03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
متوفی کا مال بلا اجازت ورثہ صدقہ کرنے کا حکم
79551میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

پہلی بیوی کے تین چار سو کے قریب کپڑے تھے جن میں سے اکثر کپڑے شرعی طور پر تقسیم کرنے کے بجائے ضرورت مندوں کو دے دیے گئے ہیں۔ اگر اس کا گناہ ہوگا تو کس پر ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کسی کے مال میراث کو اس کے ورثہ کی اجازت کے بغیر صدقہ کرنا درست نہیں ہے۔  البتہ اگر سب ورثہ بالغ ہوں تو ان کی اجازت کے ساتھ درست ہے۔

مذکورہ صورت میں اگر یہ کپڑے ورثہ کی اجازت سے صدقہ کیے گئے ہیں تو اس کا گناہ کسی پر نہیں اور اگر بلا اجازت دیے گئے ہیں اور ورثہ اس صدقہ پر راضی نہیں ہیں اور باقی ماندہ کپڑوں سے ان کے حصہ کی ادائیگی ممکن نہیں تو صدقہ کرنے والا اس بات کا پابند ہے کہ دیگر ورثہ کو ان کے حصہ کے بقدر کپڑوں کی قیمت ادا کرے۔

حوالہ جات

مجلة الأحكام العدلية (ص: 209)

المادة (88 0 1) لأحد الشريكين إن شاء بيع حصته إلى شريكه إن شاء باعها لآخر بدون إذن شريكه. انظر المادة (5 1 2) أما في صورة خلط الأموال واختلاطها التي بينت في الفصل الأول فلا يسوغ لأحد الشريكين أن يبيع حصته في الأموال المشتركة المخلوطة أو المختلطة بدون إذن شريكه۔

ولی الحسنین

 دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

 ۲۶ رجب ۱۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ولی الحسنین بن سمیع الحسنین

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب