03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
محفلِ حُسنِ قراءت کے آداب
80050جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

محفلِ حُسنِ قراءت کے موقع پر دورانِ تلاوت قاری صاحب کو داد دینا جائز ہے یا نہیں؟ قاری صاحب کے ہاتھ یا ماتھے کا بوسہ لینا کیسا ہے؟ دورانِ تلاوت "سبحان اللہ" یا "ما شاء اللہ" کہنا کیسا ہے؟ قاری صاحب کو داد دینے کے لیے دورانِ تلاوت اُٹھنا اور ہاتھ اُٹھانا کیسا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

قرآنِ کریم کی تلاوت اور اُس کا سننا کارِ ثواب ہے، نیز لوگوں کے دلوں میں قرآن کریم اور تجوید کا شوق پیدا کرنے کے لیے اور قرآن کی تعلیم کو عام کرنے کے لیے اجتماعات منعقد کرنا فی نفسہٖ جائز ہے۔ لیکن چونکہ آج کل مروّجہ محافل یا اجتماعات میں بہت سے منکرات دیکھنے اور سننے کو ملتے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے ایسی بابرکت محفلوں کے بارے میں لوگوں کے ذہنوں میں طرح طرح کے سوالات پیدا ہونے شروع ہوچکے ہیں۔ مثلاً: بلا ضرورت ویڈیوز اور تصاویر بنائی جاتی ہیں، قرآن پڑھنے اور سننے کے آداب کا لحاظ نہیں رکھا جاتا، بعض اوقات اجتماع ایسی جگہ یا ایسے وقت میں کیا جاتا ہے جو لوگوں کے لیے تکلیف کا سبب بنتا ہے۔ چنانچہ ایسی محافل بسا اوقات گناہ کا سبب بھی بن جاتی ہیں۔ ذیل میں محفلِ حُسنِ قراءت کے آداب لکھے جا رہے ہیں، اُس کی پاسداری کرنا ضروری ہے:

1. محفلِ حُسنِ قراءت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور لوگوں کے دلوں میں قرآن کی تعلیم اور تجوید کا شوق پیدا کرنا مقصود ہو۔

2. ریاء اور نام و نمود مقصود نہ ہو۔

3. تلاوتِ قرآن میں تجوید کے قواعد کی مکمل رعایت کی جائے، اور قرآن کریم کو خوش الحانی سے پڑھا جائے۔

4. گانے کے طرز میں قرآن نہ پڑھا جائے۔

5. قُرّاء اور سامعین حضرات قرآن کریم کے آداب کا پورا اہتمام کریں۔ یعنی قرآن پڑھتے اور سنتے وقت اصل توجہ مضامینِ قرآن کی طرف رکھیں، اور جو لوگ قرآن کے مفاہیم نہیں سمجھ سکتے، ان کو اس پر توجہ دینی چاہیے کہ قرآن کا تلفظ کس طرح کیا جا رہا ہے۔

6. مرد و زن کا اختلاط نہ ہو۔

7. لاؤڈ اسپیکر کا استعمال بقدرِ ضرورت ہو، جس سے کسی کے آرام یا عبادت میں خلل واقع نہ ہو۔

8. زیبائش و آرائش کے لیے فضول خرچی نہ کی گئی ہو۔

9. ایسی جگہوں پر محافل کا انعقاد نہ کیا جائے، جس سے لوگوں کو تکلیف ہو۔

10. قاری صاحب کے لیے تلاوتِ قرآن کریم پر اُجرت طے نہ کی جائے، البتہ قاری صاحب کی آمد و رفت اور کھانے پینے کا خرچہ اُجرت میں شامل نہیں ہے، لہٰذا اُس کے دینے اور لینے میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔

مذکورہ بالا شرائط کی رعایت کرتے ہوئے قاری صاحب کو اچھے اور خوب صورت لب و لہجہ میں تلاوت کرنے پر داد دینا یا دعائیہ کلمات کہہ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ نیز قاری صاحب کا ہاتھ یا ماتھا چومنا بھی جائز ہے، بشرطیکہ اس میں تعظیم کی نیت نہ ہو۔

حوالہ جات

في الأعراف: (204-205):

{وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (204) وَاذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ وَلَا تَكُنْ مِنَ الْغَافِلِينَ}.

سنن الترمذي (4/593):

"عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ جُبِّ الحَزَنِ»، قالوا: يا رسول الله: وَمَا جُبُّ الحَزَنِ؟ قال: «وَادٍ فِي جَهَنَّمَ تَتَعَوَّذُ مِنْهُ جَهَنَّمُ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ». قلنا: يا رسول الله وَمَنْ يَدْخُلُهُ؟ قال: «الْقَرَّاءُونَ الْمُرَاءُونَ بِأَعْمَالِهِمْ».

تفسير ابن كثير (3/538):

"وقال مبارك بن فَضالة، عن الحسن: إذا جلست إلى القرآن، فأنصت له."

الدر المختار (6/383):

مسند أحمد بن حنبل (2/341):

"عن أبي هريرة أن رسول الله - صلى الله عليه و سلم - قال: من استمع إلى آية من كتاب الله - تعالى - كتب له حسنة مضاعفة، ومن تلاها كانت له نورا يوم القيامة."

التفسير المنير (9/229):

"أما ترك الاستماع والإنصات للقرآن المتلو في المحافل، فمكروه كراهة شديدة، وعلى المؤمن أن يحرص على استماع القرآن عند قراءته، كما يحرص على تلاوته والتّأدّب في مجلس التّلاوة."

تفسير الشيخ المراغى (9/156):

"وما يفعله جماهير الناس فى المحافل التي يقرأ فيها القرآن كالمآتم وغيرها من ترك الاستماع والاشتغال بالأحاديث المختلفة، فمكروه كراهة شديدة."س

البحر الرائق (5/82):

"وقال الإمام شمس الأئمة السرخسي: ففي هذا الحديث [كان أصحاب رسول الله يكرهون الصوت عند ثلاث الجنائز والقتال والذكر] بيان كراهة رفع الصوت عند سماع القرآن والوعظ، فتبين به أن ما يفعله الذين يدعون الوجد والمحبة مكروه لا أصل له في الدين."

الدر المختار (6/383):

"(ولا بأس بتقبيل يد) الرجل (العالم) والمتورع على سبيل التبرك. درر. ونقل المصنف عن الجامع أنه لا بأس بتقبيل يد الحاكم والمتدين (السلطان العادل)، وقيل: سنة. مجتبى. (وتقبيل رأسه) أي العالم (أجود)، كما في البزازية."

رد المحتار (26/436):

"(قوله: وأما على وجه البر، فجائز عند الكل)، قال الإمام العيني بعد كلام: فعلم إباحة تقبيل اليد والرجل والرأس والكشح، كما علم من الأحاديث المتقدمة إباحتها على الجبهة، وبين العينين، وعلى الشفتين على وجه المبرة والإكرام."

محمد مسعود الحسن صدیقی

دارالافتاء جامعۃ الرشید، کراچی

26/شعبان المعظم/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد مسعود الحسن صدیقی ولد احمد حسن صدیقی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب