| 80310 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
ایک شخص مثلاً (عمرو ) زید کو فری بجلی مہیا کرتا ہے۔ اب زید کو یہ شک ہے کہ جو شخص مجھے فری میں بجلی دیتا ہے وہ خود سود کا کام کرتا ہے تو زید اندازے سے غریب لوگوں کو پیسے صدقہ کے طور پر دیتاہے، تاکہ یہ اس کی عوض ہوجائے ۔ کیا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں ؟یعنی زید کا مطلب یہ ہے کہ میں صدقہ دے دوں تاکہ میں جو بجلی استعمال کرتا ہوں اگر وہ شخص اس میں سود کی رقم دیتا ہو تو یہ اس کا عوض ہوجائے۔تفصیلی جواب دے کر ممنون فرمائیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جمہور فقہاء کی رائے کے مطابق یہ کافی اور درست نہیں،اس لیے کہ سودی کاروبار کرنے والے سے ناجائز رقم کے ذریعہ حاصل کی جانے والی چیز کا استعمال نہ تو بلا قیمت درست ہے اور نہ ہی قیمت ادا کر کے لینا جائز ہے،نیزسودلینے والے پر سود کی رقم اصل مالک کو واپس کرنا لازم ہے، اس لیے کہ اس میں ناجائز کا استعمال اور سود خورکے عمل کی تایید ہوتی ہے۔البتہ بعض اہل فتوی کے مطابق جب تک ناجائزرقم پر معاملہ اوراس سے بالفعل ادائیگی نہ ہوتواس وقت تک ایسی ناجائز کمائی سے خریدی گئی چیز کا استعمال جائز ہے،لہذا اگر مجبوری اور ضرورت نہ ہو تو جمہور کے مطابق عمل کرنا چاہئے،البتہ مجبوری کی صورت میں دوسری رائے پر بھی عمل کی گنجائش ہے۔(احسن الفتاوی:ج۸،ص۱۰۴)
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 189)
وإن كانا مما لا يتعين فعلى أربعة أوجه فإن أشار إليها ونقدها فكذلك يتصدق (وإن أشار إليها ونقد غيرها أو) أشار (إلى غيرها) ونقدها (أو أطلق) ولم يشر (ونقدها لا) يتصدق في الصور الثلاث عند الكرخي قيل (وبه يفتى) والمختار أنه لا يحل مطلقا كذا في الملتقى ولو بعد الضمان هو الصحيح كما في فتاوى النوازل واختار بعضهم الفتوى على قول الكرخي في زماننا لكثرة الحرام وهذا كله على قولهما.
(قوله أو أطلق) بأن قال اشتريت بألف درهم ونقد من دراهم الغصب أو الوديعة عزمية، وفي التتارخانية عن الذخيرة أنه إذا أطلق ولم يشر، فإن نوى النقد منها فلا يخلو إن حقق نيته فنقد منها، فالأصح أنه لا يطيب، وإن لم يحقق نيته بطيب،؛ لأن مجرد العزم لا أثر له، وإن لم ينو ثم نقد منه طاب قال الحلواني: إنما يطيب إذا نوى أن لا ينقد منها ثم بدا له فنقد أما إذا نوى النقد منها مع علمه أنه ينقد لا يطيب اهـ ملخصا.
وفي البزازية وقول الكرخي عليه الفتوى ولا تعتبر النية في الفتوى ثم حمل ما مر على حكم الديانة (قوله قيل وبه يفتى) قاله في الذخيرة وغيرها كما في القهستاني، ومشى عليه في الغرر ومختصر الوقاية والإصلاح، ونقله في اليعقوبية عن المحيط، ومع هذا لم يرتضه الشارح فأتى بقيل لما في الهداية. قال مشايخنا لا يطيب قبل أن يضمن
(قوله واختار بعضهم إلخ) هذا من كلام الزيلعي المعزو آخر العبارة وأتى به، وإن علم مما مر لإشعار هذا التعبير بعدم اعتماده نفيه تأييد لتعبيره بقيل مخالفا لما جزم به المصنف، ولكن لا يخفى أنهما قولان مصححان
وفي الملتقى وشرحه: ولو اشترى بألف الغصب أو الوديعة جارية تعدل ألفين، فوهبها أو طعاما فأكله، أو تزوج بأحدهما امرأة أو سرية أو ثوبا حل الانتفاع، ولا يتصدق بشيء اتفاقا؛ لأن الحرمة عند اتحاد الجنس اهـ ونحوه في القهستاني ونقل ط عن الحموي عن صدر الإسلام: أن الصحيح لا يحل له الأكل ولا الوطء؛ لأن في السبب نوع خبث اهـ فليتأمل
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۱۵ذیقعدہ۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


