03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غیر متوازن دماغی کیفیت میں فوت شدہ نمازوں کا حکم
80382نماز کا بیانمریض کی نماز کا بیان

سوال

میری والدہ محترمہ جن کا انتقال آج سے چار سال قبل ہوا، ان کی عمر تقریبا 90 سال سے زیادہ تھی۔ میرے والد صاحب آج سے چھ سال قبل اس دنیا سے چلے گئے۔ اس وقت والدہ صاحبہ کی طبیعت ایسی تھی کہ نماز پڑھ لیتی تھیں، کھانا بھی کھا لیتی تھیں، لیکن کبھی کبھار دماغی طور پر کچھ الٹی باتیں کر لیتی تھیں۔ والد صاحب کی وفات کے بعد ان کی طبیعت میں خاصا تغیروتبدل آیا۔ انہیں دماغی طور پر خلجان ہونا شروع ہوگیا۔ الٹی پلٹی باتیں کرتیں اپنے کمرے میں کہتیں کہ مجھے لوگ (جنات تنگ کرتے ہیں۔) میرے باتھ روم میں لوگ آئے ہیں اور مجھے زد کوب کرتے ہیں۔ آہستہ آہستہ نماز اور قرآن سے دور ہو گئیں ۔کہتیں کہ مجھے پیشاب کی وجہ سے کپڑے ناپاک ہو گئے ہیں ،لیکن دل کرتا تو پڑھ بھی لیتی تھیں اور کبھی ساری نمازیں اکٹھی پڑھ لیتی تھیں ۔ان کے معاملات بگڑتے گئے اور ا یک سال کے اندر کافی خراب ہو گئے ۔ معاملہ چلتا رہا، کمزوری بڑھتی رھی ۔ آخر 5 سال کے لمبے عرصہ کے بعد، پیشاب وغیرہ بستر پر کرنے لگ گئیں اور اسی حالت میں بے ہوشی کے عالم میں اللہ کو پیاری ہو گئیں۔ محترم یہ پورا عرصہ 5سال بنتا ہے، جس میں انہوں نے نماز نہیں پڑھی۔ ان کی ظاہری صورت دماغی خرابی تھی اور وہ اپنے آپ پر ان کا کنٹرول نہیں تھا۔

   اب سؤال یہ ہے کہ ان کی  جونمازیں قضا ہوئیں کیا ان پر فدیہ شریعت مطہرہ کے مطابق بنتا ہے؟ اگر بنتاہے تو آپ حساب بنا کر مجھے بتائیں تاکہ میں ادا کر سکوں۔ کیا رقم یکمشت ادا کرنی ہوگی یا آہستہ آہستہ؟ پھر ماہ/3ماہ بعد /چھ ماہ بعد یا سال بعد بھی ادا کی جا سکتی ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جب وہ دماغی توازن کے لحاظ سے عام معمول کے مطابق نہیں تھی،اور اسی حالت میں پانچ نمازوں سے زائد نمازیں قضاء ہوئیں اور انہیں اس دوران یا اس کے بعدجزوی طور پر یا مکمل طور پر  قضاء نمازیں دھرانے کا  موقع نہیں ملا تو ایسی صورت میں ان کے ذمہ ان فوت شدہ نمازوں کی قضاء یا وفات کے بعد فدیہ دینا لازم نہیں۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 102)

(ومن جن أو أغمي عليه) ولو بفزع من سبع أو آدمي (يوما وليلة قضى الخمس وإن زاد وقت صلاة) سادسة (لا) للحرج. ولو أفاق في المدة، فإن لإفاقته وقت معلوم قضى وإلا لا (زال عقله ببنج أو خمر) أو دواء (لزمه القضاء وإن طالت) لأنه بصنع العباد كالنوم.

 (قوله فإن لإفاقته وقت معلوم) مثل أن يخف عنه المرض عند الصبح مثلا فيفيق قليلا، ثم يعاوده فيغمى عليه تعتبر هذه الإفاقة فيبطل ما قبلها من حكم الإغماء إذا كان أقل من يوم وليلة وإن لم يكن لإفاقته وقت معلوم لكنه يفيق بغتة فيتكلم بكلام الأصحاء ثم يغمى عليه فلا عبرة بهذه الإفاقة ح عن البحر.

نواب الدین 

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
23/11/1444

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب