03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک بیوہ،چار بیٹیاں اور تین حقیقی بھائیوں کے درمیان تقسیم میراث
79599میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ایک آدمی کا انتقال ہوگیا ہے ،اس کی ایک بیوہ،چار بیٹیاں اور تین حقیقی بھائی ہیں ۔اب ان کے درمیان میراث کیسے تقسیم ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم کے ترکہ میں سب سے پہلے تجہیز وتکفین کے متوسط اخراجات  اداء کیے جائیں گے ، بشرطیکہ کسی نے اپنی خوشی سے اپنے طور   پر نہ دیے ہوں ،پھراگر ان کے ذمہ کوئی قرض ہو وہ ادا کیا جائے،پھراگر مرحوم نے وصیت کی ہے وہ ایک تہائی مال سے  پوری کی جائے،پھر اگر اس کے والدین میں سےکوئی زندہ نہیں توباقی ترکہ  ، بیوی ،چار بیٹیوں اور تین بھائیوں میں تقسیم ہوگا۔ کل ترکہ کے 72 حصے بناکربیوی کو نو  حصے،ہر بیٹی  کوبارہ حصے  اور ہر بھائی  کوپانچ حصے دیے جائیں گے۔فیصد کے اعتبار سے بیوی  کو12.50%ہر بیٹی  کو16.6675% جب کہ ہربھائی کو5.2075% فیصد ملے گا۔

آسانی کے لیے نقشہ ملاحظہ ہو:

ورثہ

مجموعی فیصدی حصہ

ہروارث کا فیصدی حصہ

بیوی

12.50%

12.50%

چار بیٹیاں

66.67%

16.6675%

تین بھائی

20.83%

5.2075%

کل فیصد

……………………………………………………...

100%

حوالہ جات

قال اللہ تعالی: يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَيَيْنِ تَرَكْنَ ۚ مِنۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍۢ يُوصِينَ بِهَآ أَوْ دَيْنٍۢ ۚ وَلَهُنَّ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم.  (النساء:۱۱)

وقال العلامۃ القاضی خان:اولي العصبات بالميراث: الإبن ،ثم ابن الإبن وإن سفل .

(الفتاوى التاتارخانية:20/457)

العصبة من يأخذ جميع المال عند انفراده، وما أبقته الفرائض عند وجود من له الفرض المقدر.

(تبیین الحقائق:6/237)

محمد عمربن محمد  الیاس

دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی

27رجب،1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد عمر بن محمد الیاس

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب