعي غنمہ القصیل أو شاۃ لیجز صوفھا فھو فاسد کلہ ،وعلیہ قیمۃ الثمرۃ…لأنہ ملک الآجر ..بعقد فاسد.(الشامیۃ:9/72)
سید سعد عمر شاہ
دار الإفتاء،جامعۃ الرشید،کراچی
21/ جمادی الثانیۃ /۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید سعد عمر شاہ بن سید مہتاب شاہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


