| 79294 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک آدمی نے میراث میں 2,000,000 (بیس لاکھ) روپے چھوڑے ہیں اورورثہ میں اس کی بیوی ،دوبیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں،ان سب کے حصے میں کتنی رقم آئے گی؟وضاحت فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
انہوں نے فوت ہوتے وقت ترکہ میں جو کچھ چھوڑا تھا وہ سب ورثہ میں شرعی طور پر تقسیم ہوگا،جس کی صورت یہ ہے کہ تمام مال واسباب کی قیمت لگائی جائے،اور اس سے کفن دفن کے معتدل اخراجات نکالے جائیں،پھر اگر میت پر قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے،اس کے بعد بقیہ مال ورثہ میں تقسیم کیاجائے،ان کے ورثہ میں ایک بیوی ،دو بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں ،جن میں میراث کی تقسیم اس طرح ہوگی:
1۔ بیوی: 12.5 فیصد حصہ ملے گا۔
2۔ دوبیٹوں کا مجموعی حصہ:38.89(یعنی ہر بیٹے کو19.445فیصد حصہ ملے گا۔)
3۔پانچ بیٹیوں کا مجموعی حصہ: 48.61(یعنی ہر بیٹی کو 9.722فیصد حصہ ملے گا۔)
بیوی کو دولاکھ پچاس ہزار،(250,000)، ہر بیٹے کو تین لاکھ اٹھاسی ہزار،آٹھ سو ،اٹھاسی روپے،نواسی پیسے(388,888.89) ملیں گے۔اور ہر بیٹی کو ایک لاکھ،چورانوے ہزار،چارسو چوالیس روپے،چوالیس پیسے (194,444.44) ملیں گے
حوالہ جات
....
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
15/رجب1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


