| 79155 | نکاح کا بیان | نکاح صحیح اور فاسد کا بیان |
سوال
اگر کوئی شادی شدہ عورت جو کہ تین ،چار میں کی حاملہ ہو، اور اسی حالت میں کسی غیر مرد سے کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرلے ،تو اس عورت کا نکاح باقی رہے گا؟کیا یہ عورت توبہ کرکے اپنے شوہر کے ساتھ رہ سکتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
’’زنا‘‘ کبیرہ گناہوں میں سے سخت ترین گناہ ہے۔قرآن وحدیث میں اس کی شدید مذمت کی گئی ہے اور اس کے کرنے والے کے بارے میں سخت وعیدیں بیان کی گی ہیں ۔خصوصاً شادی شدہ مردیاعورت کا زنا کا مرتکب ہونا انتہائی گھناوٴنا اور سنگین جرم ہے، جس کی دنیوی واخروی سزا بہت سخت ہے۔ ایسی عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس گناہ کاذکر کسی سامنے نہ کرےاور اللہ کے حضور خُوب گِڑگِڑا کر سچی توبہ کرے۔
البتہ اس حرام عمل کی وجہ سے نکاح پر کوئی اثرنہیں پڑا ، تاہم اس عورت کے لیے ضروری ہےکہ آ ئندہ کے لیے اس سنگین گناہ سے بچنے کا اہتمام کرےاور غیرمحرم مردوں کے ساتھ میل جول سے بھی اجتناب کرے۔
حوالہ جات
القرآن : [الإسراء: 32]
{وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا }
سنن ابن ماجہ: تاب الزهد باب ذكر التوبة (حديث رقم: 4250 )
عن أبي عبيدة بن عبد الله، عن أبيه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «التائب من الذنب، كمن لا ذنب
عدنان اختر
دارالافتاءجامعۃ الرشید کراچی
۲۹؍جمادی الثانیہ؍۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عدنان اختر بن محمد پرویز اختر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


