03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ناجائز آمدنی کو قرض کی ادائیگی میں استعمال کرنے کا حکم
80123جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

میں برطانیہ میں رہتا ہوں، فاریکس کا کام کرنا چاہتا ہوں لیکن میں جانتا ہوں کہ یہ حرام ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ فرض کریں میں فاریکس میں تجارت کرتا ہوں اور مہینے کے آخر میں ہزار ڈالر کماتا ہوں، اسی وقت میں بینک سے ایک ہزار قرض لیتا ہوں، پھر یہ قرض فاریکس کی کمائی کے ایک ہزار سے ادا کردیتا ہوں تو کیا یہ حیلہ اختیار کرنا میرے لیے حلال ہے؟ میں قرض پر سود ادا نہیں کروں گا؛ کیونکہ برطانیہ میں اگر آپ قرض لیتے ہیں اور پہلے 14 دنوں میں اسے واپس کرتے ہیں تو کوئی سود نہیں لیا جاتا۔ اگر میں یہ کام ہر ماہ کرتا رہوں تو یہ کمائی میرے لیے حلال ہوگی؟ اس کے علاوہ اگر کوئی شرعی حیلہ ہو تو برائے مہربانی لکھ کر آگاہ کردیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جو تجارت شرعا جائز نہ ہو وہ صرف اس وجہ سے جائز نہیں ہوجاتی کہ اس کا نفع کہاں استعمال ہوتا ہے، بلکہ نفع ہو یا نہ ہو وہ کام ناجائز ہی رہتا ہے اور اس سے بچنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر کسی نے کوئی ناجائز تجارت کی ہو تو اس پر توبہ و استغفار، آئندہ اس سے اجتناب کا پکا عزم اور آمدنی ہونے کی صورت میں ساری آمدنی بلا نیتِ ثواب صدقہ کرنا لازم ہوتا ہے۔  

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں آپ کے لیے فاریکس کی ناجائز تجارت کرنا اور اس کی آمدنی کو قرض (اگرچہ بلاسود ہو) کی ادائیگی سمیت کسی بھی شکل میں استعمال کرنا جائز نہیں، حرام ہے، جس سے اجتناب لازم اور ضروری ہے۔ ناجائز تجارت یا اس کے نفع کو جائز کرنے کا کوئی شرعی حیلہ نہیں ہے، لہٰذا آپ فاریکس کے بجائے کوئی جائز تجارت اور کاروبار شروع کریں۔  

حوالہ جات

۔..

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

    23/شوال المکرم/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب