| 78719 | نماز کا بیان | امامت اور جماعت کے احکام |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے محلے کے امام صاحب پہلے سنت پر عمل کرتے ہیں پھر فرض کی طرف آتے ہیں،مطلب یہ ہے کہ پہلے ہاتھ باندھتے ہیں پھر دوتین سیکنڈبعد تکبیر تحریمہ پڑھتے ہیں،کیا یہ طریقہ غلط ہے؟اگر غلط ہے تو قرآن وحدیث کی روشنی میں ہماری راہنمائی فرمادیں کہ امام صاحب کو کس طرح اس پر مطلع کیا جائے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
تکبیر تحریمہ کے لیے ہاتھ اٹھانے سے متعلق تین طریقے منقول ہیں:
1- پہلے دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھا لیے جائیں، پھر تکبیر تحریمہ "الله اکبر" کہہ کر نماز شروع کی جائے اور تکبیر ختم ہوتے ہی ہاتھ باندھ لیے جائیں۔
2- تکبیر تحریمہ اور ہاتھوں کو کانوں تک اٹھانا ایک ساتھ ہو، ایک ساتھ شروع ہو کر ایک ساتھ ہی ختم ہوں، یعنی تکبیر کے ختم ہونے تک ہاتھ باندھ لیے جائیں۔
3- پہلے تکبیر تحریمہ شروع کی جائے، اس کے فوراً بعد ہاتھ کانوں تک اٹھا کر باندھ لیے جائیں اور ایک ساتھ دونوں (تکبیر تحریمہ اور ہاتھوں کو زیر ناف باندھنے) کو ختم کیا جائے۔
مذکورہ بالا تینوں صورتوں سے نماز ادا ہو جاتی ہے، تاہم ان میں میں سے پہلا اور دوسرا طریقہ افضل ہے، جبکہ تیسرا طریقہ بھی جائز ہے، لیکن احتیاط کے خلاف ہے۔
صورت مسئولہ میں نماز ہو جائے گی، لیکن ہاتھ باندھنے تک تکبیر کو مؤخر کرنے کی عادت درست نہیں، کیونکہ ہاتھ باندھ لینے کے بعد ثناء پڑھی جاتی ہے، نہ کہ تکبیرکہی جاتی ہے، لہذا تکبیر تحریمہ ہاتھ باندھ لینے تک ختم ہونی چاہیے۔
حوالہ جات
البحر الرائق: (322/1):
"وفيه ثلاثة أقوال: القول الأول أنه يرفع مقارنا للتكبير، وهو المروي عن أبي يوسف قولا والمحكي عن الطحاوي فعلا واختاره شيخ الإسلام وقاضي خان وصاحب الخلاصة والتحفة والبدائع والمحيط حتى قال البقالي هذا قول أصحابنا جميعا ويشهد له المروي عنه عليه الصلاة والسلام: «أنه كان يكبر عند كل خفض ورفع» وما رواه أبو داود: «أنه صلى الله عليه وسلم كان يرفع يديه مع التكبير» وفسر قاضي خان المقارنة بأن تكون بداءته عند بداءته وختمه عند ختمه.
القول الثاني: وقته قبل التكبير، ونسبه في المجمع إلى أبي حنيفة ومحمد، وفي غاية البيان إلى عامة علمائنا، وفي المبسوط إلى أكثر مشايخنا وصححه في الهداية ويشهد له ما في الصحيحين عن ابن عمر قال النبي صلى الله عليه وسلم: «إذا افتتح الصلاة رفع يديه حتى يكونا حذو منكبيه، ثم كبر».
القول الثالث: وقته بعد التكبير فيكبر أولا، ثم يرفع يديه ويشهد له ما في الصحيح لمسلم: «أنه صلى الله عليه وسلم كان إذا صلى كبر ثم رفع يديه» ورجح في الهداية ما صححه بأن فعله نفى الكبرياء عن غيره تعالى والنفي مقدم على الإيجاب ككلمة الشهادة وأورد عليه أن ذلك في اللفظ فلا يلزم في غيره، ورد بأنه لم يدع لزومه في غيره، وإنما الكلام في الأولوية، ففي الأقوال الثلاثة رواية عنه عليه السلام فيؤنس بأنه صلى الله عليه وسلم فعل كل ذلك ويترجح من بين أفعاله هذه تقديم الرفع بالمعنى المذكور وتحمل".
الجوھرۃ النیرۃ: (29/1):
"والاصح انہ یرفع اولا فاذا استقرتا فی موضع المحاذاۃ کبر"
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
09/جمادی الثانیہ1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


